پہلےپوچھا جاتا تھا معلومات کیوں چاہئیں، اب اس کا متضاد ہے کہ معلومات کیوں فراہم نہیں کرتے: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پہلےپوچھا جاتا تھا معلومات کیوں چاہئیں، اب اس کا متضاد ہے کہ معلومات کیوں ...
پہلےپوچھا جاتا تھا معلومات کیوں چاہئیں، اب اس کا متضاد ہے کہ معلومات کیوں فراہم نہیں کرتے: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پہلے پوچھا جاتا تھا معلومات کیوں چاہئیں، اب اس کی متضاد صورتحال ہے، سوال اٹھایا جاتا ہے معلومات فراہم  کیوں نہیں کرتے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کم سے کم وقت میں زیادہ کیسز نمٹائے جائیں، سپریم کورٹ کا ہر اہم فیصلہ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے اہم کیسز اب آن لائن نشر کئے جاتے ہیں، ہم نے آتے ہی فل کورٹ کارروائی براہ راست دکھانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد شہریوں کو قانون کی آگاہی دینا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آئین کی دو شقوں میں آزادی صحافت کا ذکر ہے، ایک آرٹیکل 19 اور دوسرا آرٹیکل 19 اے ہے۔ سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے نہیں ، آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تابع ہے۔ پہلے سوال کیا جاتا تھا کہ معلومات کیوں چاہئیں۔ اب سوال اٹھایا جاتا ہے کہ معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ کسی قوم کی تقدیر بدلنے کا واحد طریقہ صرف تعلیم ہے۔ 

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ججز نامزدگی کے طریقہ کار سے وکلا خوش نہیں تھے، کمیٹی کام کر رہی ہے، جلد معاملہ حل ہو جاے گا، اچھے ججز کی تقرری ہونی چاہئے تا کہ کام اچھا ہو، پاکستان کا ہر ادارہ عوام کا ادارہ ہے۔ 

مزید :

قومی -