پہلے بنیاد سیدھی کریں 

      پہلے بنیاد سیدھی کریں 
      پہلے بنیاد سیدھی کریں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  نواز شریف کا بیانیہ مجھے کیوں نکالا سے مجھے نہ نکالتے تک آ گیا ہے،انہوں نے حافظ آباد کے جلسے میں جو کچھ کہا ہے لگتا ہے اُس سے زیادہ اور کچھ کہنے کے لئے وہ تہی دامن ہو چکے ہیں،، روٹی چار روپے کی اب مل سکتی ہے یا نہیں، عوام اِس سے آگے نکل چکے ہیں۔بجلی، گیس کے بلوں نے اب پیچھے نہیں جانا، نہ ہی آٹا، چینی،گھی، دالیں سستی ہونی ہیں یہ میاں صاحب کو پتہ ہو یا نہ ہو عوام کو ضرور پتہ ہے۔اِس وقت شعور کی جو لہر چل رہی ہے اُس کی سطح کہیں اور چلی گئی ہے۔ عوام حقوق مانگ رہے ہیں، زندہ رہنے کے، آبرو، عزت و احترام کے ساتھ، انہیں دوسرے درجے کے شہری بنائے رکھنے کی پالیسی شاید اب نے چل سکے۔کیا نواز شریف اس کی بات کریں گے؟ اس کی بات تو بلاول بھٹو زرداری بھی نہیں کر رہے حالانکہ پیپلزپارٹی سب سے زیادہ عوامی حقوق کی دعویدار رہی ہے۔ وہ بھی 300 یونٹس تک بجلی فری دینے کا یعنی لارا دے رہے ہیں۔مریم نواز کو اصولاً تو400 یونٹس فری دینے کی بات کرنی چاہئے تھی لیکن انہوں نے جلسے میں 200یونٹس تک بجلی فری دینے کا اعلان کیا ہے۔خیر سوال یہ ہے مسلم لیگ(ن) یا پیپلزپارٹی اب آگے آنے والے جلسوں میں کیا کہیں گی۔ کہا جا رہا ہے نواز شریف نے اپنے جلسے منسوخ کر دیئے ہیں،اگر وہ کریں گے بھی تو کیا کہیں گے؟ وہی مہنگائی کا رونا، وہی پرانی باتیں،وہی تاریخ کا پہیہ اُلٹا چلانے کا عمل، کل میں قاسم بیلہ ملتان کے بازار میں خریداری کے لئے گیا تو مجھے ریڑھی پر کھڑے ایک عام سے نوجوان نے پوچھا، آپ ووٹ کسے دیں گے۔میں نے کہا بھائی یہ میرا اپنا معاملہ ہے، کہنے لگا نواز شریف  نے چار روپے کی روٹی یاد دِلا کر ہمیں سولہ ماہی شہباز شریف کی حکومت یاد دِلا دی، جس میں آٹا آٹھ روپے سے پندرہ روپے کلو ہو گیا،پھر اُس نے ا یسی بات کی جس سے مجھے لگا یہ ماجھے ساجھے بھی اب بہت سیانے ہو گئے  ہیں،اُس نے کہا میری دادی بتایا کرتی تھی ان کے زمانے میں روٹی دو پیسے کی ملا کرتی تھی، تو کیا ہم یہ کہیں وہ زمانہ اچھا تھا، یا اُس دور میں حکمران ایماندار تھے، جو زمانہ گزر گیا وہ واپس نہیں آ سکتا لیکن میاں صاحب ہمیں وہی زمانہ یاد دِلا رہے ہیں۔کیا عوام اِس لئے انہیں ووٹ دیں کہ وہ زمانہ واپس آ جائے گا؟ میں اُس کی باتوں کا مطلب سمجھ گیا تھا جو بات ایک عام آدمی کو سمجھ آ چکی ہے، وہ ہمارے لیڈروں کو سمجھ نہیں آ رہی،اُن کے پاس ماضی کو دہرانے کے سوا کچھ نہیں جبکہ عوام اُن سے مستقبل کے بارے میں کچھ سننا چاہتے ہیں۔ نواز شریف 2017ء میں ایک دبنگ سیاستدان بن کر اُبھرے تھے آج انہیں حافظ آباد کے جلسے میں سنا تو تھکے تھکے اور مصلحتوں کا شکار نظر آ رہے ہیں یہ کایا کلپ کیسے ہوئی اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اس کا اندازہ 8فروری کے انتخابات سے ہو گا۔

کل میں نے فرخ سہیل گوئندی کے چینل پر جناب مجیب الرحمن شامی کا ایک انٹرویو سنا۔بہت اہم سوالات ہوئے اور شامی صاحب نے بہت بامعنی جوابات دیئے۔ کئی سوالات بہت نوکیلے تھے، تاہم جناب مجیب الرحمن شامی نے بڑی خوبی سے کوئی تنازعہ کھڑے کئے بغیر اُن کے عمدہ جواب دیئے۔اسی انٹرویو کے دوران ایک سوال یہ بھی آیا کہ کل جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا،آج عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے۔کیا ہم اِس دائرے سے کبھی باہر بھی نکل سکیں گے؟اِس کا جواب دیتے ہوئے جناب مجیب الرحمن شامی نے کہا جب تک سیاستدان جمہوریت اور بنیادی سیاسی ضابطے پر متحد نہیں ہوتے اور ایک دوسرے کے خلاف کندھا پیش کرتے رہیں گے یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔اُن کا کہنا تھا آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے، دو چار سال بعد حالات بدلیں اور پھر نواز شریف اُس کی زد میں آ جائیں۔انہوں نے کہا آئیڈیل صورتحال تو یہ ہوتی، نواز شریف،آصف علی زرداری اور عمران خان ایک جگہ بیٹھتے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے قومی ایجنڈے پر متفق ہوتے،مگر افسوس ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔اصل مرض کی تشخیص تو یہی ہے مگر اس طرف کوئی آتا نہیں۔اس ملک کی تاریخ میں چارٹر آف ڈیمو کریسی جیسے معاہدے بھی ہوئے،لیکن دوچار برس ہی چلے اُس کے بعد  وہی کشیدگی اور وہی ٹانگ کھینچنے کا عمل شروع ہو گیا جس نے ہمیشہ سیاسی قوتوں کو نقصان پہنچایا۔سیاستدانوں کے پاس شاید اِس بات کا جواب نہیں کہ ہر جمہوری عمل کے بعد دھاندلی کا الزام لگا کے پہلے دن سے منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کی تحریک کیوں شروع ہو جاتی ہے۔چلیں یہ مان لیتے ہیں دھاندلی کے ذریعے حکومت بنتی ہے تو پھر اگلی بار دھاندلی کے لئے کوئی دوسری جماعت اسٹیبلشمنٹ کا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتی ہے۔باری کا یہ بخار سارے فساد کی اصل جڑ ہے اِس جڑ کو ختم کرنے کے لئے سیاسی قوتوں کو ایک جگہ بیٹھنا پڑے گا،لیکن اس کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ آپ آج کا تناظر دیکھ لیں عمران خان کو الیکشن سے باہر کر دیا گیا ہے،بالکل اُسی طرح جیسے نواز شریف کو 2018ء کے انتخابات میں باہر کیا گیا تھا۔ نواز شریف کہتے ہیں انہیں پانچ ججوں نے گھر بھیج دیا، آج عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف نہیں مل رہا۔سوال یہ بھی ہے کہ ہر دور میں ایک بڑا مقبول لیڈر اور مقبول سیاسی جماعت ہی اس عمل کا نشانہ کیوں بنتی ہے۔کوئی سابق وزیراعظم ہی اس کی بھینٹ کیوں چڑھتا ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے،آپ جس عمل کو اپنے لئے بُرا قرار دے کر اُس پر تنقید کریں، وہی کچھ جب آپ کے سیاسی مخالف کے ساتھ ہو تو اُسے عین عدل و انصاف کے مطابق قرار دیں۔سیاست دانوں کو اِس پہلو پر سوچنا چاہئے،اگر وہ نہیں سوچتے اور ایک دوسرے کی باری کا انتظار کرتے ہیں تو پھر اِس ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی اور نہ ایک آزاد اور خود مختار پارلیمنٹ وجود میں آ سکے گی۔

اس ملک میں جب ایک مثال بن جاتی ہے تو وہ صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہتی،آنے والے   ادوار میں دوسری جماعتوں پر بھی آزمائی جاتی ہے۔ ایک دور تھا جب سے بینظیر بھٹو جلاوطن تھیں،پکی جلاوطنی انہیں ضیاء الحق کے دور میں کاٹنی پڑی اور دوسری پرویز مشرف کے دور میں اُس وقت ہدف پیپلزپارٹی تھی،پھر دور بدلا تو نواز شریف کی باری آ گئی۔انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب یہ کہا جانے لگا ملک میں ایک دوسرا بھٹو بننے جا رہا ہے تاہم وہ خوش قسمت تھے کہ سزا معاف ہو گئی اور وہ سعودی عرب چلے گئے۔ دوسری مرتبہ وہ پانامہ لیک کا شکار ہوئے تو انہیں سزا دے کر جیل بھیج دیا گیا۔طبی بنیادوں پر رہائی ملی تو بیرون ملک چلے گئے۔ چار سال بعد واپس آئے ہیں تو اُن کا بیانیہ بدل چکا ہے، انہیں صرف ماضی کے قصے سنانے اور مہنگائی کا موازنہ کرنے کی اجازت ہے۔وہ ووٹ کو عزت دو کا اپنا معروف و مقبول بیانیہ دہرا سکتے ہیں اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں، وزیراعظم کو اس نظام میں بے بس کر دیا جاتا ہے۔ شاید وہ جب دوبارہ اقتدار میں آ جائیں تو ایک مرتبہ پھر انہیں اپنا ماضی یاد آئے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں تین بار وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا گیا تاہم چوتھی مرتبہ وہ جس طرح وزیراعظم بننے جا رہے ہیں کہ ایک مخالف لیڈر کو اُن جیسی مثال بنا کر پرانا کھیل دہرایا جا رہا ہے، تو کیا وہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ چوتھی مرتبہ بھی تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہرائے گی۔کیا بنیادی خرابی کو درست کئے بغیر سیدھی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -