صوابی،خواجہ سراؤں کے کمرے میں نوجوان پر اسرار طور پر جاں بحق 

صوابی،خواجہ سراؤں کے کمرے میں نوجوان پر اسرار طور پر جاں بحق 

  

صوابی(بیورورپورٹ) خواجہ سراؤں کے کمرے میں ایک 17 سالہ خوبصورت نوجوان پراسرار طور پر جاں بحق ہو گیا۔اس پر اسرار موت نے  متوفی کے اہل خانہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جب اس سلسلے میں ایس ایچ او صوابی سٹی پولیس اسٹیشن الطاف خان سے رابطہ کیا گیا تو الطاف خان نے بتایا کہ مقتول حارث خان جس کا تعلق ڈاگئی گاؤں (تحصیل رزڑ) سے تھا خواجہ سرا احمد عرف ہنی سے گہرے تعلقات تھے اور وہ عموماً رات اس کے پاس رہتا تھا۔واقعہ ضلعی ہیڈکوارٹر میں پیش آیا پولیس نے ہنی کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے جس نے کہا کہ وہ ان کے کمرے میں آیا اور جلد ہی انہیں بتایا کہ اس کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔وہ جلد ہی اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گئے لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ تاہم اس کے والدین نے الزام لگایا کہ اسے زہر دیا گیا ہے۔ایس ایچ او الطاف نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے اس کے پیٹ سے نمونے لے کر باچا خان ہسپتال کمپلیکس شاہمنصور کو بھیج دیا لیکن اس کے جسم پر ظلم کا کوئی نشان نہیں تھا، ایس ایچ او الطاف نے مزید کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے کیس کی تمام نوعیت کا تعین ہو گا۔ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ متوفی کے والدین چاہتے تھے لیکن انہیں میڈیکل رپورٹ کا انتظار کرنے کا کہا گیا۔دریں اثناء کالو خان گاؤں کا رہائشی 25 سالہ صادق محمد جو آج بروز جمعرات دبئی جا رہا تھانامعلوم حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔بتایا گیا ہے کہ پچیس سالہ مقتول صادق محمد چھ مہینے کی چھٹی پر متحدہ عرب امارات سے اپنے گاؤں آئے تھے دو ماہ قبل اس کی شادی ہوئی تھی اور وقوعہ سے دو دن بعد واپس جانے والے تھے کہ گذشتہ شام وہ گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد کی فائرنگ کی زد میں آگئے اور شدید زخمی ہو گئے اسے کالو خان ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے مقتول کے بھائی بلا ل محمد کی رپورٹ پر کالو خان پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ایک اور واقعہ میں کالو خان گاؤں کا رہائشی 30 سالہ کان کن انور علی اس وقت کڑا مار پہاڑ میں لینڈ سلائڈنگ کے دوران جاں بحق ہوا جب وہ کام میں مصروف تھا لیکن اس کے ساتھی بچ گئے کیونکہ یہاں خطرے کا احساس ہونے پر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ بدھ کوجاں بحق لڑکے کو ملبے سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -