پاکستان کا افغان فورسز کیلئے 2کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

پاکستان کا افغان فورسز کیلئے 2کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

لندن، اسلام آباد، کابل (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن، اے پی اے، آئی این پی، بیورو رپورٹ) پاکستان ، برطانیہ اور افغانستان کے درمیان کابل میں سہ فریقی مذاکرات میں سمجھوتہ طے پاگیا ہے جس میں امن کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیاگیا ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ جو دہشتگرد افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ پاکستان میں بھی عدم استحکام چاہتے ہیں کابل میں افغان صدر حامد کرزئی، پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں افغانستان میں امن واستحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا تینوں ملکوں کے درمیان افغان سرزمین پر ہونے والے پہلے سہہ فریقی مذاکرات میں افغان امن کے لئے مربوط کوششیں کرنے پر اتفاق کیاگیا اس سے پہلے افغان صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈیوڈ کیمرون نے کہ اکہ طالبان کے لئے واضح پیغام ہے کہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا انتظار نہ کریں کیونکہ عالمی برادری لمبے عرصے تک افغان حکومت کے ساتھ تعاون اور ان کی حمایت جاری رکھے گی افغانستان کو غیرمستحکم کرنے والے دہشت گرد پاکستان میں بھی عدم استحکام چاہتے ہیں اس موقع پر افغان صدر نے کہا کہ امن عمل افغان حکومت کا اہم مقصد ہے جو جاری رکھاجائے گا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے افغان دارالحکومت میں پاکستان کے سفارت خانے کی نئی عمارت قائداعظم کمپلیکس کا افتتاح بھی کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے افغان صدر حامد کرزئی سے کابل میں ملاقات کی جس میں افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی ، افغان شدت پسندوں کی پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے ، دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات ، افغان مفاہمتی عمل سمیت دیگر اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے افغان فورسز کے لیے بیس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور افغانستان کے مفاہمتی عمل کا بھرپور حامی ہے افغان صدر نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کی تعمیر نو میں اہم کردار پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اہم پیش رفت ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کابل میں وفد کے ہمراہ افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی پاکستانی وفد میں مشیر داخلہ رحمن ملک ، افغانستان میں پاکستان کے سفیر اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر شامل تھیں جبکہ افغان وفد صدر حامد کرزئی کی قیادت میں مذاکرات میں شریک ہوا وفد میں افغان وزیر خارجہ ، قومی سلامتی کے مشیر ، وزیر داخلہ ، وزیر تجارت اور نائب وزیر خارجہ شامل تھے ۔ اس موقع پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور افغانستان میں ہر اس مفاہمتی عمل کا حامی ہے جسے افغان عوام اور قیادت کی حمایت حاصل ہو انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام خطے اور پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار بنیادوں پر امن کا قیام یقینی بنایا جائے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی چاہتے ہیں اور مہاجرین کی رضا کارانہ طورپر واپسی تب ہی ممکن ہے جب افغانستان میں امن واستحکام ہو وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نیٹو فورسز کے انخلاءاور تبدیلی کے عمل میں افغانستان کے ساتھ پوری طرح تعاون کے لیے تیار ہے وزیراعظم نے افغان فورسز کی تربیت کے لئے بیس ملین ڈالر کا اعلان کیا اس موقع پر وزیراعظم نے باہمی تجارتی روابط کو مزید بڑھانے پر زور دیا وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام بھی صدر کرزئی تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم 2.5 ارب ڈالر ہے اور اس میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں افغان صدر حامد کرزئی نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو تجارتی روابط میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے ۔علاوہ ازیں افغان نیشنل فرنٹ کے سربراہ احمد ضیا مسعود جو شمالی اتحاد کے سابق سربراہ احمد شاہ مسعود کے بھائی ہیں کی قیادت میں وفد نے کابل میں نوتعمیرشدہ پاکستانی سفارتخانے میں وزیراعظم راجہ پرویزاشرف سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں ہزارہ حزب وحدت کے رہنماحاجی محمد محقق، عبدالرشید دوستم کی جماعت جنبش ملی کے رہنمافیض اللہ زکی ،شوری مجاہدین کے رہنما جنرل جرات بھی شریک ہوئے ۔ افغان نیشنل فرنٹ کے رہنما ﺅں نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا ۔نیشنل فرنٹ کے سربراہ ضیا احمد مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان اورافغانستان کے تعلقات درست سمت پر گامزن ہیں ۔ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے جوافغانستا ن میں قیام امن میں کیلئے سب سے اہم کردارادا کررہا ہے ۔حاجی محمد محقق نے کہا کہ وہ پاکستان اورافغانستان کے مابین اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اورافغانستان میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی قدرکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان نیشنل فرنٹ افغانستان کے آئین پریقین رکھنے والے ہرشخص سے مذاکرات کیلئے تیارہے ۔افغانستان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرعارف اللہ پشتون نے کہا کہ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کا دورہ بروقت ہے جودوطرفہ تعلقات کومستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم طالبان سے بات کرنا چاہتے ہیں اوریہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے بغیرممکن نہیں۔ سینیٹرعارف اللہ پشتون نے کہا کہ دہشتگردی ہمارامشترکہ دشمن ہے اس سے مل کرنمٹنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ باہمی تجارتی اور تعلقات کوفروغ دینے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔شوریٰ مجاہدین کے رہنما جنرل جرات نے کہا کہ افغان قوم سوویت یونین کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردارکو ہمیشہ یاد رکھے گی۔حالت جنگ میں پناہ گزینوں کی آبادکاری بھی پاکستان کا ہم پراحسان ہے۔دونوں ملکوں کو مستقبل میں روابط کو مضبوط بنانا چاہیے ۔وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے اچھے تعلقات اورمضبوط روابط چاہتے ہیں افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ایک پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ افغانستان سے شدت پسندوں کے پاکستانی علاقوں پر حملے افسوسناک ہیں افغانستان اور نیٹو فورسزشدت پسندوں کے حملے روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔اس سے قبل وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے اعزاز میں کابل کے صدارتی محل میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جبکہ افغان صدر حامد کرزئی نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ۔ وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف جب افغانستان کے صدارتی محل میں پہنچے تو ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا ۔ افغان صدر حامد کرزئی نے مرکزی دروازے پر آکر ان کا استقبال کیا ۔ افغان نیشنل آرمی کے دستے نے وزیراعظم پاکستان کو سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے افغان صدر حامد کرزئی نے اپنی کابینہ کے ارکان کا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے تعارف کرایا جبکہ وزیراعظم پرویز اشرف نے بھی اپنے وفد کا افغان صدر سے تعارف کرایا اس سے قبل وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کابل پہنچے تو ہوائی اڈے پر افغانستان کے وزیر تجارت انوار الحق عابدی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ افغانستان روانگی سے قبل چکلالہ ایئر بیس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے ہماری قربانیاں بے شمار ہیں اور عالمی برادری بھی ہماری قربانیوں کو قبول کررہی ہے ۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستانی قوم بہادر قوم ہے ہم نے افغانستان میں امن کے لئے بے حد قربانیاں دی ہیں جن کو عالمی برادری بھی قبول کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا عالم انسانیت پر فرض ہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران افغان قیادت سے سرحدی دراندازی اور شدت پسندوں کے حملے روکنے سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان کے دورہ کے موقع پر پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن فورسز سے ملاقات کی اور جنگ زدہ ملک سے اپنی فوجوں کے انخلاءکے فیصلے کا دفاع کیا فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان پہنچنے کے بعد صوبہ ہلمند کے لئے روانہ ہو ئے جہاں جنوبی شہر لشکرگاہ میں برطانوی فوجیوں کا بیس کیمپ قائم ہے برطانوی وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان میں فوجوں میں کمی کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو اتحاد کو ایک دفاعی بجٹ کی ضرورت تھی جو کہ قابل قبول بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے فوجوں کے انخلاءکے مرحلے کو ہم ہوش و حواس منظم اور عملی طریقے سے نبھائیں گے اور اس سال ہزاروں فوجیوں کا انخلاءعمل میں آئے گا کیونکہ افغان افواج سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو چکی ہیں جس کے باعث ہم اب اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی لا سکتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول