آئی سی سی آئی میں کرپشن سروے رپور ٹ کی افتتاحی تقریب

آئی سی سی آئی میں کرپشن سروے رپور ٹ کی افتتاحی تقریب

اسلام آباد (پ ر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ینگ انٹرپرینورز فورم نے سینٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائز (سائپ) کے تعاون سے کرپشن کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر یاسر سخی بٹ نے کہا کہ پاکستان بہت سے مسائل سے دوچار ہے لیکن کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس نے ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلاکرکے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے معاشی ترقی کا عمل روکا ہوا ہے ۔ انہوںنے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نیشنل کرپشن پرسپشن سروے برائے سال 2011 کے مطابق پاکستان کرپشن کے حوالے سے دنیا کے 183 ممالک میں 134 نمبر پرہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دنیا میں کرپشن کے حوالے سے 50 واں بڑا ملک ہے ۔انہوںنے کہا کہ اس سروے کے انعقاد کا مقصد ایس ایم ایز اور انفرادی طور پر کاروباری افراد کو کرپشن کے خاتمہ کے بارے میں شعور دینا ہے انہوںنے حکومت پر زو ر دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر کو مشاورتی عمل کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ میں شامل کرے جس سے ملک میں تجارت کے لئے بہترین سازگار ماحول میسر آ سکے گا۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کرپشن اور اسکے خطرناک اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی بڑے ادارے جو کہ حکومتی آمدنی کا اچھا خاصا ذریعہ سمجھے جاتے تھے وہ ادارے کرپشن کی وجہ سے نقصان میں جا رہے ہیں جس سے حکومتی خزانے کو بڑے پیمانے پر مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوںنے حکومت سے کہا کہ وہ میرٹ کی بنیادوں کو یقینی بناتے ہوئے، شفاف نظام اور گڈگورننس کو اپناتے ہوئے کرپشن جیسے مسائل کو حل کرے تاکہ ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا جا سکے۔ینگ انٹرپرینورز فورم کے چیئرمین شعبان خالد نے اس موقع خطاب میں کرپشن کے بارے میں سروے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن نوجوان انٹر پرینورز کو کاربار کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کاربار کی طرف آنا چائیے جس سے نہ صرف انکی اپنی زندگیاں خوشحال ہونگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی کی رفتار مذید تیز ہو گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائز (سائپ) کے کنٹری ڈائریکٹر معین فدا نے کہا کہ کرپش کے خلاف جنگ کا بہترین طریقہ کرپشن کو روکنا ہے اور یہ صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اداروں کی کارکردگی کو بہتر، احتساب اور شفاف نظام اپنائیںگے جس سے نہ صرف ملک میں مائیکرو بلکہ میکرو کی سطح کے کاروباروں کو ترقی ملے گی انہوںنے کہا کہ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے موجودہ ملکی صورت حال کو بہتر کر سکتی ہے۔فرینڈریچ نومان سٹفنگ فر ڈائفر ہائیٹ کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر اولاف کلرہاف نے کرپشن کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلاًبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے سے کرپش کے خاتمے کے اقدامات سے بھی شرکاءکو آگاہ کیا انہوںنے کہا کہ قانون کا صحیح طرح سے نفاذ، شفاف پالیسیاں اپنانے سے اور پرائیوٹائزیشن کو فروغ دیکر کرپشن جیسے مسائل کو حل کیا جاسکتے ہیں۔ پراجیکٹ کے کنسلٹنٹ علی سلمان نے کرپشن کے اسباب، اثرات اور کرپشن سے چھٹکارہ کے حوالے سے پراجیکٹ کے خدو خال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سازگار ماحول فراہم کر کے ملکی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس