پی این ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی پورشنز کی بھی باری آگئی

پی این ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی پورشنز کی بھی باری آگئی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پی این ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی پورشنز کی بھی باری آگئی،سندھ ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کورنگی، ایس ایس پی اور دیگر اداروں کو تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے ایس بی سی اے سے ایک ماہ میں انہدام کی رپورٹ طلب کرلی۔بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں بینچ نے  پی این ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف درخواست پرسماعت کی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 600گز کے پلاٹ کو 90گز کے ٹکڑوں میں غیر قانونی طور پر تقسیم کیا گیا۔ ہرپلاٹ پر دو منزلیں تعمیر کی گئیں جبکہ جزوی طور پر تیسر منزل بھی تعمیر کی گئی۔ عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سے اے سے مکالمہ میں کہا کہ جب غیر قانونی کام ہوتے ہیں اسوقت کہاں جاکر سوجاتے ہیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اب پوری ریاستی مشنری کو انہدام کیلیے ملوث کرنا پڑیگا۔ اب عدالت آئے ہیں تو بھی فائل نہیں آپ کے پاس، کیا کرنے آئے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے نے بتایا کہ انہدام کیلیے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور یوٹیلیٹی اداروں کو خط لکھے ہیں۔ پورشنز میں رہائش کے باعث لیڈی پولیس کی بھی ضرورت ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ بلڈنگز ایک دن میں تو نہیں بن گئی ہونگی، جب خود مشورہ دیا ہوگا کہ جاؤ عدالت سے حکم امتناع لے آؤ۔ یہاں ایسے کام بھی بہت ہوتے ہیں، آوے کا آوا ہی خراب ہے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کورنگی، ایس ایس پی اور دیگر اداروں کو تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں انہدام کی رپورٹ طلب کرلی۔

مزید :

صفحہ اول -