ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو نان آپریشنل ڈیوٹیوں سے واپس بلانے کا فیصلہ

ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو نان آپریشنل ڈیوٹیوں سے واپس بلانے کا فیصلہ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب بھر میں ایلیٹ پولیس فورس کے تمام اہلکاروں کو سیکیورٹی اور نان آپریشنل ڈیوٹیوں سے فوری طورپر واپس بلانے کافیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ انفرادی طور پر مختلف اداروں اور شخصیات کے ساتھ تعینات پولیس کے گن مینز کو بھی واپس رپورٹ کرنے کے لئے کہاگیا ہے، یہ فیصلہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب حبیب الرحمان کی سربراہی میں سنٹرل پولیس آفس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب، ملک خدا بخش اعوان،CCPOلاہوراسلم ترین،ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نسیم الزمان، ایڈیشنل آئی جی R&Dانور ورک،ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس سرمد سعید، ایڈیشنل آئی جی PHPخان بیگ،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب ناصر خان درانی اور ایڈیشنل آئی جی CTDمشتاق سکھیرا کے علاوہ DIGآپریشن لاہوررائے طاہر، ڈی آئی جی آپریشن پنجاب سہیل خان، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مرزا شکیل، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹرعارف مشتاق، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور چودھری شفیق،سی ٹی او لاہورڈاکٹر عثمان انور،ایس ایس پی ایم ٹی جعفر عباس نے شرکت کی، میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کانسٹیبلری کی بٹالین 8کے 2ہزاراہلکار واپس بلائے گئے ایلیٹ اہلکاروں کی جگہ ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے، اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیاکہ ماہ رمضان میں پنجاب بھر میں مسجدوں اور تراویح کے مقامات پر سیکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی لیکن حساس مساجد اور اداروں پر 8ہزار اضافی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیاگیا، میٹنگ میں صوبے بھر کے تمام ہاسٹلز، ہوٹل، نجی سکول، سرائے، رئیل ا سٹیٹ کے دفاتر اور رینٹ اے کار کمپنیوں کا ریکارڈ مرتب کرے اور ان کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا اور ہوٹلوں اورہاسٹلز میں شناختی کارڈ کے بغیر کمروں کی بکنگ نہیں کی جاسکے گی، رئیل اسٹیٹ کے دفاتر، رینٹ اے کارکمپنیوں کورجسٹریشن نہ کرانے پر ان کے خلاف ریل سٹیٹ اور شاپس اینڈ سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت سخت کارروائی کرنے کافیصلہ کیاگیا، اس کے علاوہ پولیس کے سیکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کرنے والے افراد اور اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ پولیس کی بجائے پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیز کے گارڈز تعینات کریں۔

مزید : صفحہ آخر