کریمنل ریکارڈ کے باوجود فرزند علی کیخلاف کاروائی کیوں نہیں ہوئی، حلیم عادل 

کریمنل ریکارڈ کے باوجود فرزند علی کیخلاف کاروائی کیوں نہیں ہوئی، حلیم عادل 

  

کراچی (این این آئی)قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں کہا ہے کہ فرزند علی جعفری نامی جرائم پیشہ اہلکار کس طرح پولیس میں تعینات تھا وزیراعلی سندھ اور آئی جی سندھ و ایڈیشنل آئی جی کراچی کو جواب دینا ہوگا عوام کو بتانا ہو کس طرح یہ ایک کرمنل پولیس میں رہ کر کارروائیاں کرتا رہا ایک ڈاکو کئی سالوں سے پولیس میں نوکری پر تعینات تھا کس کی سرپرستی میں یہ اہلکار کھلے عام وارداتیں کر رہا تھا کرمنل ریکارڈ ہونے کے باوجود اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کیوں نہیں ہوئی پولیس میں کتنی کالی بھیڑی موجود ہیں عوام کو بتایا جائے پولیس میں کافی اچھے افسر بھی ہیں لیکن کرمنل کو سامنے لایا جائے تاکہ امن امان کی بگڑتی صورتحال پر قابو پایا جاسکے سندھ میں امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے  2022 میں صرف ماہ جنوری میں 5 شہریوں کو دوران ڈکیتی قتل کر دیا گیا ہے جبکہ 29 کو زخمی کر دیا گیا ہے رواں ماہ 795 موبائل فون چھینے جا چکے ہیں رواں ماہ 1135 سے زائد موٹرسایکلیں 63 کاریں چوری ہوچکی ہیں سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے پولیس آرڈر 2019 کے بعد سندھ پولیس سیاسی پولیس بن چکی ہے 2019 سے قبل سندھ کے تھانوں کی بولیاں لگتی تھی بعد اب ایس ایس پی کے پوسٹنگ اور ٹرانسفر کی بولیاں لگتی ہیں سیاسی بنیادوں پر سندھ میں تقریاں کی جاتی ہیں پولیس افسران سے غیر قانونی کام لئے جاتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -