”اخبارات کی ٹینشن اور خوشیاں“

”اخبارات کی ٹینشن اور خوشیاں“
”اخبارات کی ٹینشن اور خوشیاں“

  

ہمیںاس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جن دنوں اخبارات نہیں ہوتے تھے تو لوگوں کو ٹینشن کیسے ہوتی تھی؟ اگر آپ پورا اخبارپڑھنے کے بعدبھی سائیکاٹرسٹ کے پاس نہیں پہنچے یا آپ کا ہارٹ فیل نہیں ہوا تو پھر آپ واقعی بڑے دل گردے والے ہیں۔ ہم تو اخبار کی چار خبریں پڑھ لیں تو اتنی ٹینشن ہو جاتی ہے، جتنی اس چھوٹے ملازم کو تنخواہ ملنے کے بعد ہوتی ہے کہ وہ ان چار پیسوں کا کیا کرے؟ البتہ بیورو کریٹس اور اعلیٰ افسروں کی بات اور ہے۔ اخباری خبروں سے ہونے والی ٹینشن کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ جتنی ٹینشن آپ کو چار بیویاں اکٹھا ہو کر دے سکتی ہیں، اتنی ایک مکمل اخبار پڑھنے پر ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتایا کہ اسے بہت ٹینشن رہنے لگی تھی، جب ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے مشورہ دیا کہ اخبار چھوڑ دو یا بیوی! دونوں کی ٹینشن تم سے برداشت نہیں ہو سکتی۔ ایسے ہی جیسے ایک خاتون کا بچہ بہت ڈرتا تھا وہ اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس گئی تو ڈاکٹر نے مسئلہ سمجھ کر خاتون کو کریم لکھ کر دی اور کہا کہ بچے کے سامنے بغیر میک اپ کے نہ آئےے۔

پاکستان میں جتنی ٹینشن ہے، اس میں آدھی میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہے، جبکہ باقی آدھی میڈیا سے استفادہ کرنے والوں کی ۔ پاکستان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے آج کل اخبار نکالنا ایک مشکل کام ہے اور اسے پڑھنا اس سے بھی مشکل، مگر ہم نے تو اخبار نکال دیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہم اخبار کے مالک بن گئے ہیں، بلکہ ہم نے اسے اپنی روز مرہ کی زندگی سے نکال دیا ہے۔ اخبارات صرف ٹینشن ہی نہیں پھیلاتے، بلکہ آپ کو ہنساتے بھی ہیں، اگر ہماری بات کا یقین نہ آئے تو آپ کسی بھی اخبار کا صفحہ اول اٹھاکر دیکھ لیں، جہاں ہمارے سیاست دانوں کے بیانات ہوتے ہیں۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو اتنی ہنسی ڈاکٹر یونس بٹ کی تحریریں پڑھ کر نہیں آتی ہو گی، جتنے ہمارے سیاست دانوں کے بیانات آپ کو ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اب اگر غلام احمد بلور کا یہ بیان پڑھیں کہ ریلوے کی حالت بہت جلد بدل دوں گا تو ظاہر ہے آپ کو اس پر ہنسی ہی آئے گی، تاہم اگر آپ کو اس بات کا مطلب سمجھ آگیا تو شاید آپ نہ ہنسیں۔ ایسے ہی جیسے ایک محترمہ اپنی گاڑی مکینک کے پاس لے کر آئیں، ایک ہفتے بعد جب واپس لینے کے لئے پہنچیں تو مکینک کہنے لگا: ”محترمہ آپ کی گاڑی کی حالت میں نے بدل دی ہے“۔ محترمہ خوش ہو کر گاڑی لے کر چلی گئیں ،بعد میں پتہ چلا کہ ان کی گاڑی کی حالت اتنی بدل چکی تھی کہ پہلے وہ دس کلو میٹر چلنے کے بعد بند ہوتی تھی، پھر ہر دو کلو میٹر کے بعد بند ہونے لگی۔

دنیا کے دیگر ممالک میں وزراءاپنے محکموں کی کارکردگی بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، مگر پاکستان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں وزراءبری کارکردگی کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسے ہی جب 2007ءکے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم پہلے ہی راو¿نڈ میں باہر آ گئی تو کسی نے انضمام الحق سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ”ٹیم کی مجموعی پرفارمنس اتنی بری بھی نہیں رہی“۔ ظاہر ہے بری کارکردگی کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر بری کارکردگی ہوتی تو پہلے ہی راو¿نڈ میں سب سے پہلے باہر نہ آتی، ورنہ دوسری ٹیموں کو ٹورنامنٹ سے باہر آنے میں ڈیڑھ دو ماہ لگے، جبکہ ہماری ٹیم کی شاندار پرفارمنس دیکھئے کہ ایک ہفتے میں گھر واپس آگئی تھی۔

جب سے غلام احمد بلور وزیر ریلوے بنے ہیں، ان کی ”جدوجہد“ سے ہمارے ملک کے ماحول کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ پہلے ملک میںاگر 200 ٹرینیں چلتی تھیں تو اب ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے، وہ بھی ایسی ہیں کہ اگر کسی ٹرین نے کراچی دن بارہ بجے پہنچنا ہے تو وہ اگلے دن بارہ بجے پہنچتی ہے۔ ٹرینیں بند ہونے سے ماحول کو دھوئیں اور شور جیسی آلودگی سے کافی حد تک نجات مل گئی ہے۔ ہماری رائے میںتو غلام احمد بلور کے اس ماحول دوست جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، بلکہ انہیں ماحولیاتی تحفظ کا ایوارڈ ضرور دینا چاہیے۔ ویسے بھی اس حکومت نے لوگوں کو جتنے ایوارڈ دیئے ہیں، اتنے تو پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں بانٹے گئے ہوں گے، لہٰذا غلام احمد بلور کے لئے بھی ایک ایوارڈ سہی!

بات اخبارات کی ہو رہی تھی، جب سے الیکٹرانک میڈیا وجود میں آیا ہے (بلکہ جب سے بے لگام ہوا ہے) لوگوں کی اکثریت کی رائے میں اخبارات کی افادیت کم ہوئی ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ ہمارے خیال میں تو اخبارات کی افادیت اب بھی جوں کی توں ہے۔ اب بھی لوگ اخبار پڑھ کر ذہنی امراض کے معالجوں کے پاس جاتے ہیں، آج بھی پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان روز اس امید پر اخبارات کے صفحے الٹتے ہیں کہ شاید ان کی قسمت کھل جائے۔ آج بھی دن بھر کے تھکے ہارے وہ مزدور فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر رات کو سوتے ہیں، جنہیں اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ وہ صبح زندہ اٹھیں گے بھی یا کسی اندھی گولی، بم دھماکے یا کسی ہتھوڑا گروپ کا شکار ہو جائیں گے؟

الیکٹرانک میڈیا چاہے جتنی بھی ترقی کر لے، اخبارات کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اگر یقین نہ آئے تو ذرا غور کرکے دیکھیں کہ ٹی وی میں آپ اخبارات کی طرح روٹیاں نہیں لپیٹ سکتے، ٹی وی میں آپ سموسے، پکوڑے پیک نہیں کروا سکتے، ٹی وی سے آپ اپنے گھروں کے شیشے صاف نہیں کر سکتے۔ اور تو اور ہمارے ملک کے ایک جادوشو کرنے والے صاحب تو اخبار میں نہ صرف دودھ ڈال لیتے ہیں، بلکہ دودھ کو غائب بھی کر دیتے ہیں، جنہیں دیکھ کر ہمارے ایک دوست نے کہا کہ وہ ان جیسا جادو گر بننا چاہتا ہے۔ ہم نے پوچھا کیوں تو کہنے لگا: ”مَیں اخبار میں اپنی بیوی کو لپیٹ کر اسے غائب کر دوںگا....“تب ہمیں یقین ہو گیا کہ اخبارات کی افادیت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔  ٭

مزید : کالم