مفاہمت کے نام پر بیک ڈور سیاست کے ذریعے انتخابات ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی سازش کی جارہی ہے:منور حسن

مفاہمت کے نام پر بیک ڈور سیاست کے ذریعے انتخابات ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی ...

لاہور (این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہا ہے کہ چوروں کا ٹولہ ایک بار پھر اقتدار پر قابض ہونے کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے ۔ مفاہمت کے نام پر بیک ڈور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے انتخابات کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کی سازش ہورہی ہے ۔ اپوزیشن کی کسی پارٹی کو ٹریپ نہیں ہونا چاہیے اور الیکشن ملتوی کرنے میں صدر زرداری کے کسی کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیے اس طرح پیپلز پارٹی کو مزید ایک موقع حکومت کرنے کا مل جائےگا‘ فخرو بھائی جنہیں فخرو بابا قرار دے کر چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لائیں اور کسی صورت استعفیٰ نہ دیں عوام ان کے ساتھ ہیں ‘ملکی مسائل کا واحد حل فوری انتخابات میں ہے ‘تمام سیاسی جماعتیں متفقہ عبوری حکومت کے قیام ، آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کی نگرانی میں شفاف ووٹر لسٹوں پر انتخابات کے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہو جائیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے الخدمت ٹیچنگ ہسپتال منصورہ میں ڈائیلسز یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ہسپتال کی گورننگ باڈی کے صدر ڈاکٹر محمد کمال ،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد افضل اور ایڈمن ڈاکٹر طارق شفیق نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی چوہدری محمد اسلم سلیمی اور ڈپٹی چیئرمین یونیورسٹی آف لاہور ڈاکٹر اویس رﺅف بھی موجود تھے۔ سید منورحسن نے کہاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ملک میں اگر کوئی عوام کی خدمت کررہاہے تو وہ پرائیویٹ سیکٹر ہے ۔ حکمران اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر لاتعلق اور بے نیاز ہو چکے ہیں۔ چوری و ڈکیتی سے بچنے اور اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے لوگ پرائیویٹ گارڈز رکھنے پر مجبور ہیں ۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں پرائیوٹ ہسپتال اور تعلیمی ادارے مہیا کر رہے ہیں اور اگر روزگار کی تھوڑی بہت سہولتیں موجود ہیں تو وہ بھی پرائیویٹ شعبے کی بدولت ہیں جن کی یہ تمام ذمہ داری تھی وہ اس سے قطعی طور پر بے نیاز ہو کر اپنی ذاتی کرپشن اور لوٹ مار کے تحفظ کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں۔ قدرتی آفات زلزلہ و سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بھی سب سے پہلے اسلامی تحریکیں ہی پہنچتی ہیں ۔ حکومت اور اس کے کارندے بیرونی دنیا سے آنے والی امداد پر بھی ہاتھ صاف کرلیتے ہیں۔ اب تو قومی تحفظ کےلئے بھی پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آناپڑ ا ہے ۔ حکومت ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے بجائے امریکی مفادات کی تکمیل کےلئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاد میں بھی حکومت کے بجائے پرائیوٹ سیکٹر آگے ہے ، حکومت عملاً جہاد کو ختم کر چکی ہے اور فوج کو بھی اس سے کوئی غرض نہیں ۔ انہوںنے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ 57 اسلامی ممالک کی فوجیں اپنے عوام کو تحفظ دینے اور فلسطین و کشمیر ی مسلمانوں کو اسلام دشمنوں کے ظلم و بربریت سے بچانے کے بجائے ان کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں ۔ سید منورحسن نے کہاکہ ملک میں غربت اور مہنگائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے ۔ لاکھوں لوگ روزانہ دس بارہ گھنٹے محنت و مشقت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو دووقت کا کھانا نہیں کھلا سکتے ۔ انہوںنے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ انسانی فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حاجت مندوں ، بیماروں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت کے لیے فلاحی تنظیموں کی سرپرستی کریں ۔بعدازاں سید منورحسن نے ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح کیا ۔ اس سنٹر میں 38 ملین روپے کی لاگت سے تین ڈائیلسز مشینیں نصب کی گئی ہیں جبکہ مزید تین مشینین کچھ عرصہ بعد نصب کی جائیں گی ۔ اس طرح بیک وقت پانچ مریضوں کے لیے ڈائیلسز کی سہولت موجودہوگی ۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...