مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں

مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں
مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں

  

بدنام زمانہ گٹھ جوڑ ،جسے تین اے (As)اور او(O) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،اس نے صدر مرسی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیاہے۔ہم پاکستانی چونکہ ماضی میں متعدد بار ایسے گٹھ جوڑسے مار کھا چکے ہیں، لہٰذا مصر میں جمہوریت کش کارروائی پر ہمیں احساس زیاںزیادہ ہے۔تین اے اور او کے گٹھ جوڑ سے مراد امریکہ، آرمی، عدلیہ اور موقع پرست(Opportunists) عناصر ہیںجو ہمیشہ ایسی سازشوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس سازش کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے چند اہم ممالک بھی مصر میں جمہوریت پر شب خون مارنے میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ہم اہل پاکستان گزشتہ پانچ سال سے بدترین کرپشن،‘ ناکام ترین حکمرانی اور اقتصادی بحران کا شکار رہے ہیں ،لیکن اس کے باوجود ہم نے صبراور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں پُرامن طریقے سے انتقال اقتدارکا مرحلہ طے پا گیا ہے اور اب جمہوری نظام کے استحکام کا عمل جاری ہے،لیکن مصر میں جس عجلت کے ساتھ منتخب حکومت کو گرایا گیا ہے ،وہ حیرت کا باعث ہے۔

مصر میں رونما ہونے والے پریشان کن حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان کا غور سے جائزہ لیا جائے تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ اس سازش کے پس پردہ کون کون سے محرکات ہیں، جنہیں امریکی صدر باراک اوباما نے ”انقلاب“ کا نام دیا ہے ۔ سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل اور شرق اردن نے جنرل فتح کو اس جرات مندانہ کارروائی پر خوش آمدید کہا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر صدر محمد مرسی سے کون سی خطا سرزد ہوئی، جس کے سبب داخلی اور خارجی قوتیں ان کی منتخب حکومت کوختم کرکے، فوجی مداخلت کا سبب بنی ہےں؟ انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدارآنے کے بعد صدر محمد مرسی نے جو اقدامات اٹھائے، وہ ان کی حقیقت پسندانہ اور مصالحانہ ذہنیت کے عکاس ہیںاوران کے نتیجے میں ملک میں اخوان المسلمون کے انقلابی ایجنڈے کے مطابق جمہوری روایات جڑ پکڑ رہی تھیں، مثلاً:

٭....پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت رکھنے کے باوجود صدرمحمد مرسی نے وائس پریذیڈنٹ، وزیراعظم اور وزراءکا انتخاب ایسی جماعتوں سے کیا، جن کا اخوان المسلمون سے کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ فیصلہ جمہوری و سیاسی افہام و تفہیم کی بہترین مثال ہے۔

٭....بہترین سفارتی حکمت عملی کے ذریعے وہ اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہے ، فلسطین میں قیام امن کو یقینی بنایا اور 2006ءسے بند غزہ کا فتح گیٹ دوبارہ کھول دیا گیا۔

٭....کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی رو سے مصر،اسرائیل کو نہایت کم قیمت پر سنائی(Sinai) گیس فراہم کر رہا تھا۔صدر مرسی نے گیس کی قیمتوں میں موجودہ نرخوں کے مطابق اضافہ کیا اور اس معاہدے کی وہ شقیں بھی منسوخ کر دیں جو مصر کے مفادکے خلاف تھیں۔

٭....انہوں نے لیبیا اور سوڈان کے شہریوں کے لئے آمد و رفت پرعائد پابندیاں اٹھا لیں۔اس حوالے سے معاہدہ تیار تھا، جس میں تینوں ممالک کے مابین سفر کے لئے ویزے کی شرائط ختم کرنا درج تھا۔

٭....انہوں نے ایران اور ترکی کے ساتھ روابط قائم کئے تاکہ ان کے مابین اقتصادی تعاون کو ممکن بنایا جا سکے۔ان کا اہم مقصد مصر، ترکی اور ایران کے مابین علاقائی اقتصادی تعاون کا قیام تھا۔قطر نے اس منصوبے کے لئے سات بلین ڈالر کی امداد مہیا کی تھی۔

٭....صدر محمد مرسی نے چین کے ساتھ کئی بلین ڈالر مالیت کے حامل متعدد ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے طویل المدتی معاہدے کئے ۔

٭.... ملک میں شرعی قوانین کا نفاذصدر محمد مرسی کی دلی خواہش تھی تاکہ وہ” خطے کے امریکی اتحادی ممالک کی طرح، جہاں شرعی نظام نافذ ہے، ان کی صف میں اپنا مقام بنا سکےں“۔

٭....انہوں نے اخوان المسلمون کے مولوی صفت فوجی آفیسر، جنرل فتح کو آرمی چیف مقرر کیا، جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاءالحق کوآرمی چیف بنایا تھا۔صدر محمد مرسی نے بھٹو جیسی غلطی کی، جس کا نتیجہ وہ بھگت رہے ہےں۔

صدر مرسی نے آرمی چیف کے تقرر میں بے شک غلطی کی ،لیکن ان کا ہرقدم مصر کے بہترین مفاد میں تھا۔اس کے باوجود وہ اپنے چند قریبی ہمسایہ ممالک اور امریکہ کے عتاب کا نشانہ بنے،اس لئے کہ :

٭....حالات کوجلد از جلد کنٹرول کرنا امریکہ کے لئے لازم ہو گیا ،کیونکہ اگرمصر‘ ترکی اور ایران پر مشتمل REC کا مجوزہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارلیتا تو امریکہ اوراسرائیل کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ،جبکہ امریکہ کے ایران کے خلاف تادیبی کارروائی کے عزائم بھی پورے ہونے نا ممکن تھے، کیونکہ امریکہ، ایران کا خوف پیدا کر کے ایک سو ستر بلین ڈالر سے زائدمالیت کا جوعسکری سازوسامان اور ہتھیار علاقے کے سنی ممالک کوفروخت کرچکا ہے ،اس تجارت میںبھی رکاوٹ آجاتی۔یہی امریکی ہتھیار بحرین میں استعمال ہوئے اور اب شام میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

٭....مشرق وسطیٰ کے کچھ بڑے ممالک خطے میںثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔اس مجوزہ علاقائی اقتصادی تعاون کا قیام ان کے مفادات کے لئے خطرہ تھا، لہٰذاسب سے پہلے قطر کو سبق سکھانے کے لئے محلاتی سازش کے ذریعے وہاںکے امیر کو اپنے بیٹے کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیاگیااورخلیج تعاون کونسل کے اتحاد کو بچا لیاگیا۔

٭....ٹونی بلیئر نے بھی کہا ہے کہ ”ہم آپ کے ساتھ ہیں اورآپ کے اتحادی ہیں اور آپ کی رفاقت کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں“

٭....”امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے قائدین کو خریدنے کے لئے بینکوں کے منہ کھول دیتے ہیںاور جمہوری تعمیری پروگرام کے نام پر حزب اختلاف کے رہنماﺅں کو لاکھوں ڈالر کے عطیات دیئے جو نہ صرف مصری، بلکہ امریکی قانون کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے“....(جولین پیکٹ، روزنامہ ہل (Julian Pecquet, Daily Hill)

٭....امریکی صدر باراک اوباما نے مصر میں فوجی کارروائی کو ”سازش نہیں ،بلکہ انقلاب“ قرار دیا ہے ،جبکہ جنرل فتح نے فوجی مداخلت کو ” عوامی خواہشات کے احترام میں ملکی مستقبل کے لئے کامیاب سیاسی و نظریاتی جدوجہد“ کے نام سے موسوم کیا ہے....( اس کا موازنہ پاکستان کی مسلح افواج کے اٹھائے جانے والے عہد نامے سے بآسانی کیا جاسکتا ہے، جس میں درج ہے کہ: ”آئین پاکستان کو ہر حال میں مقدم رکھوں گا جو عوام کی خواہشوںکا ترجمان ہے“.... اس فرض کی ادائیگی کے لئے آرمی چیف کاغیر سیاسی ہونا ضروری ہے ،لیکن آرمی چیف اگر غیرسیاسی ہوگاتو وہ آئین کی پاسداری کس طرح کرے گا؟ یہی سبب ہے کہ آئین کی پاسداری میںجنرل فتح سیاسی بن گیا اور سیاسی بساط الٹ کے رکھ دی۔

 ٭.... مصر میں رونما ہونے والے حالات نے تمام عرب دنیا کے اسلام پسند عناصر کو مصر کی جانب راغب کیا ہے، کیونکہ اخوان المسلموں کا تعلق اسلام کے مکتب فکر،سلسلہءقادریہ سے ہے جو سوڈان، لیبیا، صومالیہ، تیونس، الجیریا، عراق، اردن، شام، یمن، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا تک پھیلا ہوا ہے۔

٭....آرمی نے اس امید پریہ جوا کھیلا تھاکہ وہ جلد ملک کی صورت حال پر قابو پا لے گی، لیکن تیس (30)سیاسی جماعتوں کی صدر محمد مرسی کے ساتھ یکجہتی اور مکمل تائید نے حالات کو گمبھیر بنا دیا ہے ،اس طرح مصر ایک تاریخی جال میں پھنس چکاہے۔اس کی مثال نوآبادیاتی دور کی پہیلی کی طرح ہے ،جس نے مصر سے پاکستان تک کے ممالک کے لئے سیاسی اسلام کے خواب کی امیدوں کوروشن کردیا ہے“.... پیٹر پروفام(Peter Profam, The Independent)

٭....صدر مرسی کے حامیوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ”ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم آزاد انقلابی ہیں اور ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے“....

ان کے مد مقابل اب فوج ہے جو ملک کی حکمران ہے۔یہ وہی فوج ہے جو حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد اقتدار میں آئی تھی اوراٹھارہ ماہ تک اپنے ہی شہریوں کو قتل کرتی رہی۔اقتدار کی کش مکش اب شروع ہو چکی ہے۔

 فوجی مداخلت نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے ،جس کے سبب مصر سے لے کر ترکی، پاکستان اور بنگلہ دیش تک اسلام پسند اور آزاد/سیکولر طبقات کے مابین سیاسی و نظریاتی تصادم کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔پاکستان میں عوام نے ایسے تصادم کو ووٹ کی طاقت سے ناکام بنایا اور اب وہی طاقتیں، یعنی عدلیہ، آرمی اورروشن خیال، سیکولر اور اسلام پسند،ملک میں سیاسی توازن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں جو ماضی میں حالات کی خرابی کا باعث بنتی رہی ہیں ۔مغربی میڈیا اس بات کوسچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ مصر میں ”سیاسی اسلام“ کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے ،حالانکہ اس نظام کو اپنی افادیت منوانے کے لئے مناسب وقت ہی نہیں دیا گیا۔ اگر مصر میں یہ تجربہ ناکام ہو گیا تو اس کا الزام مصر میں فوجی مداخلت کی ذمہ دار قوتوں ،یعنی امریکہ، یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا کھیل کھیلنے والی قوتوں کے سرہے، جنہوں نے ”عوامی خواہشات کے آئینہ دارآئین کو مقدم رکھنے“ کے بجائے فوج کو مداخلت پر اکسایا ہے۔

اخوان المسلمون کی محاذ آرائی کی ایک طویل داستان ہے جو1954 ءمیں صدر ناصر کے دور میں شروع ہوئی اور 1970 ءتک رہی ۔اس کے بعد تین دہائیوں تک صدر حسنی مبارک کے مظالم کا شکار رہنے کے بعد2012 ءکے انتخابات میں اسے کامیابی نصیب ہوئی۔اب انہیں جنرل فتح کا سامنا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ”جہاں جمال ناصر جیسی طلسماتی شخصیت کامیاب نہیں ہو سکی، وہاں جنرل فتح کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ مصری عوام عرصہ دراز سے سیاسی اسلام کا خواب دیکھ رہے ہیں، جسے ختم کرنا جنرل فتح کے بس کی بات نہیں“۔ وقت اخوان المسلمون کے ساتھ ہے اور افغانی طالبان کی طرح وہ بھی پُرسکون ہیں اور اپنے مقصدسے مخلص ہیں ،کیونکہ انہیں یقین ہے کہ غیر ملکی آقاﺅں کے مفادات کی نگران فوج کے خلاف ان کی پُرامن مزاحمت ضرور کامیاب ہوگی اور وہ دن رات اس ورد میں مصروف ہیں ....”حسبنا اللہ و نعم الوکیل“!  ٭

مزید :

کالم -