مارکس کے خاندان نے بہت مشکل زندگی گزاری، اکثر مکان کا کرایہ ادا کرنا اور ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل ہو جاتا

مارکس کے خاندان نے بہت مشکل زندگی گزاری، اکثر مکان کا کرایہ ادا کرنا اور ...
مارکس کے خاندان نے بہت مشکل زندگی گزاری، اکثر مکان کا کرایہ ادا کرنا اور ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل ہو جاتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر: ظفر سپل
قسط:98
جنوری 1845ءکو مارکس بیلجئم آ گیا۔ فروری کے وسط میں جینی بھی اپنی پہلی بیٹی کو لے کر یہاں پہنچ گئی۔ مارکس 3 سال تک برسلز میں رہا۔ یہیں ان کے2 اور بچے ہوئے ۔دوسری بیٹی لارا (Laura Marx)اور پہلابیٹا ایڈگر(Edgar Marx)برسلز جیسے مہنگے شہر میں مارکس کے خاندان نے بہت مشکل زندگی گزاری۔ اکثر اوقات مکان کا کرایہ ادا کرنا اور ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہیں پر اسے قرض لینے کی عادت پڑی۔ جب قرض دینے والا کوئی نہ ہوتا تو احباب چندے کی رقوم اکٹھی کرکے اس کی مدد کرتے۔ اپریل 1845ءمیں اس خاندان میں ایک اور فرد کا اضافہ ہوا۔ یہ ایک اکیس بائیس سالہ خادمہ لین شین (Lenchen Demuth)کی آمد تھی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جینی کی ماں نے اس خیال کے پیش نظر کہ جینی کو گھر داری کا تجربہ نہیںہے اور نہ ہی وہ خانگی امور سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، اپنی وفادار خادمہ لین شین کو جینی کے پاس بھیج دیا۔ لین شین کا باپ ایک کسان تھا اور لین شین نے کوئی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی۔ وہ اس وقت سے اس خاندان کی خدمت کرتی آ رہی تھی، جب اس کی عمر 11 بارہ برس تھی۔ پھر وہ مارکس خاندان کا حصہ بنی اور اس طرح ان کی خدمت کی کہ اس کی مثال خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ جینی تو خیر گھر کی مالکہ تھی، مگر لین شین اس گھر کی خادمہ بھی تھی اور ڈکٹیٹر بھی۔ اس نے گھر کے سارے معاملات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ بچے ماں سے زیادہ اس سے مانوس تھے۔ جینی خادمہ سے زیادہ اسے اپنا دوست سمجھتی اور مارکس نے بھی اس کے ساتھ مخصوص رشتے قائم کر لئے تھے۔ یہاں آنے کے بعد وہ پھر یہیں کی ہو رہی۔ مارکس کی بیوی اور مارکس کی وفات کے بعدوہ اینگلز خاندان کے پاس چلی گئی۔ اینگلز کے ساتھ بھی اس کا وہی محبت بھرا سلوک رہا جو مارکس کے ساتھ تھا۔ اس کا انتقال چھیاسٹھ برس کی عمر میں انتڑیوں کے سرطان کی سبب ہوا۔ اسے مارکس اور جینی کی قبروں کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔
مارکس کی برسلز میں آمد کے بعد اینگلز بھی اس سے یہیں آن ملا اور دونوں نے ایک نئے تشکیل شدہ سیاسی گروپ ”کیمونسٹ لیگ“ میں شمولیت اختیار کر لی۔ دونوں کی صحافتی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ لیگ کے منشور کی تیاری میں مدد دیں ۔اور یہی وستاویز مشہور زمانہ ”مینی فسٹو“(Communist Manifesto)کی ابتدا ءتھی۔ ”کیمونسٹ لیگ“ کوئی سیاسی پارٹی نہیں تھی، بلکہ ان بے شمار سیاسی گروپوں میں سے ایک گروپ تھا، جو اپنے آپ کو ”کیمونسٹ“ کہلواتے تھے۔ اسی طرح اس وقت اس ”منشور“ کی تدوین کا مقصد بھی ”کیمونسٹ پالیسی“ترتیب دینا نہیں تھا، بلکہ یہ بتانا مقصود تھا کہ اس گروپ کا منشور کیا ہے۔ خیر، اس بہانے ”کیمونسٹ مینی فیسٹو“ بن گیا ۔ 40صفحات پر مشتمل ایک ایسا ماسٹر پیس جو پرنٹنگ کی تاریخ میں عالمی بیسٹ سیلر کی صورت دنیا کے سامنے آیا۔
اس ماسٹر پیس کا آغازہی ایک نادر پیش گوئی سے ہوتا ہے ”یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے۔کیمونزم کا بھوت“ آغازہی میںکیمونزم کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”یہ پرولتاریوںکی آزادی کی ڈاکٹرائن ہے۔ اور پرولتاریہ سوسائٹی کا وہ طبقہ ہے، جو محض اپنی محنت کو بیج کر اپنی گزر بسر کا انتظام کرتا ہے“ پھر ایک تاریخی اعلان ہوتا ہے ”آج تک انسانیت کی جتنی بھی تاریخ لکھی گئی ہے وہ دراصل طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے“ پھر نجی ملکیت کو تمام طبقاتی ناہمواریوں کا سبب بتایا گیا ہے۔ آخر میں انسانیت کو عظیم پرولتاری انقلاب کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ جس کی آمد پر انسانیت پر گویا بہشت کے دروازے کھل جائیں گے۔ مینی فیسٹو کا اختتام ان شاندار الفاظ پر ہوتا ہے:
”تمام حکمران طبقات کیمونسٹ انقلاب کے خطرے کے پیش نظر لرزہ براندام ہیں۔ پرولتاریو! تمہارے پاس کھونے کو کچھ نہیںسوائے زنجیروں کے اور جیتنے کے لئے سارا جہان سامنے ہے۔۔۔ دنیا بھر کے مزدورو! متحد ہو جاؤ“۔(جاری ہے )
نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -