عبدالقادرگیلانی کی جیت میں سرکاری مشینری کابھرپور استعمال ہوا :شہریوں میں چہ میگوئیاں

عبدالقادرگیلانی کی جیت میں سرکاری مشینری کابھرپور استعمال ہوا :شہریوں میں ...

ملتان (راﺅ نعمان علی سے) قومی اسمبلی کے حلقہ 151 کے ضمنی الیکشن میں مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر گیلانی اور شوکت بوسن کے مابین تھا۔ ”شوکت بوسن بمقابلہ حکومت“ حلقے کے عوام میں بحث اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ اس حلقے کے وہ عوام جن کا کسی سیاسی جماعت یا امیدوار سے تعلق نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کو جتوانے کےلئے وفاق نے سرکاری مشینری کا بھرپور استعمال کیا۔ حلقے کے عوام کے مطابق پہلی انوکھی بات تو یہ تھی کہ بدھ کے روز بغیر حکومتی اعلان کے ملتان میں سی این جی اسٹیشنز کھلے رہے اور دوسری بڑی انوکھی بات یہ تھی کہ ملتان میں دو روز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی نہیں کی گئی اور حلقے میں یہ تاثر دیا گیا کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مخالف امیدواروں اور ان کے حامیوں نے یہ الزامات عائد کئے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا مقامی عملہ ‘ پوری ضلعی انتظامیہ اور پولیس پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کر ہی تھی۔ اس وقت جو کمشنر ملتان ہیں وہ اس سے قبل ڈی سی او ملتان اور وزیراعظم کے پی ایس او تعینات رہے ہیں اور دوسری جانب ضلعی پولیس کے سربراہ عامر ذوالفقار خان بھی سابق وزیراعظم ک خاص ”افسر“ ہیں۔ حلقہ 151 میں یہ بات بچے بچے کی زبان پر تھی کہ 3 سے 6 ماہ کے کنٹریکٹ پر محکمہ وقف متروکہ املاک اور محکمہ ڈاک میں بھرتی کیا ہے جن میں بیشتر ملازمین گارڈز کی تھیں اور الیکشن سے ایک روز قبل رات گئے تک لوگوں کے گھروں میں جا کر انہیں ملازمتوں کے تقرر نامے دئیے گئے۔ اسی ضمن میں چیئرمین وقف متروکہ املاک بھی پچھلے دنوں سے ملتان میں رہے۔ حلقے کے عوام کی زبان پر ایک اور بات بڑی عام تھی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم بھی الیکشن کی آخری رات تک تقسیم کی گئیں جن کی رقوم رکی ہوئی تھی انہیں بھی ادائیگی کی گئی تھی بلکہ بعض خواتین کو اس پروگرام کے تحت ایڈوانس رقم بھی دی گئی۔ حلقے کے عوام نے بھی ضمنی الیکشن کے نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوام کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ پہلے 100 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق شوکت بوسن پانچ ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت رہے تھے اور اس کے بعد کچھ دیر کے لئے نتائج پر بریکیں لگیں اور پھر آج تک نتائج پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت میں رہے۔ حلقے کے عوام کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر حاجی سکندر بوسن خود ضمنی الیکشن میں حصہ لیتے تو شاید گیلانی خاندان کو شکست ہوجاتی اور تحریک انصاف کو اس ضمنی الیکشن میں سکندر بوسن کو ٹکٹ دینا چاہیے تھا۔ تاہم اپنے حلقے میں سیاسی ساکھ بچانے کےلئے سکندر بوسن کا اپنے بھائی کو بطور آزاد امیدوار کھڑا کرنا ان کا اچھا فیصلہ تھا اس سے گیلانی خاندان کو یہ بات مزید پتہ چل چکی ہے کہ اس حلقے میں بوسن گروپ ہی حقیقی معنوںمیں ان کے سیاسی اور دیرینہ حریف ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 151 کے انتخاب کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے بستی نو ‘ بستی صالح مہے ‘ لطف آباد اور دیگر بستیوں میں ترقیاتی کام جاری رہے اور ٹھکیداروں کی جانب سے مشینیں لگا کر سڑکوں کی تعمیر کرتے رہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ٹھکیداروں کو سڑکوں کی تعمیر کےلئے ایڈوانس کی ادائیگی کی ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...