نوجوان لڑکی کو ڈاکٹرز حاملہ سمجھتے رہے لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو زندگی کا سب سے بڑا دھچکا لگ گیا

نوجوان لڑکی کو ڈاکٹرز حاملہ سمجھتے رہے لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو زندگی کا سب ...
نوجوان لڑکی کو ڈاکٹرز حاملہ سمجھتے رہے لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو زندگی کا سب سے بڑا دھچکا لگ گیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ نوجوان خاتون ’لوئزے بریانٹ‘ کو ایک سال قبل اپنے پیٹ میں شدید درد محسوس ہونا شروع ہوا اور کبھی کبھی پیشاب کی نالی سے خون بھی بہنے لگا۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو پہلی تشخیص یہی کی گئی کہ وہ حاملہ ہے تاہم ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت نہ آیا۔ اگلے 3 ماہ کے دوران ڈاکٹروں نے 7 مرتبہ اس کا پریگنینسی ٹیسٹ کیا لیکن ہر مرتبہ نتیجہ منفی ہی آیا۔ طویل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹروں نے اسے آگاہ کیا کہ ایک سکین کے نتیجے میں انہیں شک ہے کہ اس کے پیٹ میں ٹیومر موجود ہے۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس ٹیومر کا سائز ایک چھوٹے فٹبال جتنا ہے اور یہ اس کے بیضہ دانی کے اوپر موجود ہے۔ سرجری کے بعد یہ ٹیومر اس کے جسم سے نکالا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ کینسر تھا لیکن خوش قسمتی سے باقی جسم میں پھیلا نہ تھا۔ مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ اسے ابتداء میں ہی اندازہ تھا کہ وہ حاملہ نہیں ہے لیکن یہ احساس ضرور ہوتا تھا کہ پیٹ میں کوئی غیر معمولی چیز موجود ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اب سوچتی ہوں تو خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ مطمئن ہونے کی بجائے بار بار ڈاکٹروں کے پاس جاتی رہی یہاں تک کہ درست تشخیص ہوگئی۔ اس کے مطابق کبھی کبھی درد اتنا شدید ہوتا تھا کہ کھڑا بھی نہ ہوا جاتا تھا۔ پھر کمر میں درد شروع ہوگئی اور پھر بھوک لگنا ختم ہوگئی۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ اب وہ مکمل طور پر صحت مند ہوچکی ہے اور خاوند کے ساتھ خاندان کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کہانی دنیا کو اس لئے بتانا چاہتی ہے تاکہ لوگ صحت کے مسائل کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ ان پر پوری توجہ دیں۔ محفوظ زندگی گزارنے کا یہی طریقہ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس