عرب دُنیا میں عدم استحکام اور امریکی حکمت عملی

عرب دُنیا میں عدم استحکام اور امریکی حکمت عملی
عرب دُنیا میں عدم استحکام اور امریکی حکمت عملی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈیڑھ سال گزر چکا ہے اس چیز کو جسے امریکی میڈیا اور حکام انقلاب عرب کے نام سے موسوم کر رہے ہیں۔ اس اثناءمیں عرب ممالک میں تھوڑی سی جمہوریت ضرور نمودار ہوئی ہے اور ایسا ان ممالک میں بھی ہوا ہے، جنہوں نے اپنے ملکوں میں ان حکومتوں کا خاتمہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے،جو جابرانہ انداز میںقائم تھیں اور جنہیں امریکی حمایت حاصل تھی، خطے میں آنے والی بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ اس کا استحکام متاثر ہوا ہے اور عدم استحکام کی نئی صورت حال کے بدولت سامراج کے سرمایہ دارانہ نظام اور خطے میں سامراجی پالیسیوں پر اثر پڑا ہے۔ اس کے کہنے کا یہ مطلب نہیں، باوجود اس کے کہ یہ ابتداءلڑکھڑاتا رہا، لیکن امریکی سامراجی نظام اس قابل نہیں ہو سکا کہ خطے کے نئے سیاسی کھیل کے بیشتر مہروں کو اپنے زیر تسلط کر کے خطے کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکا۔ یہ تمام مہروں کو اپنے کنٹرول میں زیادہ عرصے کے لئے نہیں کر سکا۔ اس نامکمل تسلط کا مطلب ہے کہ واشنگٹن اس قابل نہیں ہے کہ وہ خطے میں دوبارہ استحکام پیدا کر سکے۔ امریکی اصطلاح میں جنہیں آمرانہ حکومتیں کہا جائے گا، جو امریکہ کے وفادار ملازم چلا رہے تھے اور خطے میں ان کا جونیئر پارٹنر یہودی آباد کار ہیں۔

یمن میں امریکہ ملک کا نیا اور زبردست براہ راست حکمران بن چکا ہے اور اب اسے کسی آمر ایجنٹ کی ضرورت نہیں، وہ انہیں قتل کر رہے ہیں، ان کا قلع قمع کر رہے ہیں اور یمنیوں کا یہ قتل عام القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں ہو رہا ہے، جس کا کم از کم یمن میں تو کوئی وجود نہیں اور جب امریکہ نے اس ملک میں مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تو یہاں کوئی القاعدہ نہ تھی، لیکن وہ دہشت گردی، جو امریکی افواج اور امریکی سفیر گیرلاڈ سے شروع ہونے والی عرب بغاوت کے بعد سے اوباما انتظامیہ کی بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا ملک جہاں امریکہ نے اپنا زبردست تسلط قائم کر رکھا ہے وہ بحرین ہے۔ اگرچہ بحرینی آمریت کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششیں امریکی اور برطانوی سامراج کی مدد سے کی گئیں۔ بحرینی آمریت کو سعودیہ کے لئے کام کرنے والی بھی سمجھا جاتا ہے اور امریکہ و برطانیہ کی مدد سے بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی گئی، جس کو بے خوف آبادی نے آگے بڑھایا ہے۔ اگر لیبیا کی بات کی جائے، تو عدم استحکام بہت بڑھ چکا ہے۔ ماسوائے تیل کے شعبے کے ایک ایسی صورت حال ہے، جو کہ عراق کے متوازی ہے، جہاں پر اسی صورت حال نے امریکی قبضے کے نو سال بعد جنم لیا۔ حالیہ دنوں میں لیبیا میں ہونے والے انتخابات نے نیٹو کی افرادی قوت کی تصدیق کر دی۔ محمد جبریل اگرچہ ملک کو کنٹرول کرنے کی ان میں صلاحیت(تیل کے کنوئیں جو نیٹو کے قبضے میں ہیں اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے) نہ ہونے کے برابر ہے، جہاں تک قطر اورسعودی عرب کا تیونس اور مصر میں ہونے والے انتخابات کے حوالے معاملے کا تعلق ہے، تو سعودی عرب سلفسٹ قوت جبکہ قطر اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔ قطر نے ہانتھ میں کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ سعودی اپنے مطالبات کو منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی حکام جیسا کہ ان سے توقع کی جا سکتی ہے تمام اطراف میں کھیل رہے ہیں۔ مصر کے عسکری حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان کے اخوان المسلمین کے ساتھ بھی رابطے ہیں اور وہ آزاد خیال و قدامت پسند پارٹیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام نکلوانا جانتے ہیں۔ تیونس میں نئی حکومت کا عدم استحکام صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی ہے، جبکہ اس کھیل میں آزاد خیال اور سلفی گروپ اور سیکیورٹی کا ڈھانچہ(محافظ ادارے) اور احتجاج کرنے والے عوام الناس بھی شامل ہیں ان ھادا پارٹی کا لڑکھڑانا اِس بات کی جانب دلالت کرتا ہے کہ تنقیدی چھانٹی کے حوالے سے اس کی پوزیشن کیا ہے۔

 حالیہ دنوں میں اپنے رہنماءرشید الگنوسٹی جو کہ منتخب شدہ نمائندے ہیں ناہی نامزد کردہ سرکاری حاکم، لیکن اِس کے باوجود انہیں سفارتی پاسپورٹ جاری کرنا تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے، زخم میں بے عزتی کو جمع کرنے والی چیز اس ہفتے ہوئی وہ یہ تھی کہ تیونسی ریاستی حکام نے محمد ابو العزیزی کی والدہ کی تضحیک کی محمد بوالعزیزی عرب بغاوت کے پہلے شہید ہیں۔ ان کی والدہ کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کر لیا گیا اور ان پر ایک عدالتی کارکن کی بے عزتی کا الزام عائد کیا گیا۔ مراکش،اردن اور یمن کو دباﺅ اور مشترکہ طریقہ کار کے ذریعے جو کہ روائتی انداز میں سامراجی طاقتوں کی جانب سے پیسے خرچ کر کے کنٹرول کرنی کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حکومتوں کے ساتھ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور حکومتوں کو مختلف گروہوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور خطرات کا سامنا ہے۔ ماسوائے تین ممالک، مصر، تیونس اور لیبیا کے قطر، سعودی عرب اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ کس حکمت عملی کے ذریعے بغاوتوں سے ہر جگہ نمٹا جائے(بحرین، اومان، اردن، مراکش اور یقینا یمن بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو اس چیز کے لئے متفق تھے کہ عبداللہ صالح کو ہٹا دیا جائے) اس میں شام بھی شامل ہے جس کے متعلق ان کی متفقہ کم وقتی حکمت عملی یہ ہے کہ وہاں بشار الااسد کی حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔

اس بات سے متعلق نااتفاقی جاری ہے کہ فلسطینی حکام سے کس انداز میں بات کی جائے۔ الجزیرہ کی حالیہ دنوں میں ہونے والی تفتیش جو کہ فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین یاسر عرفات کی موت سے متعلق ہے اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اُن کی موت انتہائی تیز ریڈیوایکٹو مادے پلونیم کے استعمال سے ہوئی ہے اس بات سے اس بہت پھیل جانے والے مفروضے کو تقویت ملتی ہے۔ جس میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ یاسر عرفات کی موت، اسرائیل اور فلسطینی حکام کی ملی بھگت کی بدولت ممکن بنائی جا سکی اس بات کی بدولت فلسطینی اتھارٹی (P.A) کو بھی غیر مو¿ثر کرنے میں مدد ملی ہے، جس کے بارے میں لگتا ہے کہ وہ بینکوں کی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے بھرپور کوشش کی کہ وہ اس (فلسطینی اتھارٹی) کے نام پر آئی ایم ایف سے قرضہ منظور کروائے، لیکن اس کی یہ کوشش ثمر آور نہ ہو سکیں۔ قطر اس بات پر خوش ہو گا کہ فلسطینی اتھارٹی زوال پذیر رہے، جبکہ امریکہ، اسرائیل(اور سعودی عرب ) اس بات پر خوش نہ ہوں۔ درحقیقت محمود عباس دوڑتے ہوئے سعودی عرب گئے تاکہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے نام پر کچھ خیرات حاصل کر سکیں، کیونکہ اس کے بغیر فلسطینی اتھارٹی کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہے۔

امریکی حکمت عملی:ان چیزوں میں سے کچھ بھی امریکی سرمایہ کاری اور حکمت عملی کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ تمام امریکی حکمت عملیوں کے لئے سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی خطے میں رسائی کا سب سے آسان طریقہ کون سا ہے؟ اور تیل کی سستی قیمتیں اس کے علاوہ خطے کے ممالک کے درمیان انتشار کو کیسے ہوا دی جائے تاکہ وہ اپنے تیل کے منافع سے امریکہ میں بنا ہوا اسلحہ خرید سکیں اور پھر اس کو اپنے مخالفین پر استعمال کر کے خود کو حق بجانب ثابت کر سکیں اور یہ سب کچھ امریکہ کی اسلحہ ساز صنعت کو ترقی دینے کے لئے ہو رہا ہے۔  (جاری ہے)

(بشکریہ ”الجزیرہ آن لائن“ ....ترجمہ وقاص سعد)

مزید : کالم