مارک اپ کی شرح میں کمی کرکے صنعتوں کوبچایاجائے: لاہورچیمبر

مارک اپ کی شرح میں کمی کرکے صنعتوں کوبچایاجائے: لاہورچیمبر

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ مارک اپ کی شرح کم از کم دو فیصد کمی کرکے صنعتی شعبے اور قومی معیشت کو تباھی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ، جب صنعتی شعبہ تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے اور صرف صوبہ پنجاب میں توانائی کے بحران کی وجہ سے ایک سال کے دوران دو تا تین فیصد جی ڈی پی کم ہوا ہے جو 250ارب روپے کے نقصان کے مساوی ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان مارک اپ کی شرح میں کمی کرکے صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر اُس ملک میں مارک اپ ریٹ کم کیے جاتے ہیں جہاں معیشت کو بحران کا سامنا ہو ۔بھارت، چین، یورپ اور امریکہ نے اپنی صنعت اور معیشت کے وسیع تر مفاد میں مارک اپ ریٹ کم کیے ہیں جبکہ پاکستان میں صورتحال اِس کے برعکس ہے اور یہاں مارک اپ کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں افراط زر کی شرح ساڑھے چار فیصد ہے لیکن معاشی مشکلات کے باوجود حکومت نے مارک اپ ریٹ 0.5فیصد تک محدود رکھا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں مارک اپ ریٹ 0.25فیصد جبکہ یورو زون میں 1.5فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں بھی مارک اپ ریٹ فوری طور پر کم کردئیے جائیں۔ عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مارک کی شرح کم از کم دو فیصد کم کرنی چاہیے کیونکہ نصف فیصد یا ایک فیصد کمی سے معیشت اور صنعتی شعبے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی آسمان سے باتیں کرتے افراط زر کو کم کیا جاسکے گا۔۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران گھمبیر ہوتا جارہا ہے جبکہ زیادہ مارک اپ ریٹ کی زیادہ شرح مسائل میں اضافے کا باعث ہے لہذا اقتصادی مینیجرز کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مارک اپ ریٹ کے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سخت موقف کی وجہ سے تمام شعبہ ہائے زندگی کو بھاری نقصان ہورہا ہے کیونکہ مارک اپ کی بلند شرح کی وجہ سے ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے کاروباری برادری کو زیادہ پیداواری لاگت جیسے بڑے مسئلے کا سامنا ہے جس کی ایک بڑی وجہ مارک اپ کی بلند شرح ہے۔ اسی لیے صنعت سازی اور صنعتی وسعت کا عمل انجماد کا شکار ہے جبکہ سرمایہ اور صنعتیں دیگر ممالک منتقل ہورہی ہیں جہاں کاروباری ماحول بہترین ہے۔ عرفان قیصر شیخ نے پالیسی سازوں پر واضح کیا کہ ملک کو مکمل معاشی تباھی سے بچانے کے لیے نجی شعبہ ہی واحد امید ہے لہذا کاروباری لاگت میں کمی لانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان حقائق کو مدنظر رکھے اور مارک اپ ریٹ میں فوری طور پر کم از کم دو فیصد کمی کا اعلان کرے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...