پاک ایران جنگ کے بڑھتے سائے 

   پاک ایران جنگ کے بڑھتے سائے 
    پاک ایران جنگ کے بڑھتے سائے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستان اور ایران کے سفارتی تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے وہ خطے کے امن کو بر باد کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایرانی سکیورٹی فورسز نے پنجگور بلوچستان میں پاکستانی علاقے پر ڈرون و میزائل حملہ کیا اور مبینہ طور پر جندل العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،اِسی دوران عراق و شام پر بھی ایسے ہی دہشت گردوں (ایران دشمن)پر حملے کئے۔ جندل العدل ایک  بلوچ گروپ ہے جو شیعہ اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔  مبینہ طور پر حال ہی میں ایسے ہی ایک دہشت گرد حملے میں 80 سے زائد ایرانی ہلاک ہوئے تھے۔ ایران نے پاکستانی علاقے میں جندل العدل کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، اِس پاکستان نے  احتجاجی طور پر سفارتی تعلقات معطل کر دیئے۔ایرانی وزیردفاع نے کہا کہ ایران پاکستان کی زمینی حیثیت کا احترام کرتا ہے لیکن ایران کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کا پیچھاکرنے کاحق بھی محفوظ رکھتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ایرانی علاقے میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور کہا ہے کہ ہم اِن دہشت گردوں کے بارے میں ایران کو پہلے بھی کئی بار مطلع کر چکے ہیں لیکن ایرانی حکام نے کوئی ایکشن نہیں لیا کیونکہ ایران کی اِن علاقوں پر حاکمیت نہیں ہے۔ گویا پاکستان اور ایران حالت جنگ میں آگئے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، بالخصوص پاکستان کے لئے، کیونکہ ایران تو ایک عرصے سے حالت جنگ میں ہے۔ ایران اپنے مفادات کے لئے عراق، شام اور لبنان میں پہلے ہی جنگ میں ملوت ہے۔ یمنی حوثیوں کی یمن میں مدد کرکے ایران نے بحرہ احمر میں عالمی تجارتی راہداری کو خطر ناک بنا دیا ہے جس سے امریکہ و اقوام مغرب کے معاشی مفادات پر ضرب لگی ہے اِس سے پہلے ایرانی حزب اللہ نے حماس کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملہ کیا اور مشرق وسطی  بارود کا ڈھیر بنگ گیا  ہے۔ اسرائیل حماس جنگ کو 100 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں۔ غزہ کو بارود  ملبے کا   پہاڑ  بنا دیا گیا ہے عملاً پورا غزہ بمباری سے نیست ونابود ہو گیا  اور نا قابل رہائش ہو گیا ہے۔ اِس کی  بہت سی آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔اسرائیلی بمباری سے 25 ہزار سے زائد شہری بشمول خواتین بچے، صحافی، امداد ی ور کر جاں بحق ہو چکے ہیں، زخمیوں کی تعداد اِس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسرائیل کے اعلان کے مطابق حماس کے 2000 جنگجو مارے جاچکے ہیں جبکہ اِن کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اسرائیل حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے اِس لئے یہ جنگ مستقبل قریب میں رکتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایک انسانی المیہ جہنم لے چکا ہے۔ فلسطینی نہ صرف غزہ سے مہاجر بنا دیئے گئے ہیں بلکہ انہیں پینے کے پانی، ادویات سردی سے بچاؤ اور کھانے پینے کی سہولیات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل امدادی ٹیموں کو اِن تک پہنچے نہیں دے  رہا ہے۔ دوسری طرف مصر اور دیگر عرب ممالک کا رویہ بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ امریکہ،برطانیہ اور دیگر یورپی عیسائی ممالک اسرائیل کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، ہر قسم کی امدادفراہم کررہے ہیں، سفارتی میدان میں بھی اِسے گرنے نہیں دے رہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی خطہ کسی حد تک اس جنگ سے بچا ہوا تھا لیکن ایران پاکستان کشیدگی سے اِس خطے کے بھی وسیع ترجنگ میں شمولیت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔امریکہ، روس یوکرائن جنگ بھڑکانے میں بھی ملوث ہے۔ روس کو ایسی جنگ میں اُلجھا کرامریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے قومی مفادات کی نگہبانی کررہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکا کر چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نقصان پہنچانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ سعودی عرب و دیگر عرب ریاستی حکمران امریکہ سے دور ہونے لگے ہیں۔ شام میں طویل جنگ بھڑک چکی ہے جس میں عرب و عجم سب ملوث ہو چکے ہیں۔ حماس۔اسرائیل جنگ میں عرب دنیا اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔ پاک ایران جنگ سے یہ خطہ بھی ایک نئے مسئلے کا شکار ہو جائے گا۔ یہاں بھی سی پیک کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ افغانستان میں امریکی اتحادی بیس سالوں تک لڑتے رہے، طالبان کو نجانے کیا کیا کہا گیا لیکن بالآخر طالبان ہی کابل پر قابض ہوئے امریکی تحادی افواج کو یہاں سے عسکری ہزیمت کا شرمناک داغ لے کر رخصت ہونا پڑا۔

امریکہ اپنی شرمناک شکست بھولا نہیں ہے، اِس نے معاملات کو کچھ اِس طرح ترتیب دیا ہے کہ پاکستان و ایران بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو چکے ہیں اور پاکستان و افغانستان بھی سرد جنگ سے آگے بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مسئلے پر افغان طالبان حکومت پاکستانی نقطہ نظر سے متفق نظر نہیں آتی۔ افغان طالبان نے ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کی باڑ کو بھی قبول نہیں کیا، ویسے تو افغان ڈیورنڈ لائن کو بھی تسلیم نہیں کرتے، اِس لئے وہ سرحدی بے ضابطگیوں پر پاکستانی احتجاج کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ پاکستان نے ناجائز طور پر مقیم افغانوں کو دیس نکالا دینے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، طالبان حکومت اِس پر بھی خوش نہیں ہے لیکن پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے اِس پر من و عن عمل کرتے ہوئے پانچ لاکھ سے زائد افغانوں کو واپس افغانستان بھیجوایا جا چکا ہے یہ بات بھی انہیں پسند نہیں ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ افغان یہاں ضرور آئیں لیکن ویزہ لے کر۔ وہ کہتے ہیں نہیں ہم جیسے چاہیں گے ویسے آئیں گے۔ اُنہوں نے حال ہی میں پاکستان کو کھلے عام دھمکی بھی دی ہے کہ اگر پاکستان نے ویزہ پالیسی میں نرمی نہ کی اور نظر ثانی کے بغیر اِسے نافذ العمل رکھا تو افغان حکومت طورخم اور کار لاچی بارڈر کے راستے تجارت بند کر دے گی۔ گویاپاک افغان سرد جنگ، گرم ہونے کی طرف جا رہی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاک بھارت معاملات میں خاموشی طاری تھی۔ بھارتی وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اسلحی جنگ کی بجائے غربت کے خلاف جنگ کا اعلان کر چکے ہیں۔ گویا منفی جنگ کی بجائے مثبت جنگ کا اعلان حیران کن ہے۔ پاکستان کے حالات سردست خاصے نرم ہیں۔ سیاسی بحران، معاشی بدحالی اور کسی بہتر مستقبل سے نا اُمیدی کے باعث پاکستان خاصی کمزور پوزیشن میں ہے ایسے میں ہندوستان ہمارے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی اگرنہیں کر رہا ہے تو یہ حیران کن، بلکہ پریشان کی بات ہے۔

مزید :

رائے -کالم -