واسا ملازم مین ہول کی صفائی کے دوران دم گھُٹنے سے ہلاک ،ایک کو بچا لیا گیا

واسا ملازم مین ہول کی صفائی کے دوران دم گھُٹنے سے ہلاک ،ایک کو بچا لیا گیا

لاہور( جنرل رپورٹر+کرائم رپو رٹر) رنگ روڈ کے قریب زیر زمین مین ہول کی صفائی کے دوران واسا کا ملازم درشن مسیح دم گھٹنے سے دم توڑ گیا جبکہ مین ہول میں اترنے والے دوسرے لبھامسیح کو ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر اسے بچالیا۔اطلاع ملنے پر واسا کے دیگر ملازمین بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوںنے مقامی رکن پنجاب اسمبلی میاں نوید انجم ان کے کو ارڈینیٹر شفیق اور واسا کے ایم ڈی میاں عبداللہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ملازمین نے کہا کہ واسا کئی کئی فٹ گہرے مین ہول کی صفائی کے لئے ملازمین کو کوئی سازو سامان نہیں دیتا ۔ ملازمین کو ماسک گیس سلنڈر کے بغیر موت کے کنواں میں اتار دیا جاتا ہے۔ جمعرات کی صبح سویرے مقامی رکن اسمبلی میاں نوید انجم ان کے کوارڈنیٹر شفیق اور ای ڈی او ریاض نے کہا کہ ایم ڈی واسا میاں عبداللہ کا حکم ہے کہ فوری طور پر مین ہول میں اتر جاﺅ۔آج ہر ہال میں مین ہولوں کی صفائی کرو انہوں نے کہا کہ جس پر ملازمت جانے کے خوف سے جب انہیں ایم ڈی واسا کا حکم ملا تو وہ بغیر حفاظتی انظامات کے موت کے کنواں میں اتر گئے اندر جاتے ہی گیس دونوں میں سے درشن مسیح کے لئے موت بن گئی دوسرے کو بیہوشی کی حالت میں نکال کر مقامی ہسپتال داخل کرا دیا گیا ، جس سے اس کی جان بچ گئی۔جواں سالہ درشن مسیح اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔نعش پہنچنے پر درشن کے گھر میں کہرام مچ گیا ماں اور بہنیں دیواروں کو ٹکریں مار کر روئیں بوڑھا باپ نیامت مسیح ہوش خواس کھو بیٹھا اور انہوںنے کہا کہ ایم ڈی واسا اور ایم پی اے نوید انجم ان کے بیٹے کے قاتل ہیں جنہوں نے بغیر سازو سامان کے موت کے کنواں میں اتار دیا اگر ضروری حفاظتی سامان سے لیس کرکے اسے مین ہول میں اتارا جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1