مدینہ ٹاﺅن پولیس کے چوکے چھّکے

مدینہ ٹاﺅن پولیس کے چوکے چھّکے
مدینہ ٹاﺅن پولیس کے چوکے چھّکے

  



نئی انقلابی جمہوری حکومت کے پہلے 75روز اہل وطن حوصلہ رکھیں، ابھی25روز باقی ہیں

سابقہ جمہوری حکومت کے تقریباً ہرکام"میں کیڑے"نکالنے والی ایک انقلابی پروگرام دینے والی نئی جمہوری حکومت کی عمر تقریباً75روز ہوچکی ہے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران جن خوبصورت 100روز کی نویداس نے سنائی تھی اس میں اب صرف25روز باقی ہیں۔اعداد و شمار کے ایک ماہر نے جب دوسرے ماہر سے سوال کیا کہ 75روز زیادہ ہوتے ہیں یا 25روز تو اس نے جواب دیا آخری 25روزکیونکہ ریس کے دوران ہردوڑنے والا آخری چکر میں جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگاتا ہے۔لیکن اس کو کیا کہیں کہ پہلے75روز کی سست روی میں کتنے اہلِ چمن ہیں جن کے پاﺅں کانٹوں سے زخمی ہوگئے۔کس کس نے کتنے کتنے دکھ سہے؟ابھی کل ہی کی تو بات ہے تھانہ مدینہ ٹاﺅن کی "انقلابی" پولیس رات کے تقریباًپونے ایک بجے مکان نمبر28-X-26 مدینہ ٹاﺅن پہنچی، گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، فرقان بٹ نامی نوجوان نے دروازہ کھولا، پولیس نے اس سے پوچھا ممتاز حسین کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا یہاں کوئی ممتاز حسین نہیں رہتا۔وہ اس بات پر اصرار کرنے لگے توفرقان نے کہاکہ اس پوری گلی میں ممتاز حسین کوئی بھی نہیں رہتا۔پولیس نے کہاکہ چلو آﺅ ہمارے ساتھ تھانہ میں چلو۔وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ تم بجلی چوری کرتے ہو۔اس نے انہیں دروازے پر کھڑے کھڑے ہی بتایا"میں تو تھوڑی دیر پہلے ہی ڈیوٹی کرکے آیا ہوں، ہمارے اس چار مرلہ کے گھر میں ایئرکنڈیشنر تو کیا ایئرکولر بھی نہیں ہے، ہمیں بجلی چوری کرنے کی نہ ضرورت ہے ، نہ ہم نے کی ہے اور نہ ہی کوئی ہمارا میٹر چیک کرنے آیا ہے مگر نئی جمہوری حکومت کی اس "انقلابی " پولیس نے اسے گھر کے اندر جانے کی اجازت ہی نہ دی وہ جس حالت میں ہی دروازہ کھولنے آیا تھا اسے اسی حالت میں بازو سے پکڑ کر پولیس وین میں بٹھالیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔تھانہ کی حوالات میں بند کردیا۔اہل خانہ تلاش کرتے کرتے تھانہ پہنچے ، تفتیشی انچارج کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمارے گھر تو کوئی میٹرچیکنگ کیلئے آیا ہی نہیں تو چوری کس نے پکڑ لی مگر وہ ایف آئی آر نمبر726 ہوا میں لہراتے ہوئے بولے، میرے پاس تو مکان نمبر28-X-26 کی ایف آئی آر موجود ہے اس سے بڑی شہادت اور کیا ہوسکتی ہے۔پھرپولیس بھی "انقلابی " اس کا انچارج انوسٹی گیشن بھی "انقلابی "پھر گالیاں بھی "انقلابی"، اس وقت تھانہ کے کمرہ میں خیابان کالونی کے ایک ضعیف العمر باریش ،نورانی چہرہ رکھنے والے بزرگ بٹھائے گئے تھے جن کی شکل و صورت دیکھ کر ہردردمند دل رکھنے والے انسان کا بے اختیار ان کی عزت کرنے کو دل کرتاتھاانہیں اس "انقلابی "تفتیشی انچارج نے اس انداز کے ساتھ ،اتنی بدتمیزی کے ساتھ ، اتنی بدتہذیبی کے ساتھ اور بہ آوازِ بلند گالیاں دیتے ہوئے اس طرح حوالات کے اندرجانے کاحکم دیا جیسے مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوجی کسی حریت پسند کشمیری کو حوالات میں بند کرتے وقت دیتا ہے۔جس بزرگ پر گیس چوری کا الزام لگا کر حوالات میں بند کیاگیا ان سے تو صحیح طریقے سے چلا بھی نہیں جاتاتھا۔ اس "انقلابی "تفتیشی انچارج کی داستانِ بدتمیزی یہیں ختم نہیں ہوئی، بے قصورفرقان بٹ کو ساری رات تھانے میں بند رکھا۔تھانہ مدینہ ٹاﺅن کے ایس ایچ او کو بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ فرقان بٹ کے معاملہ میں کہیں غلطی ہوئی ہے وہ بجلی چوری میں ملوث نہیں ہے مگر وہ بھی اس بات پر بضدتھے کہ ہمارے پاس ایف آئی آر نمبر726ہے جس میں وہ ملزم ہے۔اتنا کچھ سمجھانے بتانے کے باوجود تھانہ مدینہ ٹاﺅن میں کوئی ایک افسر یا ماتحت بھی ایسا نہیں تھا جس نے بنیادی انسانی حقوق کی کسی کتاب کاکوئی صفحہ پڑھایاسنا ہو۔وہ سب ایف آئی آر ہاتھوںمیں لے کر الٹ پلٹ کرلہراتے رہے، بے قصورحوالات میں بندرہا، اسی طرح صبح ہوگئی۔اہل خانہ نے ایس ڈی او مدینہ ٹاﺅن سے رابطہ کرکے معلومات حاصل کیں تو یہ بات سامنے آئی کہ ایس ڈی او نے اس معاملہ میں مقدمہ درج کرنے کیلئے جو استغاثہ تھانہ بھجوایااس پر مکان نمبر82-X-26لکھ کر بھیجاگیا تھا مگر وہاں کسی "صاحبِ نظر پولیس افسر" نے نامعلوم وجوہ کی بناءپر 82 کی بجائے ایف آئی آر میں28 لکھ دیا ، بس پھر بجلی چوری میں ملوث مکان نمبر82 تو رات حوالات میں گزارنے سے بچ گیا مگر28نمبروالا بے قصور فرقان بٹ حوالات میں پہنچ گیا۔جو تحقیق تفتیش رات کے وقت ہی مکمل کرکے کسی بے قصور فرقان بٹ کو حوالات میں رات گزارنے سے بچاسکتی تھی اس کا صبح تک انتظار کیاگیا اور پھر صبح9بجے فرقان بٹ بے قصور نکلا اور پولیس قصوروار ۔کیااس طرح تھانہ مدینہ ٹاﺅن کے ایس ایچ او اور انچارج انوسٹی گیشن اپنے سی پی او اور غالباً سی پی او اپنے سی ایم کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ "سر! ہم نے درج مقدمات کے تمام ملزم پکڑ لیئے ہیں" بعد ازاں جب ایس ایچ او کو ساری بات بتانا چاہی تو سننے سے قبل ہی وہ کہنے لگے "میں تھانے جاکردیکھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہوں نے تھانہ جاکر 82کو28بنانے اور28نمبرسے فرقان بٹ پکڑ کر تھانہ میں لانے والوں اوراس رات بھر"پولیس کے جلوے" دکھانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا سی پی او کو یہ واقعہ بتایاگیا یا نیچے نیچے ہی دبا کر پھرآئندہ کسی اور فرقان بٹ کو ایسے ہی پکڑنے کی گنجائش رکھ لی گئی۔تھانہ مدینہ ٹاﺅن پولیس کی "وضعداری، دیانتداری اور انصاف پسندی" کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ رات تھانہ کی حوالات میں ایک ایسا ملزم بھی موجود تھاجوگزشتہ کافی عرصہ سے سعودی عرب میں مقیم تھا۔اس نے گزشتہ سال ہی ایک مکان خرید کیاہواتھا۔4رمضان المبارک کو وہ سعودی عرب سے پاکستان پہنچا،رات اپنے نئے گھر میں سویا ہوا تھا کہ مدینہ ٹاﺅن پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا ،وہ باہرنکلا تو پولیس اس پر گیس چوری کا الزام کرکے اسے پکڑ کر تھانہ میں لے آئی، کھاتا پیتا شخص تھا، عیش و آرام کی زندگی گزار کرآیاتھا، منرل واٹرپینے اور ایئرکنڈیشنر کمرے میں سونے کاعادی تھا اسے جب ایک کھڑکی والی حوالات میں بند کیاگیا تو اسے بہت گھبراہٹ محسوس ہوئی۔اس کے گھر والے اس کیلئے منرل واٹر کی دوبوتلیں اور مدینہ منورہ سے آئی ہوئی کھجوریں لے کر آئے۔اس کی ظاہری متمول پوزیشن دیکھ کر پولیس ملازمین نے اسے "ایک اچھی اسامی" سمجھ لیا اسے تنگ کرکے "کچھ لینے دینے کے چکر" میں "حوالات کی مطلوبہ سہولتوں" پر پابندی لگادی۔جب گھر سے منرل واٹر کی بوتلیں آئیں تو وہاں موجود پولیس ملازمین کا "دل آخرپسیج ہی گیا" آدھی بوتل تو اس نے پی باقی ڈیڑھ بیچارے تھکے ہارے پولیس ملازمین نے پی لی۔اسی دوران انہیں وہاں کھجوریں پڑی نظرآگئیں تو کہنے لگے کہ یہ کھجوریں جلدی جلدی کھالو ورنہ ہم تو صبح پھر سحری اسی سے کریںگے تاکہ ثواب بھی مل جائے، چنانچہ جونہی ان پولیس ملازمین نے کھجوریں لے کر کھاناشروع کیں تو ان کھجوروں نے فوری طورپر کام دکھانا شروع کردیا پولیس "مہربان"ہوناشروع ہوگئی" تعلقات بہتر " ہوگئے تو سب سے پہلی "مہربانی"یہ ہوئی کہ اس کا موبائل فون حوالات میں اس کے سپرد کرکے اسے پاکستان اورسعودی عرب میں فون کال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔جوں جوں تعلقات بہترہوتے گئے، گیس چوری پیچھے رہ گئی اور ماحول دوستانہ ہوگیا۔اس طرح پہلی رات گزرگئی۔کیا سی پی او کے علم میں یہ بات آئی ہوگی؟ نہیں ، ہرگزنہیں۔ کیاجناب نوازشریف اور جناب شہبازشریف تک پولیس کی یہ کارکردگی رپورٹ پہنچی ہوگی؟ نہیں،ہرگزنہیں۔ اگر یہ پہنچی ہوتی تو تھانہ مدینہ ٹاﺅن میں کچھ حرکت نظرآتی جو نہ دیکھی نہ سنی۔کیا بے قصور فرقان بٹ کی جگہ ان پولیس والوں نے اُسی ایک کھڑکی والی حوالات میں اگلی رات گزاری جو "اس کارکردگی " میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک تھے؟نہیں ، ہرگزنہیں، یہ ہیںاس نئی جمہوری حکومت کے75روز۔اہل وطن حوصلہ رکھیں ابھی پہلے100روز پورے ہونے میں25روز باقی ہیں۔

مزید : کالم