اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ میں مختص رقوم

اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ میں مختص رقوم
اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ میں مختص رقوم

  



آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے تناظر میں اور ملک کی معاشرتی و اقتصادی ترقی میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں نے اپنے مالی سال 2014-15ءکے بجٹوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈ مختص کئے ہیں، اگرچہ ماہرین اور اعلیٰ تعلیم سے وابستہ حلقے اسے ملک میں اعلیٰ تعلیم کو مضبوط بنانے کے لئے مثبت پیشرفت تصور کرتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ فنڈاعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے سیکٹر اور اسے عالمی معیار کے مطابق لانے کے پیش نظر کم ہیں۔عالمی معیار کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ تعلیم کے لئے مختص مجموعی بجٹ کے ایک چوتھائی (25فیصد) سے کم کسی صورت نہیں ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں یہ مجموعی تعلیمی بجٹ کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔ پاکستان پہلے ہی اپنے ہاں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح میں اضافے کے لئے کوشاں ہے، جس کی اس وقت شرح 8فیصد ہے ،جبکہ اس کے مقابلے میں ہمسایہ ملک بھارت میں یہ 18فیصد، بنگلہ دیش میں 12فیصد،ملائیشیا میں 37فیصد ،ترکی میں 39فیصد اور جنوبی کوریا میں 95فیصد ہے۔

گزشتہ عشرے میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔گزشتہ صرف دوبرسوں میں سرکاری شعبے میں ایک درجن سے زیادہ یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تعداد بھی 185سے بڑھ کر 250سے زیادہ ہو چکی ہے، جن میں سے 92سرکاری شعبے میں ہیں، یعنی وفاق کے زیر انتظام 24، پنجاب 23،سندھ 16، خیبرپختونخوا 19، بلوچستان 6اورآزادکشمیر میں 6ادارے ہیں....جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے مطابق اب اعلیٰ تعلیم کا فروغ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے۔اس لئے کہ دوسری وفاقی فہرست میں درج بہت سے کام مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔مشترکہ مفادات کی کونسل نے مئی 2011ءمیں اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی یونیورسٹیوں کی مالی ضروریات پوری کرنا اور پاپولیشن ویلفیئراگلے این ایف سی ایوارڈ تک وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی ،اس دوران صوبوں کو بھی یونیورسٹیوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے فنڈز کی فراہمی کے ضمن میں اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے، تاکہ یونیورسٹیاں مطلوبہ معیار تک پہنچ سکیں۔

2014-15ءکے بجٹوں میں صوبائی حکومتوں نے یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے کافی فنڈز مختص کئے ہیں۔اس سلسلے میں خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے بالترتیب 13،بلین،14،بلین،5بلین اور 7.492 بلین روپے مختص کئے ہیں، مختص شدہ فنڈز نئی سکیموں، بشمول نئے کالجوں کے قیام، نئی سہولتوں کی فراہمی، کالجوں کا درجہ بڑھانے، نئی یونیورسٹیوں کے قیام اور نوجوانوں کے لئے ایسی ہی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ ہوں گے۔وفاقی حکومت کے برعکس اعلیٰ تعلیم کے لئے صوبائی حکومتوں کے مختص فنڈز کالج کی تعلیم پر بھی خرچ ہوتے ہیں۔ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ فنڈز کو موثر طور پر استعمال کرنے، فنڈز کے ختم ہونے سے بچنے، بجٹ میں نئے اقدامات کے لئے جو اہداف مقرر کئے جاتے ہیں، ان کے حصول، نئے یونیورسٹی کیمپس کے قیام، گورننس کی بہتری، احتساب ،مانیٹرنگ کے میکانزم اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے آغاز کے لئے ایک خود مختار اور موثر ڈھانچے کی تشکیل کی ضرورت ہے۔جو متعلقہ ماہرین پر مشتمل ہواور جو حکومتی مشینری کے ساتھ کام کر سکے۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے یونیورسٹیوں کے طلباءکی مالی معاونت کے لئے انڈومنٹس فنڈ قائم کرنے کی خاطر رقوم فراہم کی ہیں، صوبائی حکومتوں نے یونیورسٹیوں کے جاری اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی خصوصی گرانٹس کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہر سطح پر، یعنی پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک بجٹ میں زیادہ رقوم مختص کی ہیں۔ماہرین تعلیم اسے مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں۔بجٹ میں اضافے کی وجہ سے ہر سطح کی تعلیم بشمول اعلیٰ تعلیم کے لئے زیادہ رقوم میسر ہوں گی،لیکن بدقسمتی سے بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص رقوم میں سے 82فیصد موجودہ اخراجات (زیادہ تر تنخواہیں) پورے کرنے کے لئے ہیں،جبکہ باقی ماندہ 18فیصد ترقیاتی مقاصد کے لئے ہیں، جن میں نئی عمارات کی تعمیر یا موجودہ سہولتوں میں اضافہ شامل ہیں۔2012-13ءمیں 70.3بلین کے مختص ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 31.3بلین روپے خرچ ہو سکے تھے۔

یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی فیڈریشن (ایف اے پی یو اے ایس اے) نے جو یونیورسٹیوں کے تدریسی سٹاف کی نمائندہ تنظیم ہے ،اپنے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرحکیم اللہ بیراچ کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی روشنی میں وفاقی حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کے مطابق صوبوں کے لئے فنڈز مختص کرنے چاہئیں، انہوں نے وفاقی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص رقم کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ یہ رقوم اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکیں گی۔انہوں نے صوبائی حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنے اگلے بجٹوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے زیادہ فنڈ رکھیں،تاکہ اعلیٰ تعلیم ملک بھر میں زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے، کیونکہ یونیورسٹیاں پہلے ہی صوبائی حکومتوں کے انتظامی کنٹرول کے اندر ہیں، اس لئے یونیورسٹیوں کو اپنی مالی ذمہ داریاں بھی محسوس کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی معیار کے مطابق تعلیم کے بجٹ کا 25فیصد اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص رکھا جائے۔تمام سٹیک ہولڈروں میں یہ وسیع تر اتفاق پایا جاتا ہے کہ دور دراز علاقوں کی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنایا جائے۔اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی خودمختاری کو چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ یقینی بنایا جائے، تاکہ یہ ادارے ایجاد و اختراع، تخلیق اور ریسرچ کے لئے بنیادی کام کر سکیں....(مضمون نگار دس سال سے زیادہ عرصے سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں) ٭

مزید : کالم