مردوں کی نسبت عورتیں اچھی خرےداری کرتی ہےں، گھریلو خواتین

مردوں کی نسبت عورتیں اچھی خرےداری کرتی ہےں، گھریلو خواتین

لاہور (لیڈی رپورٹر) شاپنگ خواتےن کی کمزوری ہوتی ہے۔ کپڑے جےولری کی خرےداری تو ہر موسم مےں خواتےن کی ضرورت ہے۔ فیشن کے اس دور مےں ڈےزائننگ والے ملبوسات اور برانڈڈ جےولری تو وقت کی ضرورت بن گئی تہواروں پر خاص طور پر خرےداری کی جاتی ہے۔ لےکن اپنیجےب کا خےال رکھنا چاہےے پہلے وقتوں مےں اےک سو روپے مےں دل بھر کہ خرےداری کر لےتے تھے۔ لےکن آج کل کے دور مےں تو ہزاروں روپے کا پتہ نہےں چلتا خواتےن خرےداروں مےں اس لئے آگے ہوتی ہےں۔ کےونکہ ےہ ذمہ داری خواتےن کو ہی نبھانی ہوتی ہے۔ مرد حضرات کو چےزوں کا صحےح پتہ نہےں چلتا 100روپے کی چےز اےک ہزار روپے مےں لے کر آجاتے ہےں۔ ان خےالات کا اظہار خواتےن نے رمضان خرےداروں کے حوالے سے اور روزنامہ ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کےا عشاءرحمان مسز شگفتہ مےس روبےنہ کنول نے کہا کہ خرےداری خواتےن کی کمزوری ہوتی ہے۔ روز تو اےک نےا فےشن نکل آتا ہے۔ جو چےز فےشن مےں ان ہو اس کا پہننا آپ کو بھی اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو جسم کو ڈھانپنے کےلئے کپڑے زےب تن کئے جاتے تھے لےکن اب تو ےہ ضرورت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معےار پر بھی پورا اترنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان آےا ہے، تو اس حوالے سے خصوصی تےارےاں کی ہےں اور اس کے ساتھ ساتھ کوشش کی جا رہی ہے، کہ عےد کی تےارےاں بھی کر لی جائے پہلے ہی کپڑے اور جوتے مہنگے ہےں عےد کے نزدےک آنے کے بعد تو ان کی قےمتےں آسمان سے باتےں کرنے لگےں گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1