مرگ بر۔۔۔دشمنانِ پاکستان 

         مرگ بر۔۔۔دشمنانِ پاکستان 
          مرگ بر۔۔۔دشمنانِ پاکستان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستانی علاقے میں ایرانی کارروائی سے مجھے ملک کے مشہور کامیڈین ناصر چنیوٹی کا یہ شہرہ آفاق جملہ یاد آگیا کہ ”اَنی دیو، اے مذاق اے“؟پنجابی کے پانچ الفاظ پر مشتمل یہ جملہ اپنے اندر پانچ جلدوں پر مشتمل کتاب جتنے معنی رکھتا ہے، حالانکہ مجھے اس بات کا پوری طرح یقین نہیں کہ اردو زبان کے مؤقر قومی روزنامہ میں پنجابی کا یہ ”ضرب المثل“ جملہ شائع بھی ہو گا یا پھر اسے حذف کر دیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود میرے جذبات کے اظہار کے لئے مجھے اس سے بہتر جملہ دستیاب نہیں جو اپنے اندر اِس قدر معنویت رکھتا ہو۔ظاہر ہے بھارت دشمنی تو گراس روٹ لیول سے ہی ہمارے اندر سمو دی جاتی ہے اور جب تک کسی عام پاکستانی کا شعور پُختہ ہوتا ہے تب تک اسے مکمل طور پریقین ہو جاتا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت ہمارا ازلی دُشمن ہے،لہٰذا بھارت کی جانب سے اس قسم کی سرحد پار کارروائیوں کو ہم زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے، بلکہ ایسی کارروائیوں سے پاک فوج کی ہلکی پھلکی دِل پشوری ہوجاتی ہے اور جوانوں کو لہو گرم رکھنے کا بہانہ بھی مل جاتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے ہم اس قسم کی کارروائی کے ”عادی“ نہیں ہیں۔

ابتدائی طور پر 17 جنوری کو یہ خبر سامنے آئی کہ ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے ایک سرحدی گاؤں ”سبزکوہ“ میں رہائشی علاقے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ پنجگور شہر سے اندازاً 90 کلو میٹر دور اور ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ایران کی جانب سے شروع میں کوئی باضابطہ سرکاری ردعمل نہیں دیا گیا تاہم وہاں کی نیم سرکاری اور پاسداران انقلاب سے وابستہ نیوز ایجنسی ”تسنیم نیوز“ کے مطابق پاکستان میں جیش العدل نامی عسکریت پسند گروہ کے دو اہم ٹھکانوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔خبر رساں ادارے کے مطابق اس آپریشن کا مرکزی ہدف پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کوہ سبز کا علاقہ تھا جو پاکستان میں جیش العدل کے عسکریت پسندوں کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ 

 پاکستانی دفتر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ”غیر قانونی“ کارروائی کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔ابتدائی بیان میں ایران کے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی خود مختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر نا قابل ِ قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ یہ غیر قانونی عمل پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز موجود ہونے کے باوجود ہوا ہے، لہٰذا اب اس غیر قانونی اقدام کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔ 

پاکستان کی اس وارننگ کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ”آپریشن مرگ برسرمچار“ کے ذریعے ایران کو بھرپور جواب دے دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پاکستان کی جانب سے ایران کے علاقے سیستان میں کئے جانے والے حملے پر وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں ان دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں کی ہیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے۔ پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائیاں کی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پناہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا اور اس آپریشن کا نام مرگ بر سرمچار رکھا گیا تھا۔ نشانہ بنائے گئے ٹھکانے بد نام زمانہ دہشت گرد استعمال کر رہے تھے جن میں دوستہ عرف چیئرمین، بجز عرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغر عرف بشام اور وزیر عرف وزی سیت بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ صورتحال پر ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ آپریشن مرگ بر سرمچار میں دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے جو ایران کی حکومتی عملداری سے محروم علاقوں میں مقیم تھے۔ دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد والے ڈوزیئر بھی ایران کے ساتھ شیئر کئے گئے، مزید برآں یہ انتہائی پیچیدہ کامیاب آپریشن پاکستانی افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ظاہر ہے پاک فوج ہی پاکستان کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کی ضامن ہے اور جوان اسے معمول کی کارروائی کے طور پر لیں گے، یہی وجہ ہے کہ چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس کا بھرپور جواب دے بھی دیا گیا۔ اگرچہ وقتی طور پر خطے میں کشیدگی کا تاثر ابھرا ہے اور امریکہ، روس، چین اور حتی کہ افغانستان تک سے دونوں جانب سے تحمل کے مظاہرے اور بات چیت کے ذریعے معاملات کا حل نکالنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم اس معاملے کا سب  سے افسوسناک، شرمناک اور تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے فالورز کی شکل میں جو ذہنی طور پر اپاہج نسل تیار ہوئی ہے وہ ایسی ”بدنسل“ ہے کہ اس نے فوج دشمنی میں وطن عزیز کی سالمیت تک کو نہیں بخشا۔ ایران کی جانب سے پاکستان میں کارروائی کی خبر ملتے ہی دولے شاہ کے بند دماغ چوہوں نے سوشل میڈیا پر جشن منانا شروع کر دیا۔اس عمل سے مجھے کسی ڈراؤنی انگریزی فلم کا کوئی منظر ذہن میں آ گیا جب ”گاڈزیلا“ جیسی بلا ہر طرف تباہی اور بربادی پھیلا کر بالآخر قابو آ کر مرنے لگے تو بھی جاتے جاتے ایسے بچے پیدا کرجاتی ہے جو آگے چل کر تباہی مچا سکتے ہوں۔ ایرانی کارروائی پر ”عمرانڈوز“ کے جشن نے محب وطن پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔ اب اس بد نسل کو تلف کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کو چاہیے کہ آپریشن مرگ بر سرمچار سے فارغ ہوتے ہی غداروں کی اس پوری کھیپ کو تلف کر کے ان کی باقیات کو آگ لگا کر کھیت میں ہل چلا دیا جائے تا کہ یہ پوری فصل اپنے انجام کو پہنچے جس کے بعداس مقدس سر زمین پر نئے بیج اور کھاد ڈال کر ایک بہتر نسل کی آبیاری ممکن ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -