بھئی اپنی اَجارہ داری، اِتنا وسیع و عریض فارم، جدھر قدم جمائیں، ہے کوئی روکنے والا، ٹوکنے والا، نہ بھئی نہ۔ جنگل میں منگل کا سماں باندھا ہے

بھئی اپنی اَجارہ داری، اِتنا وسیع و عریض فارم، جدھر قدم جمائیں، ہے کوئی ...
بھئی اپنی اَجارہ داری، اِتنا وسیع و عریض فارم، جدھر قدم جمائیں، ہے کوئی روکنے والا، ٹوکنے والا، نہ بھئی نہ۔ جنگل میں منگل کا سماں باندھا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:26
اور پھر جب ہم M-7 کو چھوڑ کر M-31 پر رواں دواں تھے تو بھیڑوں کے فارم دائیں بائیں شروع ہوگئے۔ کیا شانِ بے نیازی سے مٹیالی بھیڑیں سبزی مائل، براؤن گھاس پر خراماں خراماں چلتے اپنی پسندیدہ نوکیلی گھاس کے پتّوں سے شکم پروری کرتے ہوئے خوش و خُرم اور مُطمئن لگیں۔ بھئی اپنی اَجارہ داری، اِتنا وسیع و عریض فارم اور چند سو بھیڑیں، جدھر کا رُخ کریں، جدھر قدم جمائیں، ہے کوئی روکنے والا، ٹوکنے والا، نہ بھئی نہ۔ اور وہ اُدھر تھوڑا اندر دیکھا آپ نے کیا جنگل میں منگل کا سماں باندھا ہے؟ خوبصورت گھنے درختوں کی شجر کاری۔ کِسی دُور افتادہ مقام کی نرسری سے لا کر یہاں اِس کو لگایا گیا ہے۔ 
اِس بے آب و گیاہ خطّے میں جنگلی حیات بکثرت پائی جاتی ہے۔ گو کہ سڑک کے دونوں طرف ایک جالی دار تین چار فٹ اُونچی باڑ لگائی گئی ہے۔ لیکن پھر بھی کانگرو کو تو کوئی مشکل درپیش نہیں آتی۔ ذرا چھلانگ لگائی تو سڑک پر جا پہنچے۔ لیکن اگر تیز رفتار گاڑی کی زد میں آگئے یا تو جان سے گئے یا زخمی تو ہوگئے نا!  اسی لیے محکمہ وائلڈ لائف نے وہاں وہ دیکھیں سامنے "Injured Wild Life" کا بورڈ لگا رکھّا ہے کہ اگر آپ کسی جانور کو زخمی حالت میں پائیں تو وہاں دئیے گئے فون پر رابطہ کر کے اطلاع کردیں۔ محکمہ کے ذمہ داران اُس جانور کا علاج کر کے اُسے دوبارہ وہیں اُسی علاقہ میں چھوڑ جائیں گے۔
دائیں بائیں بِکھرے کہیں کچھ زیادہ کہیں کم سفیدے اور دوسرے خشک موسم میں پنپنے والے درخت اور خود رَو جھاڑیاں لیکن گھنے جنگلات کا اِدھر بسیرا نہ ہوسکا کہ اُن کے لیے نمدار موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو یہاں میسّر نہیں۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا میں سفیدے کے درختوں کی اِقسام کا شمار سیانے کر چکے ہیں جو کم و بیش 500 speciesبنتی ہیں، درخت کی لمبائی 90 میٹر تک یہ Gum Tree اور Stringy Bark Tree کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ 
یہ جس ہائی وے پر اب گاڑی موڑی ہے یہ ہے جناب Humus High Way۔ آگے اب بھیڑوں کے علاوہ گائیوں کے بھی فارم شروع ہوگئے۔ اب ہم نے گاڑی کا رُخ بائیں طرف Canberra Federal High Way پر کردیا۔ جو M-23 کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سڑک کنارے نئی طرز کی پلانٹیشن ہر جگہ جہاں فارم بنتے ہیں وہاں اُن لوگوں کی کوشش ہے کہ رہائشی Huts کے پاس خوشنما پلانٹیشن لگائیں جو آنکھوں کو طراوت دے اور پاس سے گزرنے والے بھی اِس خوشنمائی سے خوشہ چینی کرتے جائیں۔ بھُورے رنگ کی گھاس کہیں کہیں سبزی مائل گھاس کی ٹکڑیوں پر بھیڑیں اور گائیں علیحدہ علیحدہ شکم پروری میں مصروف، آسٹریلیا کی معیشت کو چار چاند لگاتے ہوئے۔
اب زمین اور پہاڑیوں کی ماہیّت کچھ بدل رہی ہے۔ سامنے Dunes سے لگتے ہیں کہ وہ سنگلاخ چٹانوں کا مرقّع نہیں ہیں بلکہ Soft Strata کی حامل ہیں۔ بھئی یہ Strata کیا بدلا دنیا ہی بدل گئی۔ دائیں طرف Rainbow، دھنک کے سات رنگ۔ آنکھیں بار بار اُدھر اُٹھ رہی ہیں۔ آنکھوں کو طراوت اور ذہنی سکون برس رہا ہے۔ 
اُدھر جنوب مشرق میں پہاڑی پر ایک قطار میں پَر پھیلائے ونڈ فارم کے کل پُرزے، علاقہ میں بجلی کی آمد کی نوید، علاقہ کی ویرانی و خستہ حالی کے مداوا کی نوید۔ آگے نظر پڑے بھیڑوں اور گائے کے لیے Ponds۔ سڑک کے دونوں طرف لگی باڑ کو پھلانگ کر آیا کینگرو …… وہ دیکھو مرا ہوا اور کوّا نما پرندہ اُوپر بیٹھا بڑی دلجمعی سے پیٹ پُوجا میں مصروف۔ لو وہاں ایک تھا یہ بیچارے تین اکٹھے گئے جان سے۔ دائیں طرف گھوڑوں کا تو یہ پہلا فارم آیا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -