عمران ؔخان، بشریٰ بی بی پر فرد جرم جمعہ کو بھی عائد نہ ہو سکی 

          عمران ؔخان، بشریٰ بی بی پر فرد جرم جمعہ کو بھی عائد نہ ہو سکی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) احتساب عدالت اسلام آباد میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عمران خان اوران کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جمعہ کو بھی عائد نہ ہوسکی۔  اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے  بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر سماعت کی، ملزمان کی جانب سے لطیف کھوسہ، شہباز کھوسہ، عثمان گل، سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔نیب کی جانب سے امجد پرویز، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، عرفان بھولا پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں وکلاء تبدیلی کی درخواست دائر کی گئی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نئی وکلاء  ٹیم میں بیرسٹر علی ظفر، سکندر ذوالقرنین اور عثمان گل شامل ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں بیان دیا کہ فرد جرم میں لکھی قانونی اصطلاحات وکیل ہی سمجھا سکتے ہیں، وکیل کی غیر موجودگی میں چارج قبول ہی نہیں کرتا۔بانی پی ٹی آئی کے نئے وکیل علی ظفر کی عدم موجودگی کے باعث فرد جرم عائد نہ ہوسکی، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فرد جرم کی کارروائی 24 جنوری تک مؤخر کردی۔دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدت میں نکاح کیس میں ٹرائل کورٹ کو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کے خلاف درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہو ئے۔سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ساری ڈسٹرکٹ جوڈیشری اڈیالہ جیل میں موجود ہے، آج انہوں نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں، اس پر عدالت نے سوال کیا کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ کرانے سے روک دیتے ہیں کیس بتائیں ہے کیا؟۔عدالت نے سوال کیا کہ عمومی طور پر عدت کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کے بیان کو بھی مان لیا جائے تو طلاق کے 48 دنوں کے بعد نکاح ہوا، عمومی طور پر 90 روز کا دورانیہ ہوتا ہے لیکن تقی عثمانی صاحب نے اس میں وضاحت کی ہے، عدت کی مدت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فرض کریں اس متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود نہ ہو، آپ نے اس درخواست میں کیا چیلنج کیا ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جاری سمن چیلنج کیے ہیں۔عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق نکاح اگر عدت میں ہوا تو وہ بعد میں ریگولرائز ہوجاتا ہے، اگر نکاح باقاعدہ بھی نہیں ہوتا تو اس میں جرم کیا ہے؟۔بعد ازاں عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں ٹرائل کورٹ کو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے سے روک دیا۔

فرد جرم

مزید :

صفحہ اول -