امریکا کا شامی کرد فورسز کی عسکری حمایت ختم کرنے کا اشارہ، دمشق سے الحاق پر زور
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے واضح اشارہ دے دیا ہے کہ وہ شام میں کرد قیادت والی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی عسکری حمایت مرحلہ وار ختم کر رہا ہے، جبکہ نئی شامی حکومت کی داعش کے خلاف کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بیرک نے کہا ہے کہ شامی کردوں کے لیے سب سے بڑا موقع اب نیم خودمختاری نہیں بلکہ مکمل شامی ریاست میں شمولیت ہے، جو موجودہ حکومت کے تحت ممکن ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ مواقع خانہ جنگی کے دوران حاصل محدود خودمختاری سے کہیں زیادہ ہیں۔
العربیہ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دمشق اور امریکا کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد صدر احمد الشراع کی قیادت میں قائم نئی شامی حکومت کے ساتھ الحاق پر ایس ڈی ایف تاحال ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
ٹام بیرک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی شام میں فوجی موجودگی کی بنیاد صرف داعش کے خلاف جنگ تھی، جس میں ایس ڈی ایف ایک اہم اتحادی رہی۔ تاہم ان کے مطابق اب حالات بدل چکے ہیں۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کی جیلوں کی نگرانی امریکا نہیں کر رہا۔ حالیہ دنوں میں الشدادی جیل سے چند کم درجے کے قیدی فرار ہوئے، تاہم شامی سرکاری فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیشتر کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔
ٹام بیرک نے اعتراف کیا کہ ایس ڈی ایف نے داعش کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا، ہزاروں شدت پسندوں کو حراست میں رکھا اور الہول و الشدادی جیسے حساس کیمپوں کی نگرانی کی۔ مگر ان کے بقول اس وقت شام میں کوئی مؤثر مرکزی حکومت موجود نہیں تھی، جبکہ اسد حکومت ایران اور روس سے قربت کے باعث امریکا کی اتحادی نہیں بن سکتی تھی۔
اب، امریکی ایلچی کے مطابق، شامی حکومت نہ صرف داعش کے خلاف سرگرم ہے بلکہ گلوبل داعش مخالف اتحاد میں بھی شامل ہو چکی ہے، جو امریکا کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد ایس ڈی ایف کے ساتھ امریکا کی شراکت کی اصل وجہ ختم ہو چکی ہے، کیونکہ اب دمشق داعش کی جیلوں، کیمپوں اور مجموعی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پوزیشن میں ہے۔
ادھر صدر احمد الشراع نے حال ہی میں ایک فرمان جاری کیا جس میں شامی کردوں کے حقوق کے تحفظ، نسلی و لسانی امتیاز کے خاتمے، کرد زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے اور نوروز کو قومی تعطیل قرار دینے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے بے گھر کرد شہریوں کو وطن واپسی کی دعوت بھی دی، جس کی واحد شرط ہتھیار ڈالنا قرار دی گئی۔
ٹام بیرک نے ایک بار پھر کرد قیادت پر زور دیا کہ وہ اس "تاریخی موقع" سے فائدہ اٹھائے، شامی ریاست کا حصہ بنے اور سیاسی عمل میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا شام میں طویل المدت فوجی موجودگی کا خواہاں نہیں، بلکہ اس کی توجہ صرف داعش کے قیدی مراکز کے تحفظ اور دمشق و ایس ڈی ایف کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہے۔
