پنجاب اسمبلی، اجلاس کے منفی پہلو اپوزیشن، مثبت اقدامات حکومتی پلڑے میں

پنجاب اسمبلی، اجلاس کے منفی پہلو اپوزیشن، مثبت اقدامات حکومتی پلڑے میں

لاہور(نوازطاہرسے)حکومت کا ’توا ‘ لگانے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے بلایا جانے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس کی عدم دلچسپی کے باعث حکومت نے اپنے مفاد میں استعمال کرلیا ۔ اس اجلاس کے تمام منفی پہلواپوزیشن کے کھاتے اور مثبت اقدامات حکومتی پلڑے میں آگئے۔یہ اجلاس بلانے کا مقصد اپوزیشن نے خود ہی کِل کردیا جبکہ پنجاب حکومت نے پولیس کی سفارش پرمحکمہ پولیس کو سرکاری ملازمین کے احتساب کے قانون” پیڈا“ سے آزاد کردیا ۔۔ جمعرات کو دو گھنٹے دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہونے والا اجلاس کی بدمزگی کے بغیر روایتی شوروغل کے برعکس پھیکا پھیکا چلتا رہا تاہم اجلاس کے اختتام سے پہلے حکومتی رکن میاں رفیق نے تھوڑا سے رنگ بھر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر اور اسمبلی چیمبر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے ان کی کئی تحریکیں کِل کردی جاتی ہیں جبکہ اسی نوعیت کی شیخ علاﺅالدین کی تحریکوں کو پذیرائی ملتی ہے۔ اسلئے وہ آج سے اس ایوان کا بائیکاٹ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنا جملہ بدل لیا اور واضح کیا کہ اب وہ ایوان کے بالائی حصے میں بیٹھا کریں گے تو سپیکر نے کہا کہ وہ بھی تو ایوان ہے، جہاں بھی بیٹھیں یہ ان کی مرضی ہے تاہم ان کا شکایت کا ازالاہ کرنے کیلئے وہ اسمبلی کے سٹاف سے دریافت کریںگے ۔ پیپلز پارٹی کے رائے شہاہجہان نے میاں رفیق کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ شیخ علاﺅالدین کو وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا آشیر باد حاصل ہے جنہیں ایوان کا ماحول خراب کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے شیخ علاﺅالدین نے وزیرتعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک ایسے سکول کی تقریب میں مہمان بنے جس کی عمارت ہی قبضے کی زمین پر بنائی گئی ہے ۔وزیرتعلیم کی تردید پر انہوں نے کہاکہ اگر میں ثابت نہ کر سکا تو اسمبلی نشست سے مستعفی ہوجاﺅں گا جس پر وزیر تعلیم نے انہیں جواب دیا کہ وہ یادہ تیز نہ بنیں میں تو الحمراءحال میں ایک تقریب میں گیا تھاجہاں پوزیشن ہولڈرز کی پذیرائی کی گئی اور بعد میں انہیں ایوانِ وزیراعلیٰ میں بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔آج کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسراءکی عدم موجودگی میں ان کی وہ تحریکِ التوا زیر بحث لائی گئی جو اسمبلی میں جمع کرانے سے قبل انہوںنے بڑے وثوق اور شدو مد سے سے کہا تھا کہ لاہور میٹ کمپنی میں وزیراعلیٰ کی بیٹی اور داماد کا بزنس ہے اور اس میں گھپلے ہوئے ہیں مگر وزیرقانون نے آج جب اس تحریک کا جواب پیش کیا تو ایوان میں اس کا مسودہ لہراتے ہوئے کہا کہ اس تحریری مسودے میں ان ناموں کا ذکر نہیں کیا گیا جو تین روز قبل ایوان میں بیان کئے گئے تھے اور میری وضاحت پر بدمزگی پیداہوئی تھی ۔ وزیر قانون نے سپیکر سے درخواست کی کہ بوگس الزام لگانے والوں کیخلاف ایکشن لیا جائے تو سپیکر نے ریمارکس دیے کہ اگر شوکت بسرا ءیہاں موجود ہوتے تو میں ان سے بات کرتا لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ یہاں اراکین ٹھوس ثبوت کے بغیر الزامات لگاتے ہیں ۔نا اہل ہونے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نشست پر ضمنی الیکشن کے باعث آج پیپلز پارٹی کی قیادت اسمبلی سے غائب تھی تاہم ایوان میں موجود چند اراکین بھی وزیرقانون کے بیان پر خاموش بیٹھے رہے اور کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہ کیا البتہ پی پی پی کے رائے شاہجہاںنے یہ ضرور کہا کہ کچھ لوگوں کی سیاست کی بنیاد ہی الزام تراشی پر ہے حالانکہ یہاں کارکردگی کی بنیاد پر بات کی جانا چاہئے جس وقت انہوں نے یہ الفاظ ادا کئے اس وقت بھی وہ پارلیمانی اداب کے برعکس سپیکر کے ریمارکس کے دوران بول رہے تھے لیکن سپیکر نے رائے شاہجہان کے الفاظ مناسب خیال کرتے ہوئے انہیں ٹوکے بغیر اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ اس ایوان کو الزام تراشی کیلئے استعمال کرنے والوں سے مستقبل بہتر فیصلہ کرے گا لیکن میں بھی آئین و قانون کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایکشن لوں گا۔ سپیکر نے تمام ارکان کو مستقبل میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی تنبہیہ کی اور واضح کیا کہ تمام اراکین ایک دوسرے کے احترام سے جڑے ہوئے ہیں اور خاص طور پر ذاتیات پر حملے کرتے وقت انہیں سوچنا چاہئے کہ سب کے بال بچے ہیں اور عزت و تکریم بھی یکساں ہیں ۔ اجلاس کے دوران پیپلز پاٹی کی ساجدہ میر نے تیزاب سے جھلسنے والی ملتان کی رخسانہ کا معاملہ مبہم انداز سے اٹھایا جسے دستاویزی فلم ’سیونگ فیس ‘ میں عکسبندی کے بعد اس فلم کی پروڈوسر شرمین عبید چنائے نے مبینہ طور پر ابھی ادائیگی نہیں کی ۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ کل اس معاملے پر بات ہوگئی تھی اور اس ضمن میں شیخ علاﺅالدین کی تحریکِ التوا بھی نمٹائی جاچکی ہے تو ساجدہ میر نے کہا کہ رخسانہ کے شوہر نے اس کا چہرہ جلا دیا ، اب اگرچہ میاں بیوی کا راضی ہونا ایک مثبت بات ہے اور اس کا شوہر فلم کی رائلٹی لینے کا خواشمند ہے تو یہ معاملہ اسمبلی میں زیرِ غور لایا جانا چاہئے تاکہ اس ظالم شخص کو تیزاب پھینکنے کی سزا دی جا سکے اور پیسے ادا نہ کرنے والی شرمین عبید چنائے سے بھی بات ی جائے ۔ وزیر قانون نے کہا کہ بعض اوقات کسی انسان کو کسی اچھے کام پر کوئی مقام مل جائے تو اسے نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بادی النظر میں یہ معاملہ بھی ایساہی دکھائی دیتا ہے تاہم اگر یہ معاملہ وومن ڈویلپمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے جس پر سپیکر نے ایک روز قبل نمٹائی جانے والی تحریکِ التوا کا غیر تحریری معاملہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ سرکاری ملازمین کی کارکردگی ،نظم و ضبط اور احتساب کے قانون میں ترمیم کا بل منظور ہونے کے بعد وزیر قانون نے تسلیم کہ یہ ترمیم پولیس کی سفارش پر کی گئی ہے جس کے تحت اب پولیس پر ’پیڈا ‘ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چار روز کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کسی معاملے پر قابلِ ذکر کوئی بحث نہ کی گئی ۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ چار روزہ اجلاس بے مقصد رہا ۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ رمضان میں اسمبلی کا اجلاس بلانے کا ارادہ نہیں لیکن اپوزیشن اراکین کا خیال ہے کہاپوزیشن شائد ریکوزیشن دیکر اجلاس بلائے گی ۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...