رمضان المبارک.... رحمت، بخشش اور مغفرت کا مہینہ

رمضان المبارک.... رحمت، بخشش اور مغفرت کا مہینہ
رمضان المبارک.... رحمت، بخشش اور مغفرت کا مہینہ

  

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے، خوش قسمت ہیں وہ لوگ ، جن کو اس مبارک و مقدس مہینے میں روزہ و عبادت کے ذریعے اللہ کو راضی کرنے کی توفیق ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی طرح امت محمدیہ پر بھی روزے فرض کئے تاکہ یہ اس کے ذریعے قویٰ و پرہیز گاری حاصل کرے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب کم از کم ستر گنا بڑھا دیتے ہیں، اس مہینے میں اُمت محمدیہ کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، سرکش شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور روزہ وہ مبارک عمل ہے، جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ خالص میرے لئے ہے اور مَیں ہی اپنے بندہ کواس کا اجر دوں گا، روزہ ہی وہ مبارک عمل ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے ذہنی و قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے، خواہشاتِ نفس دب جاتی ہیں، دل کا زنگ دُور ہو جاتا ہے، انسان گناہوں، فواحشات اور بے ہودہ باتوں سے بچ جاتا ہے اور روزہ کے ذریعے مساکین و غرباءسے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔

رمضان المبارک ہی وہ مقدس مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمائی، جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے، قرآن مجید اور احادیث نبوی میں رمضان المبارک کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت وارد ہے تاکہ مسلمان اس کے ثمرات و برکات سے محروم نہ رہ جائیں۔ حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے، جو بہت بڑا اور مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات(شب ِ قدر) ہے، جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے، جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کے قرب کو حاصل کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے اور یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے،جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کے مانند اس کا ثواب ہو گا، مگر اس روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم مَیں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیںرکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے، تو آپ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ، ایک کھجور سے افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ (جہنم) سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام( و خادم) کے بوجھ کو ہلکا کر دے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی، جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو، جو شخص کسی روزہ دارکو پانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے روز) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے کہ جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔

ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد مبارک نقل کیا ہے کہ میری اُمت کو رمضان المبارک کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئی ہیں، جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں۔(1) یہ کہ اُن کے منہ کی (روزہ کی وجہ سے) بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے،(2) یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دُعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں، (3) جنت ہر روز اُن کے لئے آراستہ کی جاتی ہے، پھر حق تعالقٰ جل شانہ، فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے(دُنیا کی) مشقتیں پھینک کر تیری طرف آئیں،(4) اس میں سر کش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان المبارک میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے، جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں،(5) رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ کیا شب ِ مغفرت، شب ِ قدر ہے؟ فرمایا نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ہیں کہ جب رمضان المبارک آتا تھا تو حضور اکرمﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دُعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب ہو جاتا تھا۔

ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ، رمضان المبارک میں عرش اُٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دُعا پر آمین۔کہا کرو۔

حضرت عمر ؓ حضور اکرمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اللہ کو یادکرنے والا شخص بخشا بخشایا ہے اور اللہ سے مانگنے والا نامراد نہیں ہے۔

حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک روایت ہے کہ رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی(فرشتہ) پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ اور اے بُرائی کے طلب گار بس کر (باز رہ) اور آنکھیں کھول.... منادی کہتا ہے کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اُس کی مغفرت کی جائے، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اُس کی توبہ قبول کی جائے، کوئی دُعا کرنے والا ہے کہ اُس کی دُعا قبول کی جائے، کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔

حضور اکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں، حضرت عبداللہ بن حارث ؓ ایک صحابی ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ مَیں حضور اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اس وقت آپ سحری نوش فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمائی ہے اس کو مت چھوڑنا.... حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کا روزہ چھوڑ دے تو رمضان کے علاوہ وہ پوری زندگی بھی روزے رکھے وہ اس کا بدل نہیں ہو سکتے۔ حضور اکرمﷺ کا ایک اور ارشاد ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے بدلہ میں سوائے بھوکا رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کو جاگنے(کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہ ملا.... یعنی اس کے غیبت و چغلی کے ذریعے اور حرام مال کے ساتھ اس کو افطار کر کے اس کے ثواب سے محروم ہو گیا....

خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس مبارک مہینے میں عبادت و ریاضت کے ذریعے اس کا حق ادا کرنے اور اپنے لئے بخشش و مغفرت اور آخرت میں جنت کا مستحق بننے کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین  ٭

مزید : کالم