پنجاب اسمبلی ‘پولیس کو پیڈ ا ایکٹ سے مستثنٰی قرار دینے کا بل کثرت رائے منظور

پنجاب اسمبلی ‘پولیس کو پیڈ ا ایکٹ سے مستثنٰی قرار دینے کا بل کثرت رائے منظور

لاہور( سٹاف رپورٹر+وقائع نگار ) پنجاب اسمبلی میںپولیس کو پیڈا ایکٹ سے مستثنیٰ قراردینے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ پنجاب میٹرو بس اتھارٹی سمیت تین مسودہ قانون ایوان میں پیش کردئیے گئے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کردیا گیا‘ اجلاس میں شوکت بسرا کی طرف سے میٹ کمپنی میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک التوائے کارکو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ وزیر قانون نے کہا ہے کہ شوکت بسراصرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے وزیر اعلیٰ کے خاندان پر الزام لگایا گیا ،سپیکر پنجاب اسمبلی غلط بیانی پر نوٹس لیں ۔ پنجاب اسمبلی میں پیش کئے گئے تین بلوں میں پنجاب میٹرو بس اتھارٹی بل2012ء‘زکوٰة و عشر ترمیمی بل2012ءاورترمیمی بل موشن پکچرز پنجاب 2012ءشامل ہیں جنہیں بعد ازاں متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کردیا گیا ۔ حکومت کی طرف سے پنجاب میٹرو بس اتھارٹی بل اور زکوٰة و عشر ترمیمی بل ایجنڈے میں شامل نہیںتھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس لئے میٹرو بس اتھارٹی کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا تاکہ اپوزیشن کی طرف سے شور شرابہ نہ کیا جائے۔ پنجاب اسمبلی میں ایک بل کے ذریعے پولیس کو پیڈایکٹ سے مستثنیٰ قراردے دیا گیا ہے ۔اب پولیس کے کسی بھی اہلکار کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہو سکے گی۔دریں اثناءپنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا کی طرف سے میٹ کمپنی میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک التوائے کارکو نمٹا دیا گیا ۔صوبائی وزیر قانون نے اس تحریک کا جواب دینے سے قبل شوکت بسرا کی تحریک کو ایوان میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ شوکت بسرا نے جو الزامات ایک اخبار کی بنیاد پر میاں شہباز شریف کے خاندان پر لگائے تھے ان کا ذکر ان کی تحریک میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ایوان میں بغیر تحقیق کے بات نہیں کرنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ کے خاندان کے کسی فرد نے میٹ کمپنی کاٹھیکہ لیا نہ ہی ان کی وجہ سے ڈاکٹر حامد جلیل نے استعفیٰ دیا ۔میٹ کمپنی ایشیا ءکا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کو بھی گوحلال گوشت مہیا کرے گا۔ انہوں نے کہا شوکت بسرا نے اپنی تحریک میں ایک دن پہلے والے کسی الزام کا ذکر نہیں کیا جس کا جواب دیا جائے صرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے انہوں نے یہ حرکت کی اور سپیکر کو اسکانوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا میٹ کمپلیکس سیل نہیں ہے بلکہ ایران کے تعاون سے بننے والا یہ کمپلیکس آج بھی فنکشنل ہے اور بیرون ممالک سے آرڈر بھی آ رہے ہیں ۔ڈاکٹر حامد جلیل نے استعفیٰ نہیں دیابلکہ انہیں بد عنوانیوں کی وجہ سے نکالا گیا ہے اور ان کے معاملہ کی انکوائری بھی چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادم پنجاب کے خاندان کاکسی قسم کے کنٹریکٹ میں کو ئی عمل دخل ہے نہ ہی ان کا حصہ ہے ‘ اب چیئر کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ شوکت بسرا کی اس غلط بیانی پر ان کے خلاف کیا ایکشن لینا ہے ۔ اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے کہا کہ ایوان میں جو بھی ممبر بات کرے پہلے اس کی تحقیقات کرلے اور غلط بات کرنے کے لئے ہاو¿س کا فلور استعمال نہ کیا جائے‘ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے ۔اس غلط بیانی کے حوالے سے میں جو ایکشن لے سکتا ہوں لوںگا ۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...