تل کی فصل کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی تدابیرکی ہدایت

تل کی فصل کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی تدابیرکی ہدایت

اسلام آباد/راولپنڈی(اے پی پی) محکمہ زرعی اطلاعات پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کسانوں کو تل کی فصل کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ جمعرات کو جاری ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ تِل کی فصل دنیا کے تقریباً 70 ممالک میں کامیابی سے کاشت کی جا رہی ہے۔ اس کی خصوصیات بہت حد تک زیتون کے تیل سے ملتی ہیں لہٰذا اس کو 5 سے 10 فیصد تک دوسرے خوردنی تیلوں میں ملا کر کھانے سے تیل کی کوالٹی بہتر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلوں کا استعمال بیکری مصنوعات میں بھی ہو رہا ہے انہی خصوصیات کی وجہ سے تلوں کی ملکی اور بین الاقوامی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تل کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کےلئے فصل کو مختلف بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں کیونکہ فصل پر مختلف قسم کی بیماریاں حملہ آور ہو کر فصل کو نقصان پہنچاتی ہیں جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتوں کے دھبے کی بیماری دھبوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ شروع میں یہ دھبے ہلکے گلابی رنگ کے جبکہ بعد میں ان کا رنگ سیاہی مائل گہرا ہونے لگتا ہے اور دھبوں کی جگہ سے پتے سوکھ کر ٹوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح پتے دھبوں کے درمیان سے خالی ہو جاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جڑ اور تنے کی سڑن ایک پھپھوندی )میکروفومینافزیولائینا( سے پھیلتی ہے۔ اس پھپھوندی کے بیج زمین میں رہ کر پرورش پاتے ہیں اور پودوں کی افزائش کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ اکھیڑا یا مرجھاﺅ کی بیماری )فیوزیریم آکسی سپورم( پھپھوندی سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ سے ابتدائی طور پر پودوں کی جڑیں گلنا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ بعد میں پودے مرجھانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کی وجہ سے بھی اس بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

مزید : کامرس