سنیارٹی ‘میرٹ کاقتل عام جونیئر پروفیسروں کو میڈیکل کالجز کا پرنسپل لگادیا گیا

سنیارٹی ‘میرٹ کاقتل عام جونیئر پروفیسروں کو میڈیکل کالجز کا پرنسپل لگادیا ...

لاہور( جاوید اقبال) ٹیچنگ ہسپتالوں میں اعلی پوسٹوں پر جونیئر کا تقرر کرکے میرٹ کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے تحت محکمہ صحت نے میرٹ اور سنیارٹی لسٹ کا جنازہ نکالتے ہوئے میڈیکل کالج کو جونیئر ترینپرنسپلز کے حوالے کردیا ہے جس سے محکمہ صحت میں سینئر پروفیسرز میں بد دلی پھیل گئی ہے اور انہوںنے بے یقینی اور مایوسی میں کام کرنا کم کردیا ہے جہاں تک کہ جن اکا دکا سینئر پروفیسرز کو پرنسپل لگایا ہے انہیں بھی قوانین اور میرٹ کے برعکس لاہور کے دور دراز علاقوںمیں نئے کالجز میں بطور پرنسپل بھیجا ہے۔ جو وہاں جانے کے لئے تیار نہیں۔ پنجاب میں میڈیکل ایجو کیشن کی ”کریم“کہلانے والے جن کا سنیارٹی لسٹ میں میرٹ 2سے 14نمبر تک ہے انہیںبھی نظر انداز کیا گیا ہے سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر آنے والے پروفیسرز کا پرنسپل لگنے کا میرٹ صوبائی دارالحکومت ہے جو شروع سے اہم ہے مگر ان قوانین پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔ میرٹ کے برعکس پرنسپل لگانے کا آغاز 1999 میں ہوا جب میرٹ کے برعکس سنیارٹی لسٹ میں 174 نمبر پر موجود ڈاکٹر عامر عزیز کو علامہ اقبال میڈیکل کالج کا چیف ایگزیکٹو تعینات کر دیا گیا ۔ جس کے خلاف احتجاج ہوا اور بد دلی پھیل کر اس چیف ایگزیکٹو کو محکمہ صحت سے استعفیٰ دینا پڑا جس کا سلسلہ آج تک رکا نہیں۔ جہاں تک کہ صوبہ کی سب سے بڑی اور واحد میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر بھی میرٹ پر پورے نہیں اترتے لاہور میں واقع کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم کا میرٹ لسٹ میں 64واں نمبر ہے لیکن جب انہیں وی سی لگایا گیا تو اس وقت میرٹ لسٹ میں ان کا 101 نمبر تھا اس طرح یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وی سی کے لئے کنٹریکٹ پر ڈاکٹر نوید کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد تعینات کردیا گیا ۔ اس طرح میڈیکل کالجز کے پرنسپل کے ساتھ ساتھ صوبہ کی دو میڈیکلیونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز بھی میرٹ اور سنیارٹی لسٹ کے برعکس لگائے گئے ہیں روز نامہ پاکستان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میرٹ لسٹ میں نمبر ون پروفیسر ڈاکٹر عطیہ مبارک کا پرنسپل لگانے کا میرٹ لاہور میں بنتا تھا مگر محکمہ صحت نے میرٹ لسٹ کا جنازہ نکالتے ہوئے پنجاب میں سینئرز پروفیسر کو کئی سالوں کے بعد جب ان کی مدت ملازمت میں چند ماہ باقی ہیں انہیں میڈیکل کالج گوجرانوالہ میں پرنسپل لگادیا اسی طرح میرٹ اور سنیارٹی لسٹ میں دو تا 9 نمبر میں موجود پروفیسر کو نظر انداز کرکے نمبر 10 پر آنے والے پروفیسر فیصل مسعود کو لاہور میں سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا پرنسپل لگایا گیا ہے۔پروفیسر تحسین النبی، پروفیسر اطہر حمید، پروفیسر اویس پروفیسرز میں جن کو نظر انداز کیا گیا ان پروفیسرز کا ماضی بے داغ بتایا جاتا ہے۔ ان میں سے میرٹ نمبر 8 کے پروفیسر صدیق خان راولپنڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ہیں جو چند روز بعد ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ مگر جب انہیں پرنسپل لگایا گیا تومیرٹ کے برعکس سنیارٹی لسٹ کے 7 پروفیسرز کو نظر انداز کرکے ان کی حق تلفی کی گئی اس طرح چلڈرن ہسپتال کے ڈپٹی پروفیسر طاہر مسعود کو جب ڈپٹی لگایا گیا تو ان کا لسٹ میں 64 واں نمبر تھا۔ڈاکٹر فیصل مسعود کو جب پرنسپل لگایا تو ان سے پہلے 85 ایسے سینئر پروفیسروں کو نظر انداز کیا گیا ۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ہٹائے جانے والے پرنسپل جاوید اکرم کو جب وہ سنیارٹی لسٹ میں63 نمبر پر تھے انہیں پرنسپل لگا دیا گیا اب ان کی جگہ میرٹ لسٹ میں 26 ویں نمبر والے پروفیسر محمود شوکت کو علامہ اقبال میڈیکل کالج کا پرنسپل لگا دیا گیا ۔ اسی طرح میرٹ اور سنیارٹی لسٹ میں 36 ویں نمبر پر آنے والے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پروفیسر سردار فخر امام کو فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کا پرنسپل لگا دیا گیا ہے۔ ان سے 32قریب لاہور میں سینئر پروفیسرز موجود ہیں، اسی طرح میرٹ اور سنیارٹی لسٹ میں 37 ویں نمبر پر آنے والے ڈاکٹر ضمیر احمد اکبر جو کہ ایڈمنسٹریشن کا تجربہ نہیں رکھتے انہیں میڈیکل کالج ساہیوال میں پرنسپل لگا دیا گیا ہے۔ اسی طرح 52 سینئر پروفیسرز کو چھوڑ کر میرٹ لسٹ میں 53 نمبر پر موجود پروفیسر بلال ذکریا خن کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا چیف ایگزیکٹو لگا دیا گیا ہے سنیارٹی لسٹ اور میرٹ لسٹ میں 63ویں نمبر پر موجود ڈاکٹر انجم حبیب وہرا کو پرنسپل جنرل ہسپتال میں جی ایم آئی تقرر کیا گیا ہے۔ میرٹ لسٹ میں 104 نمبر والے ڈاکٹر اسد اسلم خان کو وی سی لگا دیا گیا ۔میرٹ لسٹ میں 94 نمبر پر موجود ڈاکٹر محمد عثمان سخی کو پرنسپل بہاولپور میڈیکل کالج تعینات کررکھا ہے۔ سنیارٹی لسٹ میں میرٹ نمبر 104 پر آنے والے ڈاکٹر نیاز احمد کو پرنسپل میڈیکل کالج ڈی جی خان تعینات کردیا گیا ہے۔ میرٹ لسٹ میں 108 نمبر پر جونیئر موسٹ پروفیسر ڈاکٹر نوشین عمر کو میرٹ کے برعکس خواجہ صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کی پرنسپل لگا دیا گیا ہے بتایا گیا ہے انہیں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی پرزور سفارش پر لگایا گیا ہے۔ اسی طرح میرٹ نمبر 114 موجود ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی کو فیصل آباد میں میڈیکل کالج کا پرنسپل لگایا گیا ہے۔ اسی طرح کنٹریکٹ پر پرنسپل لگانے یا دوبارہ ملازمت دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ کئی سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے پروفیسر عمیص محمد کو دوبارہ کنٹریکٹ پر میڈیکل کالج سرگودھا کا پرنسپل تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر عابد کو بھی کنٹریکٹ پر میڈیکل کالج گجرات کا پرنسپل لگایا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے محکمہ صحت کے سینئر پروفیسر میں بددلی پھیل گئی ہے۔میرٹ لیسٹ میں پہلے نمبر پر آنے والے یعنی پروفیسرز جن میں پروفیسر اظہر حمید، پروفیسر اویس پروفیسر ریاض تحسین،تحسین ساہی وغیرہ ایسے نام ہیں جن کے ماضی بے داغ ہیں اور ایڈمنسٹریش کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے اپنے اپنے شعبہ میں قابلیت اور ایمانداری کے جھنڈے گاڑ دیئے مگر انہیں اسی لئے پرنسپل نہیں لگایا گیا ہے کہ ان کے پاس سیاسی اور سرکاری سفارش موجود نہیں۔سینئرز کو جونیئرز کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا کام 1999 میں ہواتھا جو جاری و ساری ہے۔بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں ہی آئندہ دنوں میں ایک جونیئر پرفیسر کو پرنسپل لگانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...