مکھیاں اندھیرے میں راستہ کیسے تلاش کرتی ہیں؟انتہائی حیرت انگیز معلومات‎

مکھیاں اندھیرے میں راستہ کیسے تلاش کرتی ہیں؟انتہائی حیرت انگیز معلومات‎
 مکھیاں اندھیرے میں راستہ کیسے تلاش کرتی ہیں؟انتہائی حیرت انگیز معلومات‎

  

نیویارک(نیوزڈیسک)آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ مکھیاں اندھیرے میں بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہیں۔ایسا کیسے ممکن ہو پاتا ہے کہ اندھیرے کے باوجود مکھیاں بغیر دیکھے کیسے سفر کرپاتی ہیں۔اس سوال کا جواب ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے دےد یا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھیوں کے دماغ میں قدرت نے ایک ایسا نظام نصب کیا ہے جس کی مدد سے وہ انسانوں کی طرح یہ کام سرانجام دیتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:آج تک آپ لہسن غلط طریقے سے چھیلتے آئے ہیں،درست طریقہ جانئے،وقت اور توانائی بچائیں

انسانوں کی مثال دیتے ہوئے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جیسے انسان اندھیرے کمرے میں اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کا اندازہ لگاتا ہے اور یوں مطلوبہ جگہ پر پہنچ جاتا ہے،بالکل اسی طرح مکھیاں بھی اپنی منزل پر پہنچ پاتی ہیں۔انسانی دماغ میں کئی چھوٹے چھوٹے نیورانز ہوتے ہیں جو ہمارے دماغ کو اردگرد کی اشیاءکے بارے میں بتاکر ہمارے رخ کو درست رکھتے ہیں۔دماغ کے ان خلیوں میں اس بات کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے کہ ہم کس جانب جارہے ہیں اور کوئی شے ہم سے کتنی دور ہے،اس طریقے سے ہم درست اندازہ کرپاتے ہیں کہ ہمیں کس جانب سفر کرنا ہے اور کس طریقے سے ہم ٹھیک طرح کام سر انجام دے سکتے ہیں۔اسی طرح مکھیوں کے دماغ میں قدرت نے ایسی صلاحیت رکھی ہے جو اندھیرے میں درست سمت میں سفر کرسکے۔سائنسدانوں نے اس بات کوثابت کرنے کے لئے مختلف تجربات کئے جس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مکھیوں کے دماغ میں موجود نیورانز اور خلیوں کی مدد سے وہ اندھیرے میں بھی اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت