چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام....

چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام....
چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام....

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوئس مجسٹریٹ کے لئے خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کی قربانی ہوئی اور ماہرین کے مطابق دوسری تیار ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں ایک سے لے کر دس تک وزیراعظم بھی نا اہل ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ماننا اور خط لکھنا ہو گا۔ یہ تو سوئس حکومت یا مجسٹریٹ کو لکھے جانے والے خط کی بات ہے جس کے بارے میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا۔ پیپلزپارٹی کا کوئی بھی وزیراعظم خط نہیں لکھے گا جبکہ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کہتے ہیں:”ہم نے خط لکھنے سے تو انکار نہیں کیا، لیکن جب تک آصف علی زرداری صدر ہیں اس وقت تک خط نہیں لکھا جا سکتا“ ان کے نزدیک یہ آئین کے خلاف ہے۔یہ تو ایک سیّاں جی کو خط لکھنے کا تنازعہ ہے۔ ادھر ہمارے عبدالرحمن ملک بہت سمارٹ ہیں۔ انہوں نے تو قطر حکومت کو خط لکھ بھی دیا کہ سیف الرحمن کو وہاں سے نکال کرپاکستان کے حوالے کیا جائے۔ یہ ایک جوابی حملہ ہے، کیونکہ عبدالرحمن ملک کہتے ہیں کہ سیف الرحمن سے جب تفتیش کریں گے تو وہ سب کچھ اگل دیں گے۔ یہ شریف برادران کے لئے کھلی دھمکی ہے۔ ادھر رانا ثناءاللہ بھی موجود ہیں جوعبدالرحمن ملک کو جھوٹا کہتے اور فرماتے ہیں سب کچھ سوئس بنکوں میں پڑے چھ ارب ڈالر بچانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اب یہ سلسلہ پھیلنے لگا ہے۔ نیب نے شریف فیملی کے خلاف سولہ سال پرانے ریفرنس کھولنے کے لئے نوٹس دیا ہے جواب میں کہا جا رہا ہے کہ ہائی کورٹ راولپنڈی کی ڈویژن بنچ نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے یہ ریفرنس کھل نہیں سکتے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان ریفرنسوں میں کچھ نہیں ہے۔ اگر کوئی الزام صحیح ہوتا تو پرویز مشرف کیوں نہ مقدمے چلاتے۔

پاکستانی عوام اس صورت حال سے پہلے ہی پریشان تھے اب جو تیزی آئی ہے تو اس پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے وہ سوچتے ہیں کہ یہ سیاست دان کیوں اپنے گندے کپڑے سر بازار دھو رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) خصوصاً چودھری نثار اور میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے صدر آصف علی زرداری کو مسلسل نشانہ بنایا گیا اس میں خود میاں محمد نوازشریف بھی حصہ ڈال دیتے تھے، ساتھ ہی وہ اعتدال کی بات بھی کرتے چلے جاتے تھے۔ ایک اعلان تو وہ برملا کرتے ہیں کہ کسی ماورائے آئین اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان کا سارا زور وقت سے پہلے عام انتخابات پر ہے۔ اب چیف الیکشن کمیشن کے متفقہ تقرر کے بعد حکومت کی طرف سے نگران حکومت کے لئے بھی ایسی ہی خواہش اور توقع کا اظہار کیا گیا ہے۔ میاں محمد نوازشریف نے بھی اس کی تائید کر دی ہے۔ انداز اُن کا اپنا ہے وہ کہتے ہیں۔”نگران سیٹ اپ کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام جماعتوں سے مشاورت کی جائے“۔ 20ویں ترمیم کے بعد تو یہ لازم ہے کہ نگران وزیراعظم کا تقرر بھی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت سے ہو گا۔ ڈیڈ لاک سے بچنے کے لئے یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ اگر یہ صورت حال پیدا ہوئی تو پھر چیف الیکشن کمشنر تقرر کریں گے۔ ہمارے خیال میں محاذ آرائی کی جو بھی صورت ہے وہ آئندہ عام آنے والے انتخابات کے پس منظر میں ہے اس لئے نگران وزیراعظم اور نگران حکومت کے لئے بھی اعتراض اور جواب اعتراض کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی طرح ہی فیصلہ ہو جائے گا اس کے لئے وقت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر جہانگیر بدر اور اسحاق ڈار کے مراسم یونیورسٹی والے ہی ہیں تو پھر ان کے درمیان مزاح اور تبادلہ خیال بھی ہو جاتا ہو گا دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ ہے۔

اس وقت تو سوال عبدالرحمن ملک اور رانا ثناءاللہ کا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے مسلسل حملوں کا اب جواب آنا شروع ہو گیا اور ابھی دو روز قبل ہی پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہو چکی۔ شوکت بسرا نے لاہور میٹ (مذبحہ ۔ جدید) کمپنی کے حوالے سے براہ راست الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ثبوت بھی پیش کریں گے کہ ٹھیکہ خادم اعلیٰ کے صاحبزادے اور داماد کی کمپنی کو قواعد کو نظر انداز کر کے دیا گیا۔ دوسری طرف سے اسے بے بنیاد الزام کہہ کر رد کیا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اس محاذ آرائی کا براہ راست فائدہ عمران خان کو پہنچ رہا ہے جو براہ راست دونوں جماعتوں کے خلاف کرپشن کے الزام لگاتے اور پھر اُن کی محاذ آرائی کو نورا کشتی قرار دیتے ہیں۔ یہ صورت حال واضح پیغام دیتی ہے کہ عام انتخابات آنے ہی والے ہیں، دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ انتخابی نوعیت کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ ان دو جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کی سیاست اچھے اثرات مرتب نہیں کرتی۔ یوں بھی بدعنوانی کے حوالے سے ان دونوں جماعتوں کی سنجیدگی کا اندازہ تو اس احتساب بل سے ہی ہو جاتا ہے جو قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کے پاس زیر التوا ہے۔ حکومت کی طرف سے آزاد اور خود مختار احتسابی ادارے کے قیام اور احتساب کے لئے باقاعدہ مسودہ قانون بنا کر پیش کیا گیا جسے قواعد کے مطابق مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا۔ اس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کی طرف سے نمائندگی ہے۔ بتایا گیا کہ مسلم لیگ(ن) کو اس مسودہ قانون کی بعض شقوں پر اعتراض ہے اور بعض تجاویز بھی ہیں۔ یہ سب پارلیمانی مشق کا حصہ ہے اور اعتراض کے ساتھ تجاویز کا مطلب ہی بحث و تمحیص ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی مجلس قائمہ مسودہ قانون پر رائے دے کر اسے ایوان کے سپرد کرتی ہے وہاں سے منظوری کے بعد ہی سینیٹ میں جاتا ہے اور منظور ہو کر قانون بنتا ہے۔ آخر وہ کون سا امر مانع ہے کہ اس مسودہ قانون پر بحث کے بعد اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر ایک باقاعدہ آزاد اور خود مختار احتسابی ادارہ اور نظام وجود میں آ جائے گا جو سب کا احتساب کر سکے گا۔

قارئین! ہم آپ کی اطلاع کے لئے یہ عرض کرتے چلیں کہ نظام کو الٹ پلٹ کرنے والی قوتیں اپنی جگہ کام کر رہی ہیں کہ اُن کو آمرانہ طرز ہی اچھا لگتا ہے لیکن حکمران اتحاد کی جماعتیں مسلم لیگ(ن) اور ایوان سے باہر والے بھی ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے اس لئے سو فیصد یقین ہے کہ معاملات سدھر جائیں گے اور نگران سیٹ اپ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا صرف یہ طے کرنا باقی ہے کہ انتخابات اسی سال ہونا ہیں یا پھر اگلے سال مارچ میں کرائے جائیں گے۔ یہ امکان موجود ہے کہ انتخابات اسی سال ہو جائیں اس کے لئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا پہلے اور باقی جماعتوں کا اس کے بعد اتفاق ہونا ضروری ہے اور اس کے امکانات روشن ہیں۔ ہمارے میڈیا والے بھائی نہ معلوم جہانگیر بدر اور اسحق ڈار کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ دونوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تو ہیں، لیکن شہر دار (گھر تھوڑے فاصلے پر تھے)، ہم جماعت اور یونیورسٹی فیلو تو ہیں۔ دونوں کا تعلق ہیلی کالج آف کامرس سے رہا ہے اور دونوں کے مراسم بھی اچھے ہیں۔  ٭

مزید : کالم