اگلے الیکشن اور وزیراعظم کی خوداعتمادی

اگلے الیکشن اور وزیراعظم کی خوداعتمادی

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ عام انتخابات قریب ہیں، برتری حاصل کریں گے، جان دے سکتے ہیں جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر میں اٹھ مقام میں جلسہ¿ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے، اپوزیشن کا واویلا بے بنیاد ہے، انہی کی تحریک پر غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی ۔

عمومی طور پر یہ قیاس آرائیاں تو ہورہی ہیں کہ حکومت اچانک الیکشن کا اعلان کرکے اپوزیشن کو سرپرائز دے گی، حکومت کے کئی عہدیدار نومبر کے مہینے میں الیکشن کی بات کررہے ہیں جبکہ بعض دیگر حضرات کا کہنا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ حکومت کی مدت اگلے سال مارچ تک ہے۔ اس لئے اگر الیکشن مارچ میں بھی ہونے ہیں، تو بھی دسمبر تک نگران سیٹ اپ قائم ہوجائے گا، جس کے لئے میاں نواز شریف اور عمران خان کا مطالبہ ہے کہ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں سے مشاورت کی جائے۔

اب جناب وزیراعظم نے اگر واضح کردیا ہے کہ الیکشن قریب ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ الیکشن سال رواں کے آخر تک ہوجائیں گے۔ دوسری جانب قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لئے پوری طرح تیار ہے، حکومت آج اعلان کرے تو الیکشن کرائے جاسکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ حکومت جلد سے جلد ابہام دُور کرے، اور جب بھی انتخابات کرانے ہیں، تاریخ کا اعلان کردیا جائے تاکہ مخالف جماعتیں بھی اپنی تیاری کرسکیں۔ حکومت کو اگر یقین ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں بھی برتری حاصل کرے گی تو یہ اور بھی ضروری ہے کہ وہ عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرلے اور جو افراد یا جماعتیں یہ دعوے کرتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا ہے، اُن کے دعووں کی قلعی بھی کھل جائے گی اور حکومت کو اپنا دعویٰ صحیح ثابت کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔ ان حالات میں بہتر ہے حکومت اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے نئے الیکشن کا اعلان کردے جو قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ شدومد سے کررہی ہیں۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...