رویت ہلال کو سعودی عرب کے ساتھ مشروط کرنا ضروری نہیں ، مفتی پوپلزئی

رویت ہلال کو سعودی عرب کے ساتھ مشروط کرنا ضروری نہیں ، مفتی پوپلزئی

پشاور( محمد سلیم غیاث)ممتاز عالم دین اور رویت ہلال کے اختلاف سے ملک گیر شہرت پانے والے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ رویت ہلال کے حوالے سے ہمارا سعودی عرب سے کوئی تعلق ہے نہ ہی ہم نے اسے سعودیہ سے مشروط کیا ہے اپنے ہاں رویت کا اعلان ہم خود شرعی اصولوں کے تحت کرتے ہیں وہ گزشتہ روز پاکستان سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے ایک سوال کے جواب مین انہوں نے کہا کہ ہم نے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لئے باضابطہ اجلاس تو آج بروز جمعہ طلب کیا ہے لیکن مشاورت کے ساتھ یہ طے پایا کہ علماءکرام جمعرات (گزشتہ شب) بھی ہنگامی اجلاس منعقد کریں اور رویت ہلال کے بارے میں شہادتیں اکٹھی کی جائیں ہم نے پشاور ، مردان، چارسدہ اور بنوں سے اطلاعات اکٹھی کیں بنوں کے نواحی علاقہ میڈیان سے دو افراد نے شہادت دی کہ ہم نے خود چاند دیکھا ہے ان شہادتوں کی تصدیق کا یہ طریقہ کار وضع کیا گیاہے کہ رویت ہلال کے شاہدین مجلس میں خود حاضر ہو کر باقاعدہ شہادت قلمبند کرائیں ان دونوں صاحبان کا انتظار کیا جا رہا ہے ایک سوال کے جواب میں مفتی پوپلزئی کا کہنا تھا کہ رویت ہلال مسلکی اختلاف کا معاملہ نہیں اور نہ ہی اسکے معیار مختلف ہین بلکہ ہم سب امام ابو حنیفہؒ کے ماننے والے ہین ان کی تشریح کے مطابق رویت ہلال کا فیصلہ ہونا چاہئیے ان کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کے معاملے میں سائنسی طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے بشر طیکہ کوئی بھی سائنسی اصول شریعت سے متصادم نہ ہو اگر کوئی سائنس کا طریقہ کار شریعت سے متصادم ہوا تو اُسے چھوڑ کر قرآن و سنت کا طریقہ اپنائیں گے معاملہ رویت ہالاک کے جلد یا تا خیر سے دیکھنے کا نہیں بلکہ درست تشریح کا ہے اگر ہمیں مستند شہادت مل گئی تو روزہ رکھنا فرض ہے یہ کوئی ضروری نہیں کہ سعودی عرب نے چاند کا اعلان کر دیا ہے تو ہم پر بھی یہ واجب ہو گیا ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...