اُجین ایک ترقی یافتہ شہر کی حیثیت سے تہذیب گنگا کی ابتدائی شاخ تھا

اُجین ایک ترقی یافتہ شہر کی حیثیت سے تہذیب گنگا کی ابتدائی شاخ تھا
اُجین ایک ترقی یافتہ شہر کی حیثیت سے تہذیب گنگا کی ابتدائی شاخ تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر
ترجمہ:زبیر رضوی
قسط:49
شمال مشرق کے مقابلے میں وسطی ہند میں شہروں کا ارتقا ءزیادہ آزادی کے ساتھ ہوا‘ اگرچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گنگا کے میدان کی نسبت دیر سے شروع ہوا۔ مالوہ میں‘ نربدا کے ساتھ ساتھ اور وسطی خطے کے دوسرے حصوں میں قریب 3000 اور 600 قبل مسیح کے بیچ کام کاج میں مصروف دیہی سماجوں کے بارے میں اوپر کچھ کہا جا چکا ہے۔ یہ سماج پتھر اور دھات دونوں کے اوزاروں کا استعمال کرتے تھے۔ بیشتر چھوٹے پتھر کی تکنیک کارواج تھا‘ ساتھ میں تھوڑا سا تانبا بھی کام میں لایا جاتا تھا جو بہت کمیاب تھا جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے۔ یہ بات لگاتار واضح ہوتی جاتی ہے کہ ان تمدنوں کے نمایاں طور پر مقامی اور اکثر زندگی کے جوش سے بھرپور عناصر کی تہہ میں شمال مغرب کے پتھر اور دھات دونوں کا استعمال کرنے والے تمدنوں کے ساتھ ایک حد تک یگانگت موجود ہے۔ چقماق یا سنگ یمانی کے اوزاروں کے پھلوں یا تانبے کے چپٹے کلہاڑوں (تصویریں) کی طرح مٹی کے برتنوں میں بھی اس تعلق کی ایک رَو ہے جو مغربی ساحل پر نیچے کی طرف دھیرے دھیرے اور رک رک کر چلی ہے۔ ہاں‘ مقامی تبدیلیاں اور تجربے بھی ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور تب 500 قبل مسیح سے تھوڑا پہلے یا بعد جمنا گنگا دوآب کی ترقی یافتہ شہری تہذیب بھی وہاں پہنچ گئی۔
ایک اہم مقام اُجین ہے جہاں حال ہی میں کھدائی ہوئی ہے۔ اُجین ہند کا ایک متبرک شہر اور ادفتی (موجودہ مالوہ) کی قدیم سلطنت کی راجدھانی تھا۔ یہ مقام چمبل کی ایک معاون ندی کشپرا کے کنارے واقع ہے۔ خود چمبل جمنا کا ایک معاون دریا ہے۔ اُجین دوآب سے بحرئہ عرب تک کی شاہراہ پر ایک اہم مرکز تھا اور ایک ترقی یافتہ شہر کی حیثیت سے تہذیب گنگا کی ایک ابتدائی شاخ تھا۔ یہ شہر لگ بھگ مخمبس پلان پر بنا ہے جس کے بڑے محور قریب ایک میل لمبے تھے۔
مٹی کی بہت بڑی فصیل بنیادی حصے میں 250 فٹ چوڑی ہے اور 40 فٹ سے زیادہ اونچی ہے۔ ندی کے ساتھ جہاں پانی کا پورا زور پڑتا تھا اس فصیل میں ترچھے شہتیر پیوست ہیں جو بہاﺅ کی شدت کو توڑتے تھے۔ تعمیر کے بعد کے زمانے میں مٹی اور پختہ اینٹوں دونوں کی مدد سے اس فصیل کی مرمت کی گئی تھی۔ فصیل کے باہر‘ سوائے اس حصے کے جہاں ندی بہتی ہے‘ ایک بڑی خندق تھی۔ شروع میں یہ اوپر سے 150 فٹ چوڑی تھی اور اس کی گہرائی 20 فٹ تھی۔ فصیل سے جو اشیاءبرآمد ہوئی ہیں ان میں رنگ کیے ہوئے سلیٹی مٹی کے برتنوں کے 2 ٹکڑے بھی ہیں۔ جنوب کی سمت میں یہ آخری مقام ہے جہاں پر ایسے ٹکڑے ملے ہیں۔ ان کے علاوہ متعلقہ تہوں میں سے سب سے نیچی تہہ میں لوہا ملا ہے۔ حفاظتی قلعہ بندی کے اندر پتھر اور پختہ اینٹوں کی عمارتیں تھیں‘ اور چکروں والے کنویں یا گندا پانی سکھانے کے گڑھے تھے۔ یہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس طرح کے گڑھے یا کنویں قبل مسیح پہلے ہزار سالہ قرن کے دوسرے نصف حصے سے ہندوستانی شہروں کی خصوصیت بن چکے تھے۔ ایک دروازے کے اندر سڑک پر روڑی کوٹ کر اسے پختہ بنایا گیا تھا اور بعد میں اس پر کئی بار روڑی کوٹی گئی تھی۔ اس سڑک پر چھکڑوں کے چلنے کے نشان ہیں جو متواتر 5 فٹ 9 انچ چوڑے ہیں۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -