”کون بنے گا پُلس کا چودھری“

”کون بنے گا پُلس کا چودھری“
”کون بنے گا پُلس کا چودھری“

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضور ہمارے ہاں چودھراہٹ تو چلتی ہی پولیس اور پٹوار پر ہے ، جس کے قبضے میں ایس ایچ او اور ایس پی ہوں گے، جس کے نیچے پٹواری لگاہو گا ، وہی لوگوں کو ساتھ ملانے اور الیکشن جیتنے کا اہل ہو گا مگر ٹھہرئیے، دوڑ صرف سیاستدانوں کے درمیان ہی تو نہیں ہے کہ پولیس ان کے ماتحت ہو، وہ ضلعی پولیس کے سربراہ کی سالانہ خفیہ رپورٹ لکھنے کے مجاز ہوں، یہ تو ہماری اصل حکمران بیوروکریسی بھی چاہتی ہے کہ پولیس اس کے ماتحت ہو، کوئی کمشنر، کوئی ڈی سی او یا کوئی مجسٹریٹ حکم دے تو وہ عوام پر لاٹھیاں اور گولیاں چلا سکے ، بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ پولیس کے اعلیٰ افسران چاہتے ہیں کہ وہ خود مختار ہوں، وہ اپنے سے جونیئر افسران کو کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ ان کے اجلاسوں کی صدارت کرتے رہیں۔ آئی جی پنجاب بائےسویں گریڈ میں ہے تو وہ اپنے سے گریڈوں میں کہیں جونئیر ہوم سیکرٹری کے ماتحت کیسے ہو سکتا ہے کہ اس سے سینئر تواس کے کئی ڈی آئی جی ہیں ،اسی طرح اگر لاہور پولیس کا سربراہ اکیسویں گریڈ میں ہے تو وہ ساڑھے اٹھارہ گریڈ کے ڈی سی او کے نیچے کیسے لگ سکتا ہے ۔ پُلس اپنا چودھری خود بننا چاہتی ہے ورنہ ضلعی نظام میں دئیے ہوئے طریقہ کار کے مطابق اگرڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن بن جاتے تو پولیس کے احتساب اور جواب دہی کا ضلعی سطح پر ہی نظام قائم ہوجاتامگرعوام کے لئے کلیہ وہی رہا کہ پُلس نوں آکھاں رشوت خور تے فیدہ کی، کراندا پھراں پچھوں ٹکور تے فیدہ کی۔ ان کمیشنوں کی غرض و غایت یہ تھی کہ عوام پولیس کی چیرہ دستیوں کے خلاف ان سے رجوع کر سکیں دوسرے عوام اور پولیس میں خلاو¿ں جتنی بڑی خلیج کو کم کیا جا سکے ۔پولیس والوں نے کہیں کہیں تھانہ اور محلہ کونسلیں بنائیں بھی تو ان میں اپنے ہی ٹاو¿ٹ بھرتی کر لئے، وہ بے چارے بھی ایس ایچ او ز اور اپنی کمائی بہتر کرنے پر لگے رہے، پولیس اور عوام کے تعلقات انہوں نے کیا خاک بہتر بنانے تھے۔

پولیس کے1861ءکے نظام کے خاتمے کے بعداسے جنرل پرویز مشرف کے عطا کردہ پولیس آرڈر2002ءکے تحت ہی چلایا جا رہا ہے حالانکہ یہ آرڈر بھی ضلعی نظام کے خاتمے اورکچھ پولیس کی طرف سے منہ زور ہونے کی خواہش کے بعدعملی طور پر ناکارہ ہو چکا ہے، یہ آرڈر ڈسٹرکٹ پولیس یونٹس قائم کرنے کے لئے تھا جو پرانے بلدیاتی نظام کی واپسی کے بعد اب قائم نہیں ہو سکتے۔ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران ارکان اسمبلی تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ پولیس کا کسی بھی جگہ پر کوئی کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، اس کے لئے انہیں ہر صورت ایوان وزیراعلیٰ کے بائی پاس سے گزر کر ہی آنا ہو گا جہاں ڈی ایس پی لیول تک پولیس کے تبادلوں اور تقرریوں کے احکام جاری کرنے کا محیر العقول بیوروکریٹک نظام کام کر رہا ہے۔ ارکان اسمبلی ذاتی ہیلو ہائے اور اثر و رسوخ سے تھانوںوغیرہ میں اپنے کام نکلوا لیتے ہیں۔ماضی قریب کی بات ہے، چودھری پرویز الٰہی کے دورمیں جنرل پرویز مشرف نے ضلعی ناطم یعنی ایک سیاستدان کو ضلعی پولیس کے سربراہ کی اے سی آر لکھنے کا اختیار دے دیا تھا۔ پولیس اور عوام کے منتخب نمائندوںکے ماتحت ہوجائے، یہ تو وردی کی توہین ہے لہذا اسی دور میں بہت ساری ترامیم ہوئیں جن میں ضلعی ناظمین سے اے سی آر تحریر کرنے کے اختیار کی واپسی بھی تھی۔ اب ایشو یہ ہے کہ پولیس کا نیا نظام بننا چاہئے جوپچھلے کئی سال سے التوا کا شکار ہے۔ پولیس کے پاس ایف آئی آر ہی کی طاقت نہیں، اس کے پاس بندوق بھی ہوتی ہے اور تھانے میں چھتر بھی لہذا جو بھی پولیس کا چودھری بن جائے گا وہی اصل چودھری ہو گا جیسا کہ شہباز شریف کے پچھلے دور میں گوجرانوالہ سے میرے ایک بہت ہی محترم رکن اسمبلی صرف اس وجہ سے شہباز شریف سے شدید ناراض رہے اور بعد میں قاف لیگ کی طاقت میں اضافے کا باعث بنے کہ اگر انہیں پنڈ کے کانسٹیبل کی ٹرانسفر کرانے کا اختیار ہی نہیں وہ کاہے کے چودھری ہیں۔ پولیس کی چودھراہٹ کی جنگ اب بھی کسی حد تک سیاستدان،بیوروکریسی اور خود پولیس کے اعلیٰ افسران جیسی مقدس گائیں لڑ رہی ہیں جبکہ غریب عوام ان فیصلوں کے منتظر ہیں کہ ان کے ہجوم پر لاٹھی چارج اور گولی کا حکم کون دے گا،ہوٹروں والی گاڑیوںمیں پھرنے والے وڈے وڈے افسروں کی اے سی آر کون لکھے گا، تفتیش کی تبدیلی کا اختیار کس کے پاس ہو گا ۔لاہور میں نہر کو سرحد بناتے ہوئے اگر دارلحکومت کی پولیس کودو حصوں میں بھی تقسیم کر دیا جائے گا، ایک اور پولیس لائن بن جائے گی تو پھر بھی اردو اخبارات پڑھنے والے پیارے غریب لوگو،انگریزی اخبارات میں پولیس کے نئے نظام کے حوالے سے جاری بحث سے تمہارا کوئی تعلق نہیںبنے گا،یہ بڑے لوگوں کی جمع تفریق بلکہ ضرب تقسیم ہے، تمہارے لئے تو ایف آئی آر کا اندراج اتنا ہی مشکل رہے گا جتنا قیام پاکستان سے اب تک رہا ہے، تم سڑکوں پر اتنے ہی ڈنڈے اور تھانوں میں اتنے ہی چھترکھاتے رہو گے جتنے صدیوں سے کھاتے آرہے ہو، کچھ بہتری آئے گی توہر دور کی طرح رشوت کے ریٹ میں آئے گی لہذا پولیس کا کوئی بھی نظام ہو، دعا کرو کہ اللہ ہمیں اور تمہیں ، سب کو تھانوں سے دوراور محفوظ ہی رکھے۔

مزید : کالم