دیارِ غیر میں ایک اپنا  

       دیارِ غیر میں ایک اپنا  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  میں نے سینکڑوں کتابیں مختلف موضوعات پر پڑھنے کی جسارت حاصل کر رکھی ہے،کچھ یاد ہیں اور اکثر بھول چکا ہوں لیکن اُن میں جو درس سبق نصیحت دلجوئی بیان تھی وہ آج بھی ذہن میں نقش ہے، آج جس کتاب کو زیرِ قلم لانے کی کوشش کر رہا ہوں وہ میرے بہت ہی پیارے دوست مہربان چوہدری مسعود لِلہ کی ”آوازِ مسعود لِلہ“ ہے۔ اِس کا ایک باب پڑھنے کے بعد پیاس اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ اگلا باب بھی فوری پڑھنا پڑتا ہے، زندگی مسلسل مختلف حوادث،تجربات، مشاہدات، ہجروصال، ہونی انہونی واقعات سفر در سفر وطن کے اندر یا دیارِ غیر میں اپنے پرایوں ہر طبقے کے افراد سول، بیورو کریسی، سیاست دانوں، اسٹیبلشمنٹ ودیگر اداروں کے متعلق عام پڑھنے والے قاری کے لئے مسعود لِلہ نے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ مسعود لِلہ نے یہ کتاب اپنے والد محترم چوہدری محمد اسلم لِلہ اور والدہ محترمہ فاطمہ بیگم کے نام مغفرت کی دعاؤں کے ساتھ کی ہے۔ کسی نے چرچل سے پوچھا تھا کہ تاریخ انہیں کس انداز میں یاد کرے گی؟چرچل نے جواب دیا: ”چونکہ میں خود اپنی تاریخ رقم کروں گا اِس لئے مجھے یقین ہے کہ تاریخ مجھے میری مرضی کے مطابق ہی یاد رکھے گی۔ اِسی طرح ابرہم لنکن نے کہا تھا زندگی کے حوالے سے اپنے تجربات مشاہدات اور خیالات شیئر کرتے رہا کریں، ہو سکتا ہے آپ کا آئیڈیا کسی انسان کی روح میں جان ڈال دے۔

مسعودلِلہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں محنت سے کام لیا۔ اُنہوں نے اپنے خود نوشت میں اپنے دل کی باتیں بے نقاب کی ہیں، اُن کا انداز بیان سہل ہے کہ قاری اُن کی لفظوں کی دنیا میں کھو جاتا ہے،ہر قصہ پہلے سے زیادہ دلچسپ ہے۔لِلہ صاحب نے واقعی دونوں صدیوں (بیسوں اور اکیسویں)کو  قریب سے دیکھا ہے جس کی جھلک ان کی کتاب میں واضح دکھائی دے رہی ہے، انہوں نے دیہاتی اور شہری زندگی کو خوبصورتی اور مزاح کے ساتھ ساتھ لفظوں سے سجا کر پیش کیا ہے۔ زندگی کے چکر میں موصوف نے مختلف مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ زندگی کا ہر موڑ ایک سبق  ہے اور مشکلات کا سامنا کرناانسان کو مضبوط بناتا ہے، پھر وہ چاہے جسمانی سرطان کا مرض ہی کیوں نہ ہو۔

محنت ایمانداری اور ہمت سفر ہر آدمی کو اپنی منزل تک پہنچاتا ہے،منزل کتنی ہی دور ہو راستہ کتنا ہی دشوار ہو،اگر ارادہ کر لے اور اُس کے لئے محنت کرے تو وہ اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔اُن کی خود نوشت ہر قاری کو اُن کی زندگی کے تجربات سے متعلق سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ موصوف کی ایک ادبی میراث ہے۔انہوں نے واضح کیا ہے طالب علموں کے لئے نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں، کمیونی کیشن سکلز،لیڈر شپ اور ٹیم ورک جیسی خصوصیات اِن سرگرمیوں ہی سے پیدا ہوتی ہیں۔اُن کا آپ کے والدین سے رشتہ قابل رشک ہے۔دنیا میں ماں باپ جیسی کوئی اور نعمت نہیں۔ماں کے قدموں میں جنت ہے اور بات اِس جنت کا دروازہ ہے،اِس سے زیادہ انسان کو کیا چاہیے؟اللہ پاک ہر کسی کو اُن جیسی اولاد عطاء کرے۔

پنجاب،پاکستان کا دل اور روح ہے جس کی ثقافت اپنی مٹھاس اور ہمدردی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لِلہ نے اپنی تحریروں کو لفظوں کے ذریعے پرو کر ایک خوبصورت ہار بنایا ہے۔زندگی کے خوبصورت اور دلکش پہلو یعنی دوستی کو جس طرح اُنہوں نے مختلف رنگوں میں پیش کیاہے یہ اُن ہی کا فن ہے اور قابلِ تحسین ہے۔

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے

رشتہئ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

اچھے دوست خدا کی نعمت ہوتے ہیں جو آپ کی ہر خوشی کو دوبالاکرتے ہیں اور جب غم کی باری آئے تو اُسے بانٹ لیتے ہیں۔موصوف نے اپنے واقعات کو بیان کرکے دوستی کے حقیقی معنوں کی وضاحت کی ہے۔

خاندانی رشتوں میں بھی بھائی کا بھائی کے ساتھ رشتہ باقی رشتوں کے ساتھ ساتھ مضبوط،پیار بھرا اور پراعتماد ہونا چاہیے،لِلہ کا اپنے بھائیوں کے ساتھ یہ تعلق بہت انمول اور لاجواب ہے، اللہ پاک اُن کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے۔

وزیر اور فوجی افسروں کو سراہا ہے،کسی بھی شعبے میں جب ایسے لوگ موجود ہوں تو اُن کا رنگ واضح دکھائی دیتا ہے وہیں انہوں نے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا ہے جہاں چند لوگ ایسی کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جو معاشرتی کالک کا موجب بنتے ہیں، وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں، ماں باپ کی تمیز بھول جاتے ہیں، بھائی بہن کا فرق بھول جاتے ہیں، ایسے لوگ کیا بہتری لاسکتے ہیں؟

طب کا شعبہ بھی اِس سے مستثنیٰ نہیں،اِس میں ایسے حضرات بھی ہیں جو ہمیشہ خدا کے بندوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور جان تک کی بازی لگا دیتے ہیں۔میں کئی ڈاکٹروں کو خود بھی جانتا ہوں جو دولت سے زیادہ انسانیت کی قدر کرتے ہیں۔اِس جگہ ضلع چنیوٹ کے پہلے ایم بی بی ایس ڈاکٹر محمد یاسین مرحوم کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ زیادتی کے مترادف ہوگا، اِس شخص نے تمام زندگی لاکھوں مریضوں کا مفت علاج کیا، ساری زندگی ٹی بی جیسے مہلک ترین مرض کے خلاف حالت جنگ میں رہے اور محسن انسانیت کے لفظ سے آج بھی جانے جاتے ہیں، ڈاکٹری کو خدا کی دین سمجھ کر خدا کے بندوں کی خدمت کرتے رہے۔

لِلہ جہاں اِن ڈاکٹروں کی تعریف کے گلدستے سجائے ہیں وہاں اُنہیں خوب نشانہ بھی بنایا ہے جو دنیا کی ریل پیل میں اِس قدر پھنس گئے ہیں کہ وہ آخرت بھول گئے ہیں،بھول گئے ہیں کہ انسانیت کی بھی کوئی قیمت ہے، وہ اللہ عزوجل کے روبرو ہونا بھول چکے ہیں کہ اُن کا شعبہ خدا کی دین ہے۔

حضور سرورکائنات ؐ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے وہ اُسے اپنے ہاتھ سے بدل (روک)دے۔اگر وہ اِس کی طاقت نہیں رکھتا،تو پھر اپنی زبان سے بدل دے۔اگر وہ یہ طاقت بھی نہیں رکھتا تو پھر اسے اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کم تر درجہ ہے“۔

میرے خیال میں لِلہ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ؐ کے اِس فرمان مبارک پر پورا اُترنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، اللہ پاک اُن کو اِس کی جزا دے۔اللہ پاک اُن کا حامی وناصر ہو۔یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ چوہدری مسعود لِلہ کو فرخ سہیل گوئندی نے سفیر حق گوئی،سردار عتیق خان کشمیری نے قلم کا سکندر اور معروف شاعر ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد نے سیلف میڈ انسان کے نام سے یاد کیا۔سب سے بڑھ کر معجزہ یہ ہے کہ میرا چوہدری مسعود لِلہ سے ایک عرصے سے تعلق ہے لیکن ہماری ملاقات آج تک نہیں ہو سکی،لِلہ صاحب نے طنزو مزاج کے ساتھ زندگی کا ایک خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔ بقول شاعر

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہی

آخر میں لِلہ کی اِس خود نوشت کا مقصد ساحر لدھیانوی کے ایک شعر کی شکل میں کچھ یوں ہو گا

دنیا نے تجربات وحوادث کی شکل میں 

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں 

لِلہ اللہ پاک آپ کو صحت دے اور آپ کے قلم کو مزید تقویت عطاء کرے۔آمین!

مزید :

رائے -کالم -