بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے سیکرٹری فنانس عدالت طلب

بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے سیکرٹری فنانس عدالت طلب

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ کے قیام کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے وفاقی سیکرٹری فنانس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر عدالت طلب کرلیا، کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی،فاضل بنچ نے خون کے متعدی مرض میں مبتلا محمد علی نامی بچے کی رٹ پرسماعت کی۔ عدالت میں اسپیشل سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندر شاہ، پاکستان بیت المال کے ڈپٹی لیگل ایڈوائزر سید منظور سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق 8 سالہ محمد علی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جو تھیلیسیمیا سے مماثلت تو رکھتا ہے لیکن اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں، اس کیلئے بیرون ملک جانا پڑے گا تاہم بچے کے والدین غریب ہیں اور وہ اس کا بیرون ملک کاخرچہ برداشت نہیں کرسکتے۔اسپیشل سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ بچے کے علاج کیلئے وہ گمبٹ ہسپتال سکھر سے رابطہ کر رہے ہیں بتایا گیا ہے کہ اس ہسپتال میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کیساتھ ساتھ لیور ٹرانسپلانٹ بھی کئے جاتے ہیں یہ غیرسرکاری ہسپتال ہے اور اگر اس ہسپتال میں اس بچے کا آپریشن کیا جاتا ہے تو حکومت بچے کے والدین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ اس موقع پر عدالت میں موجود پاکستان بیت المال کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وہ بچے کے علاج کیلئے 10 لاکھ روپے دینگے، عدالت کو بتایا گیاکہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی ایک بلڈنگ بنارہی ہے ہے جہاں پر لیور ٹرانسپلانٹ کیلئے یونٹ بنایا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیساتھ ساتھ بون میرو ٹرانسپلانٹ کو بھی شامل کر لیں، عدالت نے قرار دیا کہ یہ اہم پراجیکٹ ہے اور اس کیلئے رقم کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے اگلی سماعت پر وفاقی سیکرٹری فنانس کو طلب کر لیاگیا ہے۔ عدالت نے محمد علی کے علاج کیلئے اسپیشل سیکرٹری صحت ڈاکٹرفاروق جمیل کو فوکل پرسن مقرر کر دیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ گمبٹ ہسپتال سکھر سے بچے کی علاج کیلئے رابطہ کریں اور بچے کے والدین کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -