چیک پوائنٹ پر ہزارہ لڑکی کو قتل کرنے والے طالبان فائٹر کو گرفتار کرلیا گیا

چیک پوائنٹ پر ہزارہ لڑکی کو قتل کرنے والے طالبان فائٹر کو گرفتار کرلیا گیا
چیک پوائنٹ پر ہزارہ لڑکی کو قتل کرنے والے طالبان فائٹر کو گرفتار کرلیا گیا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چیک پوائنٹ پر ایک ہزارہ لڑکی کو گولی مار کر قتل کرنے والے طالبان فائٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق 25سالہ زینب عبداللہی نامی لڑکی ایک شادی میں شرکت کے بعد گھر واپس جا رہی تھی کہ راستے میں ایک چیک پوائنٹ پر تعینات طالبان فائٹر نے اسے گولی مار دی۔ یہ واقعہ 13جنوری کے روز کابل کے مضافاتی علاقے دشت برشی میں پیش آیاتھا جہاں ہزارہ کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ غلطی سے پیش آیا اور گولی مارنے والے فائٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے اپنے کیے کی سزا دی جائے گی۔افغان وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک الگ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کی طرف سے مقتولہ کے خاندان کو 6لاکھ افغانی (تقریباً10لاکھ 8ہزار پاکستانی روپے)دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔

زینب کے قتل کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طرف سے کابل میں کچھ احتجاج بھی کیا گیا۔ ایسے ہی ایک احتجاج میں ایک خاتون کارکن کا کہنا تھا کہ ”جب سے ہم نے زینب کے قتل کی خبر سنی ہے ہم سب خواتین خوفزدہ ہیں۔ ہم اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرنے لگی ہیں کہ اگر ہم باہر گئی تو شاید زندہ واپس نہ لوٹ سکیں۔ رات کے وقت تو ہم پہلے بھی باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔ اب دن کے وقت بھی گھر سے نکلتے خوف آنے لگا ہے۔ “

مزید :

بین الاقوامی -