غریب ہونابھی قتل کے جر م کے برابرٹھہر گیاہے :سپریم کورٹ

غریب ہونابھی قتل کے جر م کے برابرٹھہر گیاہے :سپریم کورٹ
غریب ہونابھی قتل کے جر م کے برابرٹھہر گیاہے :سپریم کورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک)عظمیٰ ایوب کیس کی سماعت کے دوران جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستان میں غریب ہونا تین سو دو سے بڑا جرم بن گیا ہے۔ غریب ہو کر بولنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ عظمیٰ ایوب قتل کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عظمی ایوب کے وکیل انیس جیلانی نے دلائل میں کہا کہ عظمی ایوب کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس کی موجودگی میں ان کے بھائی کو قتل کردیا گیاجبکہ ملزمان کا ابھی تک ٹرائل شروع نہیں ہوسکا لیکن پشاور ہائی کورٹ نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیاہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان میں غریب ہو نا تین سو دو سے بھی بڑا جرم بن گیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عظمی ایوب اور اس کے ورثاءکو ایف آئی آر کے اندران کے لیے در بدر کی ٹھو کریں کھانا پڑیں۔ ملزمان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ عظمی ایوب کا زیادتی کا الزام میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوسکا۔ عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

مزید : اسلام آباد