میرے خلاف کیس کھولنے والے خوش رہیں مگر قوم کی جان چھوڑ دیں‘نواز شریف

میرے خلاف کیس کھولنے والے خوش رہیں مگر قوم کی جان چھوڑ دیں‘نواز شریف

کراچی (آئی این پی، ثناءنیوز) مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آصف علی زرداری کا سندھ کارڈ اب ختم ہوگیا ہے ‘مسلم لیگ (ن) اب صوبے میں زور پکڑ رہی ہے، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا پیپلز پارٹی نہیں جانتی، میرے خلاف کیسیز کھولنے والے خوش رہیں مگر قوم کی جان چھوڑ دیں ، سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کریں گے، کسی پر کیچڑ اچھالنا ہماری سیاست نہیں ‘ ایشوز پر بات ہونی چاہیے‘پاکستان کو بہت زخم لگے اور لگ بھی رہے ہیں‘1947ءسے ملک کو صحیح راہ پر ڈالا جاتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ‘ پاکستان کو آئین اور قانون کے مطابق چلایا جاتا تو اس کی مثال پوری دنیا میں نہ ہوتی‘ پاکستان کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ہفتوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی باتیں گڈی گڈے یا بچوں کا کھیل نہیں‘اتحادی اور مفاد پرست ٹولہ پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار ہے ، سید جلال محمود شاہ کی پارٹی ایس یو پی سے جن 7 نکات پر معاہدہ کیا ہے اس پر مکمل عملدرآمد ہوگا ۔ وہ جمعرات کو مقامی ہوٹل میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ ہونے والے سیاسی و انتخابی اتحاد کے لئے ہونے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ اور سید شاہ محمد شاہ نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ معاہدے کے 7 نکات اقبال ظفر جھگڑا نے پڑھ کر سنائے۔ تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف اور شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگائے گئے۔ تقریب میں مسلم لیگ کے رہنماﺅں پرویز رشید، سردار مہتاب عباسی، آصف کرمانی، ممنون حسین، سلیم ضیائ، الٰہی بخش سومرو، امداد چانڈیو، ماروی میمن، سورتھ تھیبو، علی اکبر گجر، رانا احسان، دودو مہری، خالد شیخ سمیت دونوں پارٹیوں کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے ممتاز بھٹو نے زبانی معاہدہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم انہیں ہمیشہ ساتھ رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن 7 نکات کی بات کی جارہی ہے وہ میرا اپنا ایجنڈا ہے ہم سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے باقی ملک میں جتنے چاہے صوبے بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم ہم نے شروع کرائی جبکہ 1991 میں پانی کی تقسیم کا معاہدہ بھی ہم نے شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرستی نے ملک کا برا حال کردیا ہے، اسلام آباد میں وہ اتحادی جماعتوں حکومت میں بیٹھی ہیں جنہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے، ایسی حکومت کا اللہ حافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کراچی کیس میں نشاندہی کی تھی کہ کراچی میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جن کے شدت پسند گروپ موجود ہیں اور ان جماعتوں میں ایسے دہشت گرد موجود ہیں جن میں ایک مجرم نے ایک سو سے زائد افراد کو قتل کیا ہے اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ ہونا باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کراچی میں ایک روز میں بیسیوں افراد مارے جاتے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے، حکومت نے پولیس میں کرپٹ لوگوں کو بھرتی کیا ہے، کراچی سمیت سندھ میں بھتہ خوری، اغواءبرائے تاوان، لوٹ مار عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آصف زرداری ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر عمل کرتے تو ہم آج بھی ان کے ساتھ ہوتے اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے تو ہم انہیں خوش آمدید کہتے مگر افسوس کہ زرداری نے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا بلکہ معاہدے کا مذاق اڑایا گیا جس کی وجہ سے ہم نے ان سے علیحدگی اختیار کی۔ انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ 19 دنوں میں کرپشن ختم کرنے کی بات کررہے ہیں وہ دراصل عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، حکومت چلانا کوئی پتلی تماشہ یا گڈے گڑیا کا کھیل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گالی گلوچ ہمارا شیوہ نہیں ہے، ہم زرداری حکومت کے خلاف ایشو پر بات کرتے ہیں، ہماری منزل اقتدار نہیں بلکہ اقدار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسا نظام ہو جس میں مفاد پرستی کو چھوڑ کر حب الوطنی ہو تاکہ ملک ترقی کی بلندی پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اینکر سیاستدانوں کے ساتھ ٹی وی پروگرام بھی کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے بھی ہیں یہ عمل کسی طرح مناسب نہیں ہے، تنقید مثبت ہونا چاہیئے۔ میاں نواز شریف نے بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے لوگ محب وطن ہیں اور انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے ڈکٹیٹر کی لائی ہوئی 8 ویں ترمیم کو ختم کرنے میں نواب اکبر بگٹی اور سردار عطاءاللہ مینگل کا اہم کردار تھا لیکن آمر وقت نے اکبر بگٹی جیسی شخصیت کو طاقت کے نشے میں ہم سے جدا کردیا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر ڈکٹیٹر جمہوری نظام کو چلنے دیں اور مارشل لاءجیسی لعنت نہ مسلط کریں تو ملک کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سیاسی جماعت وہ ہے جو پورے ملک کو بلاتفریق نسل و صوبہ ایک نظر سے دیکھے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کی تقسیم کے اس لئے مخالف نہیں کہ جلال محمود شاہ سے معاہدہ کرنا تھا مسلم لیگ (ن) کبھی سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے پیسے لے کر پگڑی اچھالنا اچھا نہیں چند ہفتوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں یہ گڈی گڈے یا بچوں کا کھیل نہیں کہ راتوں رات ایسا ہو جائے اس کیلئے حکومت کو ایک جامع حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک چلانے کےلئے سمجھداری سے بات کرنی چاہیے۔ کراچی میں بھتہ خوری عام ہے‘بلوچستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے حکمران مکمل بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور میں اپنی ذات نہیں بلکہ ملک کیلئے سیاست کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت بھتہ خوری اوردہشتگردی کو ختم نہیں کرا سکی۔ کہاں ہیں وہ اختیار جن کے تحت دہشتگردوں کو پکڑا جاتا ہے۔ ہمارے دور میں وفاق اور صوبوں میں مثالی رشتہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں مفاد پرستی کی نہیں ترقی کی سیاست ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسا ہو جس میں مفاد پرستی کی سیاست نہ ہو۔ نواز شریف نے کہا کہ کسی پر کیچڑ اچھالنا ہماری سیاست نہیں ‘ ایشوز پر بات ہونی چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ ڈکٹیٹروں نے پاکستان میں تباہی کی ۔ پاکستان کو بہت زخم لگے اور لگ بھی رہے ہیںآمروں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایاہے جس کا مداوا ہم سب کو مل کر کرنا ہے۔اس سے قبل کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پہلے ایٹمی دھماکہ کیا تھا اب اقتدار میں آ کر اقتصادی دھماکہ کریں گے۔ فوج آنے کی افواہیں مخصوص لوگ اڑا رہے ہیں سب کو معلوم ہے کہ نیب ریفرنسز کھلوانے کے پیچھے کون ہے۔ صدر سے ملاقات خفیہ نہیں بلکہ میڈیا کے سامنے ہو گی۔ ایک سوال پر 25 جولائی کو جمہوریت کی بساط لپیٹی جا رہی ہے۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں کون لوگ یہ باتیں گھڑتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ باتیں بند کیوں نہیں ہوتیں۔ غیر ذمہ دار لوگ چاہے وہ میڈیا سے ہوں یا کسی اور طبقہ سے ان کو غیر ذمہ دارانہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ نواز شریف جدہ جائیں گے یا جیل؟ نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان میں موجود ہیں جدہ جائیں گے بھی تو عمرہ کے لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ انقلاب لائے ہیں اس وقت سندھ اور پورا پاکستان خوشگوار انقلاب مانگ رہے ہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی انقلابی فیصلے کیے اور انقلابی کام کیے ایک سوال پر کہ آپ کے خلاف ایک اشتہاری مہم چلائی جا رہی ہے اور نیب کیسز کھولے جا رہے ہیں اس کے پیچھے کون ہے تونواز شریف کا کہنا تھا کہ جس کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کا نام سب جانتے ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں شیخ رشید کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔

مزید : صفحہ اول