غزہ: 85فیصد لوگ بے گھر، ہیپاٹائٹس اور یرقان کی بیماریاں پھیلنے کا انکشاف

        غزہ: 85فیصد لوگ بے گھر، ہیپاٹائٹس اور یرقان کی بیماریاں پھیلنے کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                            جینوا (مانیٹر نگ ڈیسک) غزہ میں بے گھر فلسطینیوں میں ہیپاٹائٹس اے اور یرقان کی بیماری پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے کہا کہ غزہ میں صورتحال انتہائی خراب ہے، شہر میں جہاں صاف پانی نہ ہونے کے برابر ہے، بیت الخلا اور پورا شہر گندگی کی لپیٹ میں ہے، ایسی صورتحال میں ہیپاٹائٹس اے تیزی سے پھیل سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کا ماحول بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یرقان کے پھیلاؤ کی وجوہات متاثرہ علاقوں میں انسانوں کی کثرت اور حفظانِ صحت کی غیر صحت مندانہ صورتحال ہیں۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ کی 2.4 ملین آبادی کے تقریباً 85 فیصد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث 80 فیصد آبادی پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں پانی، خوراک اور ادویات کی قلت کا الگ سامنا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی خبردار کیا ہے کہ پناہ گزین کیمپوں میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہیپاٹائٹس اے اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا مریض ہیں لیکن علاج سے محروم ہیں۔عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ پناہ گزین کیمپوں میں مہلک بیماریوں میں مبتلا درجنوں افراد بے یار و مددگار زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث نقل مکانی کرنے والوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں جبکہ غزہ پٹی کے اسپتالوں میں کینسر کے 10 ہزار مریضوں کی جانوں کو خطرات لاحق  ہے۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 4 لاکھ شہری وبائی امراض کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ غزہ پٹی میں طبی امداد نہ ملنے سے 60 ہزار حاملہ خواتین کی جانوں کو خطرہ ہے اور جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں 30 اسپتالوں اور 53 طبی مراکز کو تباہ کر دیا ہے،اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے 334 افراد شہید،122 ایمبولینسیں تباہ ہوگئیں، غزہ پٹی پر حملوں کی وجہ سے 20 لاکھ شہری کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔علاوہ ازیں امریکا میں سعودی عرب کی سفیر ریما بنت بندر نے کہا ہے کہ اسرائیل پہلے غزہ میں مکمل جنگ بندی کرے اس کے بعد ہی تعلقات کی بحالی پر کوئی بات چیت ہوسکتی ہے۔مزید بر آں اسرائیل نے غزہ میں مبینہ طور پر ایک یونیورسٹی کو نشانہ بنایا اور بمباری سے ایک کیمپس مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ڈیوڈ ملر نے ناکافی معلومات کی بنا پر اس ویڈیو پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم انھوں نے کہا کہ اسرائیل سے اس ویڈیو کی وضاحت مانگی ہے۔جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد غزہ سمیت دریائے اردن تک کا علاقہ ہمارے کنٹرول میں ہوگا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔

غزہ

مزید :

صفحہ اول -