پاک ایران سفارتی تعلقات بحال، ایران کی خواہش پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کا فیصلہ، وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کر دی 

          پاک ایران سفارتی تعلقات بحال، ایران کی خواہش پر دونوں ممالک کے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                          اسلام آبا د(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایران کی جانب سے تناؤ ختم کرنے کی خواہش کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد نگران وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔پاکستان نے ایران کے ساتھ تنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور کابینہ نے ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی منظوری دی۔ نگران وزیر خارجہ نے کابینہ اجلاس کو بریفنگ دی اور کہاکہ ایران حالیہ تنا ختم کرنا چاہتا ہے۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے کشیدگی نہیں چاہتا، ہم نہیں چاہتے کہ ایران سے تعلقات خراب ہوں، ایران نے غلط اقدام کیا جس کا جواب دیا۔قبل ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ایران کشیدگی پر غور کیا گیا۔ نگران وزیر خارجہ نے سفارتی محاذ پر ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دی جبکہ وزارت دفاع کے حکام نے شرکا کو بریف کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے سے زائد جاری رہا اور پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا۔ بعد ازاں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی، نیوی اور ایئر چیف شریک ہوئے، اجلاس میں پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال اور غیر قانونی خلاف ورزی کے خلاف افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ اور متناسب ردعمل کو سراہا گیا، اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا کو خطے میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، فورم نے آپریشن مارگ بر سرمچار   کا بھی جائزہ لیا، آپریشن ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر مقیم پاکستانی نڑاد بلوچ دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے انجام دیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں قومی خودمختاری کی مزید خلاف ورزی کا جامع جواب دینے کے لیے ضروری مکمل تیاریوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدم ہے، کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے پامال کرنے کی کوشش کا ریاست کی پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا، پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔فورم نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران ایک ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہے، اجلاس دونوں ممالک کے درمیان موجودہ متعدد مواصلاتی چینلز کو علاقائی امن و استحکام کے وسیع تر مفاد میں استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا، ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے باہمی طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس نے یو این چارٹر اور عالمی اصولوں کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کو متاثر کیا، کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ دہشت گردی کی لعنت سے اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔فورم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے اصول پر دونوں ممالک باہمی طور پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے چھوٹی موٹی رکاوٹوں پر قابو پا سکیں گے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اپنے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کریں گے، اجلاس میں نگران وزراء_  برائے دفاع، خارجہ امور، خزانہ اور اطلاعات بھی شریک ہوئے، اجلاس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ دوسری طرف نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے  وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قانون کی پاسداری کرنے والا اور امن پسند ملک ہے اور تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان اور ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کریں، جیسے 16جنوری سے پہلے تھے، پاکستان ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزارت خارجہ نے نگران وفاقی کابینہ کو 16جنوری 2024کو پاکستان پر ایرانی حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حملے کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے افواج پاکستان کی اعلیٰ پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف کی جس نے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا جواب دیا اور اس سلسلے میں پوری حکومتی مشینری نے متحد ہو کر کام کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر ممالک ہیں اور ان کے درمیان تاریخی طور پر برادرانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات ہیں جن میں احترام اور محبت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ تعلقات کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں جو 16جنوری 2024سے پہلے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔قبل ازیں پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے حالیہ تنا ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ترجمان وزارت خارجہ نے بھی پاک ایران وزرائے خارجہ کے رابطے کی تصدیق کر دی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نگران وزیرخارجہ جلیل عباس نے ایران کے ساتھ تمام امور پر کام کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے جبکہ سکیورٹی امور پر قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ نگران وزیرخارجہ جلیل عباس نے کہا کہ ایران کے ساتھ باہمی اعتماد اور تعاون کے جذبے کی بنیاد پر کام کرنے کو تیار ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اعلی سطح پر تعلقات کی بحالی پر بات کی ہے جبکہ پاکستانی وزیرخارجہ نے ایرانی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ہے۔ نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی قومی سلامی کمیٹی کو ایرانی ہم منصب سے بات چیت سے آگاہ کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت پیغامات کے تبادلے کی بھی تصدیق کی تھی۔پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ رحیم حیات قریشی نے ایرانی ہم منصب سید رسول موسوی کو جواب دیا کہ آپ کے جذبات کا جواب دیتا ہوں پیارے بھائی رسول موسوی۔ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے ایرانی سفارتکار سے کہا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات ہیں، مثبت بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، دہشتگردی سمیت ہمارے مشترکہ چیلنجز کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ایرانی سفارتکار نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنما اور اعلی حکام جانتے ہیں حالیہ تنا کا فائدہ دشمنوں اور دہشتگردوں کو ہوگا، آج مسلم دنیا کا اہم مسئلہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم بند کرنا ہے۔دریں اثنااقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے،میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو، دونوں ممالک خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے مطابق مسائل حل کریں،انتونیو گوتریس کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کے تمام خدشات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،دوسری جانب یورپی یونین نے بھی پاکستان ایران کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان یورپی یونین نے کہا کہ مشرق وسطی اور اس سے باہر بڑھتے پرتشدد واقعات پر گہری تشویش ہے،ترجمان کے مطابق پاکستان، عراق اور ایران میں ہوئے حملے یورپی یونین کیلئے باعث تشویش ہیں، حملوں سے ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے، حملوں سے خطے میں عدم استحکام کے اثرات پیدا ہوئے ہیں۔

قومی سلامتی کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -