پھر وہی غلط بخشی اشعار!

پھر وہی غلط بخشی اشعار!
پھر وہی غلط بخشی اشعار!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جناب منور جمیل قریشی، بہاولپور کے ایک صاحب فن شاعر ہیں۔ اُنہوں نے اپنے پسندیدہ اشعار پر مشتمل 850صفحے کی ایک کتاب” البم“ کے نام سے ترتیب دے کر الحمد پبلی کیشنز لاہور سے چھپوائی۔! حروف تہجی کے اعتبار سے ہزاروں اشعار پر مشتمل اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن غالباً2000ءمیں چھپا تھا۔ ]بارہ برس بعد رُوڑی کے دن بھی پھر جاتے ہیں[۔ ہم نے 22اپریل 2001ءکو اتوار کی صبح ساڑھے سات بجے پروگرام ”اُجالا“ میں راولپنڈی ریڈیو سے کتاب پر بھرپور تبصرہ نشر کر دیا تھا اور بہت سی غلطیوں کی طرف توجہ دلائی تھی، مگر بعد میں آنے والے ایڈیشن میں بھی وہ اغلاط برقرار ہیں۔ اس خیال سے بعض اہم اور ناگزیر اغلاط، بلکہ غلط بخشیوں کی طرف تحریری توجہ دلا رہا ہوں تاکہ فاضل مُرتب ِ کتاب آئندہ ایڈیشنوں میں آنے والی ادب دوست نسلوں کے لئے صحیح معلومات محفوظ کر جائیں۔

ایک مشہور زمانہ شعر ہے:

اسی خاطر تو قتل ِ عاشقاں سے منع کرتے تھے

اکیلے پھر رے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

یہ شعر پرانے وقتوں کے اُستاد شاعر خواجہ وزیر لکھنوی کا ہے، مگر مرتب کتابِ مذکورہ نے وزیر آغا کے نام سے درج کر رکھا ہے اور اسی خاطر کی بجائے اِسی ”باعث“ کر دیا ہے۔

کتاب کے صفحہ295 پر ایک شعر ناصر کاظمی کے نام سے یوں درج ہے:

جو مرے پاس بھی ہے دُور بھی ہے

کس طرح اس کو بُھلا دے کوئی

جبکہ یہ شعر ناصر کاظمی مرحوم و مغفور کا نہیں، اس خاکسار ناصرِ زیدی کا ہے۔ غلام علی، سجاد پطرس اور بہت سے نامور گلوکاروں کی آواز میںگائی ہوئی اس مشہور غزل کا مطلع ہے:

پُھول صحرا میں کھلا دے کوئی

مَیں اکیلا ہوں صدا دے کوئی

کتاب مذکورہ کے صفحہ503پر ایک بہت ہی مشہور شعر میر کے نام سے یوں مقطع کی صورت میں درج ہے:

شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

جبکہ یہ شعر خدائے سخن میر تقی میر کا نہیں، بلکہ محمد یار خاں امیر کا ہے اور صحیح یوں ہے:

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

کتاب کے صفحہ426 پر ایک مقطع پھر ناصرِ کاظمی کو بخش دیا گیا ہے کہ:

رچ بس گیا ہے ذہن میں ناصرِ کِسی کا روپ

اب کیا کریں گے ہم کوئی شہکار دیکھ کر

جبکہ یہ شعر ہر گز ناصرِ کاظمی کا نہیں میری، یعنی ناصرِ زیدی کی طالب علمی کے دور کی مشہور غزل کا مقطع ہے، مَیں نے غالب کی زمین میں انٹرکالجیٹ مشاعرے میں اِس غزل پر جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ سے اول انعام بھی حاصل کیا تھا۔ غزل کا مطلع ہے:

اقرار دیکھ کر کبھی انکار دیکھ کر

دل جل گیا ہے شوخی ¿ گفتار دیکھ کر

صفحہ149پر میرے، یعنی ناصر زیدی کے نام سے ایک شعر یوں درج ہے:

بسے ہوئے کبھی خوشبو میں نالے آتے تھے

یہ کیا کہ آج مَیں اک حرف ِ مختصر سے گیا

شعر تو بے شک میرا ہی ہے مگر پہلے مصرع میں ”نالے“آتے تھے نہیں، ”نامے“ آتے تھے.... ہونا چاہئے تھا۔

اور صفحہ81پر میرا، یعنی ناصرِ زیدی کا ایک شعر اس طرح درج ہے:

یہ حسیں رات یہ چاندنی یہ بہار

ایسے عالم میں تُو نہ جا، کچھ سوچ

جبکہ یہ ”حسیں رات“ نہیں ”حسیں رُت“ ہونا چاہئے تھا۔

معاصر روزنامہ”نوائے وقت“ لاہور میں پروفیسر اسرار بخا ری نے اپنے کالم ” نیرنگ ِ خیال“ مطبوعہ 25جون2012ءمیں ذیلی عنوان:”اللہ جانے کیا ہو گا آگے“ میں د و اشعار اُردو کے اور ایک فارسی شعر استعمال کیا ہے، مگر اس طرح:

تھے وہ تمہارے ہی آباءمگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے محو ِ غم فردا ہو

جبکہ ”جواب ِ شکوہ“ میں حضرت علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر دُرست شکل میں اس طرح ہے:

تھے وہ آباءتو تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟

ہاتھ پر ہاتھ دھرے محو ِ غمِ فردا ہو!

دوسرا شعر بھی حضرت علامہ ہی کا ہے جو یُوں رقم کیا گیا ہے:

نہیں نا اُمید اقبال اپنی کشت ِ ویراں سے

ذرا تم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

جبکہ پہلے مصرع میں نہیں کے بعد”ہے“ کا لفظ رہ جانے سے مصرع خارج از وزن ہو گیا ہے۔

صحیح شعر یوں ہے:

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ِ ویراں سے

ذرا تم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

 اور فارسی کا مشہور شعر اس طرح تحریر کیا گیا ہے:

چون نہد معمار خشت ِ اول کج

تاثر یا می روَد دیوار کج

اس فارسی شعر کے پہلے مصرعے کا دھڑن تختہ ہو جانے سے شعر اپنا اصل رُوپ ہی کھو بیٹھا۔ صحیح شعر یُوں ہے:

خِشت اوّل چُون نہد معمار کج

تا ثریّا می روَد دیوار کج

پروفیسر صاحب سے معذرت چاہتے ہوئے عرض ہے کہ مقصد غلطیاں پکڑنا نہیں، بلکہ شاگردوں تک صحیح معلومات پہنچانا ہے۔ اپنی ہیچمدانی کا اعتراف ہے تاہم کوشش کرتا ہوں کہ جو علم اساتذہ کی جوتیوں میں بیٹھ کر حاصل کیا ہے اُس کی صحیح ترسیل کرتا رہوں۔

ماہنامہ ”اصلاح“ کراچی کے شمارے نومبر، دسمبر 2011ء”سید الشہداءنمبر“ میں ایک مضمون بعنوان ”شہید ِ راہِ خدا کی عظمت و جلالت“ نظر سے گزرا۔ فاضل مضمون نگار مولانا ڈاکٹر ریحان حسن صاحب گوپال پوری نے اپنے متذکرہ مضمون میں ایک مشہور زمانہ شعر اس شکل میں اقبال بنارسی کو بخش دیا ہے:

اسلام کے دامن میں بس اِس کے سِوا کیا ہے

اک ضرب یَدّ اللہی اک سجدہ¿ شبیری

آج تک یہ شعر حضرت علامہ اقبال ؒ سے منسوب کیا جاتا رہا۔ ” ایں گُلِ دیگر شگفت“ ڈاکٹر ریحان حسن نے کسی” اقبال بنارسی“ کے نام کر ڈالا جبکہ در حقیقت یہ شعر حضرت وقار انبالوی کا ہے اور مُدتوں اُن کے ہفت روزہ جریدے ”سفینہ“ لاہور کی پریشانی پر اس طرح چھپتا رہا :

اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے

اک ضرب یَدّ اللہی، اک سجدہ¿ شبیری

ممتاز شاعر اور سابق صدرِ شعبہ اُردو گورنمنٹ سائنس کالج لاہور جناب حسن عسکری کاظمی نے روزنامہ ”دن“ مطبوعہ پیر2جولائی 2012ءمیں اپنے ایک مضمون”قصہ ایک خط لکھنے کا“ کا اختتام مرزا غالب کے ایک مشہور شعر پر کیا ہے، مگر شعر اس طرح لکھا ہے:

 قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

مجھ کو خبر ہے کیا وہ لکھیں گے جواب میں

جبکہ ہر عہد پر غالب مرزا اسد اللہ خاں غالب نے متذکرہ شعر کے دوسرے میں”مجھ کو خبر ہے“ ہر گز نہیں کہا ”مَیں جانتا ہوں“ کہہ رکھا ہے۔ صحیح مکمل شعر یوں ہے:

قاصد کے آتے آتے خط ایک اَور لکھ رکھوں

مَیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

حال ہی میں شائع ہونے والے موقر ادبی جریدے”تخلیق“ کے شمارہ جون2012ءکے عظیم وضخیم ” اظہر جاوید نمبر“ میں محترمہ سلمیٰ اعوان کا مضمون نظر سے گزرا۔ بعنوان:

”اظہر جاوید .... جو نہ جاتا کچھ دن اَور“

مضمون کی ابتدا میں وہ لکھتی ہیں۔

”اُس نے افتخار عارف کے اِس شعر کی نفی کر دی کہ:

جس دن میرا جنازہ ہو گا

اُس دن پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

جبکہ اس شکل میں وزن اوزان کا مکمل طور پر دھڑن تختہ ہو گیا ہے۔ دراصل یہ شعر کسی غزل کا نہیں، بلکہ نظم کے ابتدائی دو مصرعے ہیں اور صحیح صورت میں یوں ہیں:

جس روز ہمارا کوچ ہو گا

پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

حال ہی میں حکیم احمد شجاع مرحوم کی معرکہ آرا سرگزشت ”خُوں بہا“ کا نیا ایڈیشن منیر احمد منیر نے اپنے مکتبہ” آتش فشاں“ لاہور سے نہایت خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے، مگراس کا کیا کِیا جائے کہ صفحہ114 پر مرزا غالب کاایک مقطع اس طرح برقرار ہے:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

جبکہ مرزا غالب نے دوسرے مصرعے میں ہر گز ”دل کے بہلانے کو نہیں کہا“ دل کے خوش رکھنے کو ”کہہ رکھا ہے“ صحیح مصرع یوںہے:

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

مزید : کالم