برمامیں مسلمانوں کاقتل عام ، بچے بھی محفوظ نہیں رہے

برمامیں مسلمانوں کاقتل عام ، بچے بھی محفوظ نہیں رہے

برما(اے این این )برما میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ جس کے خلاف پاکستان سمیت عالم اسلام میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مگر امن کے عالمی ٹھیکداروں نے مسلمانوں کی نسل کشی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ انسانیت سسک رہی ہے۔امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ سمیت امن کے چیمپئن ہیں خاموش۔ انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ ان کے ماتھوں پر شکن تک نہیں ۔میانمار جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے۔ برما اس کی ایک ریاست ہے۔ برما میں انیس سو اٹھاسی سے فوجی حکومت ہے۔ اور اب مسلمانوں کی باقاعدہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں پر فوج نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ ڈرل مشین سے مسلمان بچوں کو کھلے عام قتل کیا جارھا ہے۔ فوجی گروہ گاں گاں بستی بستی داخل ہوتے ہیں۔ تمام بچوں اور مردوں کو جانوروں کی طرح ہانک کر کھلے میدان میں جمع کیا جاتا ہے۔ اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد گاں کو لوٹا جاتا ہے۔ پھر پورے گاں یا بستی کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ یہ برما میں دوچار واقعات نہیں بلکہ گلی گلی میں ظلم و بربریت کی کہانی ہے۔ برما کی فوجی بربریت کے خلاف مسلمان ملکوں میں احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے اس معاملے پر احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ لیکن دنیا کے طاقتور ملکوں نےکر رکھی ہیں اپنی آنکھیں بند۔

مزید : عالمی منظر