ہمارے مینجر نے ایوب خان کے قریبی عزیز سے قرض واپسی کا تقاضا کیا، پھر دیر تک خلاء میں گھورتے رہے، میں نے زندگی میں پہلی بار ”سیاسی مداخلت“ دیکھی 

ہمارے مینجر نے ایوب خان کے قریبی عزیز سے قرض واپسی کا تقاضا کیا، پھر دیر تک ...
ہمارے مینجر نے ایوب خان کے قریبی عزیز سے قرض واپسی کا تقاضا کیا، پھر دیر تک خلاء میں گھورتے رہے، میں نے زندگی میں پہلی بار ”سیاسی مداخلت“ دیکھی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:162 
 مینجر صاحب بڑی عمر کے کم گو اور نسبتاً نفیس انسان تھے۔ چند روز قبل ہی ان کو ہیڈ آفس سے ایک خط آیا تھا جس میں غیر وصول شدہ قرضوں کے سلسلے میں ذمہ دار لوگوں کو نوٹس دینے کا کہا گیا تھا۔ یہاں صدر ایوب کے خاندان کے تقریباً سارے ہی لوگ قرض لے کر واپسی بھول گئے تھے۔ مینجر صاحب ایک دو روز تک کشمکش میں مبتلا رہے اور لیت ولعل سے کام لیتے رہے، ان کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ ان بڑے لوگوں کو قرضوں کی واپسی کی یاد دہانی کروائیں۔ پھر انھوں نے جی کڑا کر کے ایک نمبر ملا ہی ڈالا جو شائد ایوب خان کے کسی قریبی عزیز کا تھا۔ مینجر صاحب نے مختصر مدعا بیان کیا اور اپنی مجبوریاں بیان کیں، پھر دوسری طرف سے اللہ جانے کیا کہا گیا کہ ان کا رنگ فق ہو گیا اور یہ سوائے ”سر سر“ کرنے کے کچھ بھی نہ کہہ سکے۔ ان کو پتا ہی نہیں لگا کہ کب دوسری طرف سے فون بند ہو گیا،لیکن یہ بڑی دیر تک ٹیلی فون کا ریسیور ہاتھوں میں تھامے بے جان نظروں سے خلاؤں میں گھورتے رہے۔ شام کو انھوں نے زونل آفس پنڈی فون کیا اور اپنے فوری تبادلے کی درخواست کر دی کیونکہ وہ اپنی جان کو بہت خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ ظاہر ہے فرمائشی تبادلے اتنی جلدی تو نہیں ہوا کرتے۔ اگلے دن وہ تھوڑی دیر کے لیے بینک آئے او ر پھر فور اً ہی گھر چلے گئے کہنے لگے مجھے کچھ لوگوں کی طرف سے تشدد کا خوف ہے۔ لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب میں نے عملی زندگی میں براہ راست سیاسی مداخلت ہوتی دیکھی اور محسوس کی۔ آگے چل کر یہ سخت مقام مجھ پر بھی آنے والے تھے اور مجھے بھی ان کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔یہ واقعی ہی ایک بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں 
ہری پور سے واپس آنے کے بعد تو جیسے بینک والوں نے مجھے ٹینس کی گیند ہی بنا ڈالا، آج اس شہر میں،کل نئے شہر میں، بس اسی لہر میں اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی۔اگلے ایک برس تک بینک کی انتظامیہ نے مجھے کہیں ٹکنے ہی نہ دیا، میں بھی خوش تھا کہ ہر ماہ ٹی اے ڈی اے کے نام پر تنخواہ سے بھی کہیں زیادہ پیسے بن جاتے تھے اور میں ان دنوں جیب کا کافی امیر ہو گیا تھا۔ جوانی بھی عروج پر تھی اس لیے مسلسل سفر اور رنگ برنگے کھانوں سے بھی صحت متاثر نہیں ہوئی تھی اور میں نہ صرف ان سب مشکلات سے نبٹ رہا تھا، بلکہ ان سے لطف اندوزبھی ہورہا تھا۔
 زندگی کے تلخ وشیریں تجربات حاصل کرنے کے لیے یہ بہترین وقت تھا، گوجرانوالہ سے لے کر مری، ایبٹ آباد، اٹک، جہلم،چکوال غرض یہ کہ کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں مجھے متبادل آفیسر یا مینجر کے طور پر استعمال نہ کیا گیا ہو۔ اس دوران ان علاقوں کے مختلف رسم و رواج دیکھے، مختلف زبانیں بھی سمجھنا اور بولنا شروع کر دیں اور پھر بھانت بھانت کے لوگوں سے بھی ملا۔ اب چونکہ عملی کام بھی مکمل طور پر سمجھ میں آگیا تھا اس لیے چہرے پر ازلی حماقت برسنے کے بجائے بردباری اور قدرے اعتمادنظر آنے لگا تھا، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم جیسوں کو اب ”امریکن ایڈ“ جیسے گھٹیا لقب سے بھی نجات مل گئی تھی اور ہمیں بینک کے عمومی ماحول نے اپنے اندر پوری طرح سمو لیا تھا۔
پھرمزید بھی کئی آفیسر تربیت مکمل کر کے میدان میں آگئے اور یوں اب ہم نوجوان آفیسر کینسر کی طرح سب برانچوں میں پھیل گئے تھے اس لیے پرانے سٹاف کو بہرحال نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا اور کسی حد تک ہماری عزت نفس بھی بحال ہو گئی تھی۔ عام لفظوں میں انھوں نے ہمیں اور ہم نے انھیں قبول کر لیا تھا۔
بے شمار برانچوں میں اس دوران کام کرنے کا اتفاق ہوا، بعض جگہ تو کاموں کی نوعیت بہت ہی روز مرہ کی تھی لیکن کچھ جگہ ایسے واقعات بھی ہو جاتے جنہیں یاد کر کے ہنسی بھی آجاتی ہے اور کبھی آنکھوں کے گوشے بھی بھیگ جاتے تھے شاید اسی کا نام زندگی ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -