انتظامیہ عوام کو سرکاری نرخ پر معیاری آٹا فراہم کرے: ہائیکورٹ

  انتظامیہ عوام کو سرکاری نرخ پر معیاری آٹا فراہم کرے: ہائیکورٹ

  

      پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ انتظامیہ عوام کو سرکاری نرخ پر معیاری آٹا فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو فراہم کرنے والا آٹا مضر صحت نہیں، عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مارکیٹ کا دورہ کرکے انسپکشن کرے اور اگلی پیشی پر تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کریں،کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندرحیات شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر پشاور عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر سے استفسار کیا کہ اس وقت مارکیٹ میں آٹے کی کیا قیمت ہے ہمیں رپورٹ مل رہی ہے کہ اس وقت 20 کلوآٹے کی قیمت 14سو روپے سے زیادہ ہے جس پر عدالت میں موجود اسسٹنٹ کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کیجانب سے فراہم کرنے والے آٹے کی قیمت 1100 روپے ہے اور انتظامیہ نے اس کیلئے 500 پوائنٹس مختص کئے ہیں جہاں پر عوام کو کم قیمت پر آٹا فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مختص پوائنٹس پر روزانہ 1400 تھیلے فراہم کررہی ہے پنجاب سے آنے والے آٹے کی قیمت 14 سو روپے تک ہے اور پنجاب سے آنے والے آٹے کو حکومت ریگولیٹ نہیں کرتی۔ چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر سے استفسار کیا کہ عوام کو سرکاری قیمت پر فراہم کرنے والے آٹے کی کوالٹی معیاری ہے؟ اور کس فلور مل سے خرید رہے ہیں؟ جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہ مکس آٹا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو کم قیمت پر معیاری آٹا فراہم کرے ہم نے پشاور کے مختلف فلور ملز کو کوٹہ دیا ہوا ہے جبکہ آٹے کی تقسیم کیلئے مختلف پوائنٹس بنائیں ہیں عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے مختص پوائنٹس کا دورہ کریں اور اگلی پیشی پر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

مزید :

صفحہ اول -