آیئے مسکرائیں 

  آیئے مسکرائیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

٭”میری تو سمجھ میں نہیں آتا بہن! کہ تم روپے پیسے والے لڑکے کے انتظار میں کب تک اپنی لڑکی کو گھر میں بٹھا رکھو گی۔“ ایک پڑوسن نے دوسری سے کہا۔”میں روپے پیسے کی لالچی نہیں ہوں دوسری پڑوسن بولی۔میں توکہتی ہوں کہ روپیہ پیسہ چاہے ہو یا نہ ہو لیکن زمین جائیداد اور جواہرت ضرور ہوں۔ بس یہی کافی ہے میری بیٹی کے لئے۔“ 

٭شکور: تاریخ میرا پسندیدہ مضمون ہے۔ منظور: ”اچھا پھر اکبر بادشاہ کی فتوحات پر روشنی ڈالو۔“ شکور: ضرور ڈالتا مگر آج ٹارچ میں سیل نہیں ہیں۔

٭استاد: (شاگرد سے) بتاﺅ سورج سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے۔ شاگرد جناب دو مہینوں کی چھٹیاں۔“

٭ایک گھوڑا جب چلتے چلتے رک جاتا تو کوچوان اتر کر اس کے سامنے گانا گاتا۔ گانا سن کر گھوڑا پھر چلنے لگتا۔ آخر تنگ آکر تا نگے میں بیٹھی ہوئی سواری نے کو چوان سے پوچھا۔ ”بھئی یہ کیا قصہ ہے۔ تمہارا گھوڑا گانا سن کر کیوں چلتا ہے؟“ کوچوان بولا۔ ”بابو جی! یہ دراصل باراتی گھوڑا ہے۔“

 ٭ایک شخص نے چوری کی۔ سزاکا فیصلہ سنتے ہی فریاد کی۔ دہائی ہے سرکار یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ چوری تو میرا دایاں ہاتھ کرے۔ جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے اور قید میں مجھے پورے کے پورے کوڈالا جائے جج نے کہا۔بہتر ہے تمہارا دایاں ہاتھ جیل میں رہے گا۔ تم اگر چاہو تو اسے وہاں چھوڑ سکتے ہو۔ یہ سنتے ہی مجرم نے اپنا لکڑی کا ہاتھ الگ کر کے جج کی میز پر رکھا اور چلا گیا۔

 ٭پہلا دوست:میرے خاندان کے کسی آدمی نے کبھی کسی کی نوکری نہیں کی۔ دوسرا دوست(حیرت سے) تو پھر وہ کیا کرتے تھے؟پہلا دوست: بھیک مانگا کرتے تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -