نگران سیٹ اَپ کے لئے وسیع تر مشاورت

نگران سیٹ اَپ کے لئے وسیع تر مشاورت

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اَپ کے لئے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر تمام جماعتوں سے بات کی جائے۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال کے شروع میں منظور ہونے والی بیسویں آئینی ترمیم کا تقاضا ہے کہ عام انتخابات کے لئے ایک آزاد الیکشن کمیشن اور غیر جانبدار عبوری سیٹ اَپ بنایا جائے۔ اس ترمیم کے تحت حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ دونوں معاملات پر اپوزیشن سے مشاورت کرے۔ میاں نواز شریف نے اس ضمن میں خود بھی اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ تمام جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی گزشتہ روز یہ مطالبہ کیا تھا کہ حکومت نگران سیٹ اپ کے لئے پارلیمینٹ سے باہر کی جماعتوں سے بھی مذاکرات کرے۔

نگران وزیراعظم اور چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لئے حکومت، قائد حزب اختلاف سے با معنی مذاکرات کی پابند ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا معاملہ سامنے آیا تو اس وقت یوسف رضا گیلانی کو سزا ہو چکی تھی اور حزب اختلاف انہیں وزیراعظم ماننے کے لئے تیار نہیں تھی، چنانچہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے اس سلسلے میں کوئی مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا گیا، لیکن وہاں بھی یہ کافی عرصے مُعلق ہی رہا۔ بالآخر مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر جناب فخر الدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا، جن کا نوٹیفکیشن ہو چکا ہے اور وہ آج اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے ہیں۔ جس طرح باہمی مشاورت اور خوش اسلوبی سے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہوگیا اور اس ضمن میں وسیع تر اتفاق رائے دیکھنے میں آیا۔ کسی جانب سے نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر کوئی انگلی نہیں اُٹھی، البتہ اِکا دُکا آوازیں یہ سُننے میں آئیں کہ اُن کی عمر زیادہ ہے ۔ اس لئے وہ یہ بھاری ذمہ داری ادا نہ کر پائیں گے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ جس طرح حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے معاملے پر کشادہ دلی اور وسیع الظرفی کا مظاہرہ کیا اور حزب اختلاف کی تجویز کو پذیرائی بخشی۔ اسی طرح نگران سیٹ اپ بھی باہمی مشاورت سے قائم ہو جائے گا۔ میاں نواز شریف نے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں سے مشاورت کی جو تجویز پیش کی ہے۔ وہ بڑی صائب ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمینٹ سے باہر کی جماعتوں سے بھی مشاورت کریں گے۔ عمران خان بھی تمام جماعتوں سے مشاورت کی بات کر رہے ہیں۔ اس لئے اگر اس کا اہتمام ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کوئی ایسا نگران سیٹ اپ قائم ہو جاتا ہے جس پر سارے سٹیک ہولڈر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہوگا اور اُمید کی جاسکتی ہے کہ اس طرح مشاورت کے بعد جو سیٹ اپ قائم ہوگا۔ اُسے عوامی پذیرائی ملے گی اور اس سیٹ اپ کے تحت جو انتخابات ہوں گے، اُن کا اعتبار بھی قائم ہوگا، جو آج تک نہیں ہو سکا۔

 پاکستان میں انتخابات کی تاریخ بدقسمتی سے کوئی زیادہ اچھی نہیں رہی۔ قیام پاکستان کے فوری بعد نئے انتخابات کا اہتمام کر دینا چاہئے تھا، تاکہ جو لوگ کاروبار حکومت چلانے پر مامور ہوں۔ عوامی حمایت کی قوت اُن کی پشت پر ہوتی، لیکن بدقسمتی سے بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے بعد ملکی قیادت محلاتی سازشوں میں اُلجھتی چلی گئی۔ قائداعظمؒ کے دستِ راست لیاقت علی خان کو جلسہ عام میں قتل کر دیا گیا اور اس کے بعد ریشہ دوانیوں کا ایسا دور شروع ہوا، جس میں ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا چلا گیا۔ مملکت کے دو بڑے عہدوں گورنر جنرل اور وزیراعظم کے درمیان بداعتمادی کی فضا قائم ہوئی۔ پورے کامل عشرے تک یہ فضا قائم رہی اور پھر فوجی حکومت قائم ہوئی، جس نے اپنا نیا فلسفہ .... بنیادی جمہوریت.... متعارف کرایا،جس کے تحت جمہوریت کو ” فوجی ضابطوں“ کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔ بالواسطہ انتخابات ہوئے، لیکن یہ نظام چند برس ہی چل سکا۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے اس نظام کو ریورس کر کے 70ءمیں پہلے عام انتخابات کرائے، جس کا نتیجہ تسلیم نہ کیا گیا اور ملک دولخت ہوگیا۔ دوسرے عام انتخابات 1977ءمیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ہوئے، لیکن ان پر دھاندلی کا الزام لگا اور ان کے خلاف عوامی تحریک کا لاوا اس طرح بہہ نکلا کہ چند ماہ بعد جنرل ضیاءالحق کی سربراہی میں ملک میں تیسری فوجی حکومت قائم ہوگئی، جس نے کئی سال بعد85ءمیں غیر جماعتی الیکشن کرائے، جس کے تحت قائم ہونے والی حکومت تین سال سے زیادہ نہ چل سکی اور خود جنرل ضیاءالحق نے جونیجو حکومت اور اسمبلی ختم کر دی۔ جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے کے بعد جماعتی الیکشن ہوئے، بے نظیر بھٹو کی حکومت بنی، لیکن بمشکل ڈیڑھ سال چل سکی، بعد میں نواز شریف، پھر بے نظیر اور ایک بار پھر نواز شریف کی حکومتیں بنیں، لیکن بدقسمتی سے کِسی بھی دور میں انتخابات کا اعتبار قائم نہ ہوا۔ ہر ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگاتا رہا اور یہ سلسلہ آج تک نہیں رُکا۔

بیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیراعظم کا تقرر قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کرنے کا جو اہتمام کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اُمید بندھی ہے کہ اس طرح جو الیکشن ہوں گے۔ اُن کا اعتبار قائم ہوگا اور ماضی کی روایات کو دھرایا نہیں جائے گا۔ میاں نواز شریف کی تجویز پر اگر عمل درآمد ہو جاتا ہے اور تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کے ساتھ، چاہے وہ پارلیمینٹ کے اندر ہوں یا باہر اگر با معنی مشاورت کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو یہ ہماری قومی زندگی کا اہم واقعہ ہوگا۔ جمہوریت کی بنیاد ہی دراصل مشاورت پر ہے۔ اس نظام میں من مانی کی گنجائش نہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پھر جمہوریت کا دعویٰ اُسے زیب نہیں دیتا۔ جمہوریت ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں لوگوں کی رائے ہی بالآخر حتمی سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے اگر تمام جماعتیں مل کر نگران سیٹ اپ بناتی ہیں، جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، تو پھر ایسے الیکشن ہونے کا امکان پیدا ہوگا، جن کے نتائج پر انگلیاں نہیں اُٹھائی جاسکیں گی اور ہر کوئی مطمئن ہوگا۔ انتخابات ایسا عمل ہے جس میں کسی ایک جماعت کو ہی اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔ ایک جماعت، یا جماعتوں کے کسی اتحاد کی حکومت بنتی ہے تو دوسری جماعتوں کو حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ جمہوری ملکوں میں حزب اختلاف کو ” گورنمنٹ ان ویٹنگ“ کہا جاتا ہے اور وہ اگلے الیکشن میں حکومت بنانے کے لئے تیاری کرتی اور اپنا لائحہ عمل طے کرتی ہے۔ ہمارے ہاں اگر یہ نظام مستحکم ہو جاتا ہے تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ اس دوران یہ خبر آئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں میاں نواز شریف کے خلاف جو ریفرنس بنائے گئے تھے وہ دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد اگر میاں نواز شریف پر دباو¿ ڈالنا یا پھر اُن سے بعض شرائط منوانا ہے تو یہ کوئی اچھا طرز عمل نہیں۔ اسی طرح سیف الرحمن کو قطر سے بلانے کے لئے حکومت نے خط لکھ دیا ہے اور اس کا مقصد بھی میاں صاحبان پر دباﺅ ڈالنا ہی معلوم ہوتا ہے،جس سے ایک نیا کھیل شروع ہو سکتا ہے۔ تمام جماعتوں کو ماضی کو فراموش کر کے آگے بڑھنا چاہئے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی نئی صحت مند روایات قائم کرنی چاہئیں۔ جمہوریت بنیادی طور پر مخالفین کو برداشت کرنے کا تقاضا کرتی ہے اور اگر مخالفین کو حیلوں، بہانوں سے تنگ کیا جاتا رہے، تو پھر جوابی کارروائیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے ان حالات میں بہتر طرز عمل یہی ہے کہ ماضی کو فراموش کر کے مستقبل کی جانب بڑھا جائے۔

مزید : اداریہ