پیکیج کا خاتمہ کاروباری برادری کے لیے اچھی خبر نہیں ہے، صدر کاشف انور

  پیکیج کا خاتمہ کاروباری برادری کے لیے اچھی خبر نہیں ہے، صدر کاشف انور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(سٹی رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے صنعتی صارفین کے لیے وزیراعظم ریلیف پیکج واپس لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ معیشت کے وسیع تر مفاد میں یہ سہولت بحال کی جائے۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور، سینئر نائب صدر ظفر محمود چوہدری اور نائب صدر عدنان خالد بٹ نے کہا کہ پیکیج کا خاتمہ کاروباری برادری کے لیے اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت کئی گنا بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کہ صنعت کو کم قیمت توانائی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ صنعتی شعبے کا بنیادی خام مال ہے اور اس کی قیمتیں پہلے ہی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ریلیف پیکج صنعتی کی واپسی سے تاجر برادری کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صنعت کے لیے پی ایم ریلیف پیکج جاری رکھے۔انہوں نے لیسکو حکام سے مسلسل اوور بلنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کو اوور بلنگ کی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں اور تاجر برادری کافی پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پہلے ہی حکام کی توجہ پاور سیکٹر کی ناکامیوں کی طرف مبذول کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن لاسز اور بجلی کی چوری پر قابو پانے کے علاوہ حکومت کو تیل پر مبنی پاور پلانٹس کو متبادل ایندھن میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی بنانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد وافر تیل پیدا نہ کرنے والا ملک بن گیا ہے جہاں زیادہ تر بجلی تیل سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ذریعے پیدا کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے توانائی کی قیمت بلند ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ بجلی کی اوور بلنگ اور زیادہ قیمتیں بجلی چوری کے واقعات میں اضافہ کررہی ہیں۔

  ان کا کہنا تھا کہ صنعت بجلی کی اتنی زیادہ قیمت پر مسابقتی کیسے رہے گی جو بنیادی صنعتی خام مال میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے ملک پہلے ہی چین، بنگلہ دیش اور بھارت سے متعدد بین الاقوامی منڈیوں سے محروم ہو چکا ہے اور پی ایم ریلیف پیکیج واپس لینے کا فیصلہ پاکستانی مصنوعات کو مزید غیر مسابقتی بنا دے گا۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے بھی حکومت پر زور دیا کہ وہ توانائی کی قیمتوں پر ٹیکسوں کی تعداد کو کم کرے۔

مزید :

کامرس -